
ایک جامع مسجد ہے۔ اس کے ایک کونے میں، حدودِ مسجد کے اندر ہی، ایک کمرہ اس غرض سے بنایا گیا ہے کہ بڑے اجتماعات کی صورت میں بعض حضرات اپنی انتظامی ذمہ داریوں کے باعث وہاں نماز ادا کرسکیں۔ یہ کمرہ مسجد ہی کا حصہ ہے، اور اس میں صفیں مسجد کی دیگر صفوں سے متصل اور باقاعدہ اُن کے ساتھ جُڑی ہوئی ہیں۔ اس کمرے میں نماز کے لیے مستقل صفیں بھی بنائی گئی ہیں۔
نماز کی آواز اس کمرے میں مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے پہنچتی ہے، اور اگر بالفرض بجلی چلی جائے تو UPS کے ذریعے لاؤڈ اسپیکر چلتا رہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے خاص مواقع پر منتظمین کا اس کمرے میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
مسجد اللہ جلّ شانہٗ کا گھر ہے، اس پر کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، بلکہ تمام مسلمان اس میں برابر کے حق دار ہیں۔ شریعت کی رو سے کسی شخص کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے کوئی جگہ مخصوص کرے۔ لہٰذا زیرِ بحث صورت میں حدودِ مسجد کے اندر ایک کمرہ تعمیر کرکے بعض افراد کا مخصوص مواقع پر اسے اپنی نماز کی ادائیگی کے لیے مختص کرنا شرعاً ناجائز ہے۔
اگر اس کمرے میں نماز ادا کی جائے اور وہاں سے مسجد کی جماعت میں شامل ہونے کی صورت میں امام کی آواز بغیر اسپیکر کے سنائی دیتی ہو، اور امام کے ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہونے کا حال معلوم ہوسکتا ہو، تو ایسی حالت میں اس کمرے سے جماعت میں شریک ہوکر باجماعت نماز پڑھنےسےنمازاداہوجائے گی اور اگر اس کمرےسے مسجد کی جماعت میں شامل ہونے کی صورت میں امام کی آواز بغیر اسپیکر کے سنائی نہ دیتی ہو، اور نہ ہی امام کے ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہونے کا حال معلوم ہوسکتا ہو، تو ایسی حالت میں اس کمرے سے جماعت میں شریک ہوکر باجماعت نماز ادا کرنا درست نہیں ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"قال في القنية: له في المسجد موضع معين يواظب عليه وقد شغله غيره. قال الأوزاعي: له أن يزعجه، وليس له ذلك عندنا اهـ أي لأن المسجد ليس ملكا لأحد بحر عن النهاية
قلت: وينبغي تقييده بما إذا لم يقم عنه على نية العود بلا مهلة، كما لو قام للوضوء مثلا ولا سيما إذا وضع فيه ثوبه لتحقق سبق يده تأمل. مطلب فيمن سبقت يده إلى مباح وفي شرح السير الكبير للسرخسي: وكذا كل ما يكون المسلمون فيه سواء كالنزول في الرباطات، والجلوس في المساجد للصلاة، والنزول بمنى أو عرفات للحج، حتى لو ضرب فسطاطه في مكان كان ينزل فيه غيره فهو أحق، وليس للآخر أن يحوله، فإن أخذ موضعا فوق ما يحتاجه فللغير أخذ الزائد منه."
(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج : 1، ص : 613، ط : سعید)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"إذا كان بينهما حائط لا يصح الاقتداء إن كان كبيرا يمنع المقتدي الوصول إلى الإمام لو قصد الوصول إليه اشتبه عليه حال الإمام أو لم يشتبه كذا في الذخيرة ويصح إن كان صغيرا لا يمنع أو كبيرا وله ثقب لا يمنع الوصول وكذا إذا كان الثقب صغيرا يمنع الوصول إليه لكن لا يشتبه عليه حال الإمام سماعا أو رؤية هو الصحيح."
(کتاب الصلاۃ، الباب الخامس فی الإمامة، الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم ، ج : 1، ص : 88، ط : رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100446
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن