بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

انتہائے سحر کے دو منٹ بعد تک کھانے پینے سے روزہ نہیں ہوتا


سوال

اسلام آباد میں آج بروز بدھ سحری کا آخری وقت 5:09 بجے مقرر تھا، مگر میں نے 5:11 بجے تک کھانا پینا بند کیا، کیا ایسی صورت میں میرا روزہ درست ہے؟ 

جواب

 صورتِ مسؤلہ میں سائل کا  روزہ درست نہیں ہوا،اس کی قضا کرنا ضروری ہے، البتہ کفارہ لازم نہیں۔

لمختار للفتوٰی میں ہے :

"ووقت الصوم من طلوع الفجر الثاني إلى غروب الشمس، وهو الإمساك عن الأكل والشرب والجماع مع النية."

(کتاب الصوم، ج :1، ص :209، ط :بشرٰی)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے :

"أما تفسيره فهو عبارة عن ترك الأكل والشرب والجماع من الصبح إلى غروب الشمس بنية التقرب إلى الله كذا في الكافي."

و فیہ ایضا :

"هذا إذا لم يظهر له شيء، ولو ظهر أنه أكل، والفجر طالع يجب عليه القضاء، ولا كفارة عليه هكذا في التبيين."

(کتاب الصوم، الباب الاول فی تعریفہ، ج :1، ص :214، ط :قدیمی)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے :

"(أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلا و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب)."

و تحتہ فی الحاشیۃ :

"(قوله: ليلا) ليس بقيد؛ لأنه لو ظن الطلوع وأكل مع ذلك ثم تبين صحة ظنه، فعليه القضاء ولا كفارة؛ لأنه بنى الأمر على الأصل فلم تكمل الجناية فلو قال ظنه ليلا أو نهارا لكان أولى وليس له أن يأكل؛ لأن غلبة الظن كاليقين بحر."

 (کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم و ما لا یفسدہ، ج :2، ص :405، ط :سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101418

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں