بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ارادہ بیع سے بیع نہیں ہوگی جب تک مکمل ایجاب وقبول نہ ہو


سوال

ہماری ایک مشترک زمین ہے ،جو ہمارے آٹھ چچا زاد بھائیوں کی ملکیت  تھی ،میرا ایک چچا زاد بھائی جوکہ کراچی میں رہتا تھا، اوراس نے اپنے علاج کے لئے گاؤں کے ایک بندے سے پیسے ادھار لئے ، اور اس ادھا ر لینے کا ہمارے چچازاد بھائیوں میں سے کسی کو علم نہیں تھا ،پھر اس آدمی نے میرے میرے چچا زاد بھائی سے کہا :کہ تم اس ادھار کے بدلے میں،  مجھے اپنی زمین فروخت کردو! اس نے جوابا کہا :کہ میں اپنے چچا زاد بھائیوں سے مشورہ کروں گا اگر وہ راضی ہو ئے، تو ٹھیک  ہے ،نہیں تو میں آپ کے پیسے واپس کروں گا ۔
اس کے بعد ہم نے استعمال کے اعتبار سے ہر ایک زمین کا حصہ متعین کیا، تو اس آدمی نے ہمارے چچا زاد بھائی کی زمین پر پودے لگانا چاہے ،جب ہم نے اس بندے کو منع کیا، تو اس نے کہا میں  یہ جگہ آپ کے چچا زاد بھائی سے خرید چکا ہوں،   پھر ہم نے چچا زاد بھائی سے کہا :ہم کو ضرورت ہے اس حصہ کی ،تو اس نے کہاآپ مجھے پیسے دو !میں ا س کو پیسے واپس کرتا ہوں  ،میرا اس سے کوئی تحریر ی معاہدہ فروخت کا نہیں ہوا ہے۔ 
تو چچا زاد بھائیوں نے  پیسے جمع کرکے اس کودینا چاہے، تو اس نے انکار کیا ،اور کہا میں نے حصہ خرید لیا ،تو پھر چچا زاد بھائی نے کہا میں نے آپ سے یہی کہا تھا ،کہ میں مشورہ کروں گا ،جب ان کو علم ہواتو منع کردیا ہے ،لہذا اب اپنے پیسے واپس لو، لیکن اس نے انکا ر  کیا ہے ۔
پھر چچا زاد بھائی نے  کہا کہ ایک مہینہ بعد جرگہ میں  بیٹھیں گے، اور جرگہ فیصلہ کرے گا، اس پر اس آدمی نے راضا مندی ظاہر کی ہے، لیکن ایک ماہ بعد ہمارےاس چچازاد بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اب ہم اس کی طرف سے جرگہ میں بیٹھیں گے ۔
اب سوال یہ ہے: کہ  یہ معاملہ مکمل ہو گیا ہے یا نہیں ؟اس آدمی کو زمین لینے کا حق ہوگا یا نہیں ؟
وضاحت :زمین کی فروختگی کا معاملہ مکمل نہیں ہوا تھا،اس لئے اس شخص نے ادھا ر کے علاوہ باقی جو زمین کی رقم بنتی تھی، وہ ایک تیسرے شخص کو دی تھی ، اس پر چچا زادبھائی نے کہا میں بھائیوں سے مشور ہ کروں گا  اگر وہ فروخت کرنے پر راضی ہوتے ہیں، تو دوں گا ورنہ نہیں ،اور وہ رقم اب تک اسی شخص کے پا س موجود ہے، اور اس نے نہیں لی ہے ۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃابھی تک  چچا زاد بھائی نے صرف اپنے ارادے کا اظہا ر کیا تھا ، کہ میں بیچوں گا، لیکن باقاعدہ طورپر زمین بیچی  نہیں تھی ، یعنی ایجاب وقبول نہیں ہوا تھا ،جیساکہ سوال سے معلوم ہوتا ہے ، تو ایسی صورت میں بیع مکمل نہیں ہوئی ، یہ زمین اس چچا زاد ہی  کی ملکیت تھی ،  دوسرے شخص کا زمین کا مطالبہ کرنا درست نہیں  ، بس اس کو یہ حق ہے کہ اپنی قرض دی ہوئی رقم کا مطالبہ کرے، اور  تیسرے شخص کو جو رقم دی ہے وہ بھی وصول کرے ، چونکہ زمین کی فروختگی کا معاملہ مکمل نہیں ہوا تھا، لہذا  زمین کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ۔

بدائع الصنائع میں ہے  :

"وأما الذي يرجع إلى نفس العقد فهو أن يكون القبول موافقا للإيجاب، بأن يقبل المشتري ما أوجبه البائع وبما أوجبه، فإن خالفه بأن قبل غير ما أوجبه أو بعض ما أوجبه أو بغير ما أوجبه أو ببعض ما أوجبه؛ لا ينعقد من غير إيجاب مبتدإ موافق بيان هذه الجملة إذا أوجب البيع في العبد فقبل في الجارية، لا ينعقد، وكذا إذا أوجب في العبدين فقبل في أحدهما بأن قال: بعت منك هذين العبدين بألف درهم فقال المشتري: قبلت في هذا العبد وأشار إلى واحد معين لا ينعقد؛"

 (كتاب البيوع،فصل في الشرط الذي يرجع إلى نفس العقد،ج:5،ص: 136،ط:دار الكتب العلمية)

الهداية في شرح بداية المبتدي میں ہے :

"قال: "البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي" مثل أن يقول أحدهما بعت والآخر اشتريت؛ لأن البيع إنشاء تصرف، والإنشاء يعرف بالشرع والموضوع للإخبار قد استعمل فيه فينعقد به. ولا ينعقد بلفظين أحدهما لفظ المستقبل والآخر لفظ الماضي، بخلاف النكاح، وقد مر الفرق هناك. وقوله رضيت بكذا أو أعطيتك بكذا أو خذه بكذا في معنى قوله بعت واشتريت؛ لأنه يؤدي معناه، والمعنى هو المعتبر في هذه العقود، ولهذا ينعقد بالتعاطي في النفيس والخسيس هو الصحيح لتحقق المراضاة."

 (كتاب البيوع،كيفية انعقاد البيع، ج:3،ص: 23،ط:دار احياء التراث العربي بيروت)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144705101576

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں