بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1447ھ 07 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

انتظامی سہولت کے لیے ترکہ کسی ایک وارث کے نام منتقل کرنے کا حکم


سوال

عرض یہ ہے کہ میرے چھ بچے ہیں اور میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ انہوں نے ترکے میں ایک مکان چھوڑا ہے جس کی موجودہ مالیت تقریباً 40 لاکھ روپے ہے،  میرے مرحوم شوہر کی ایک پہلی  اہلیہ اور ان سے دو بچے بھی ہیں۔ اب تمام ورثاء (میری اور میرے شوہر کی پہلی اہلیہ اور ان کے بچوں) کی باہمی رضامندی سے میں نے اس مکان کے کاغذات اپنے نام پر منتقل (ٹرانسفر) کروانے کے لیے نادرا (NADRA) میں درخواست دائر کی ہے، کیونکہ پہلے یہ کاغذات میرے شوہر کے نام پر تھے۔اور  ہمارا ارادہ یہ ہے کہ اس مکان کو فروخت کر کے گوادر سے  کراچی منتقل ہو جائیں اور کراچی میں گھر خرید کر وہاں رہائش اختیار کریں ۔

نادرا حکام نے کاغذات کی منتقلی کے لیے ہم سے ایک شرعی فتویٰ طلب کیا ہے، جس میں تمام ورثاء کی رضامندی کا ذکر ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا تمام ورثاء کی دلی رضامندی سے یہ کاغذات میرے نام پر منتقل کروانا شرعاً درست ہے؟ برائے مہربانی اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائلہ کے شوہر نے ترکہ میں جو مکان چھوڑا ہے وہ شرعاً تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت ہے ،اگر تمام ورثاء اپنی دلی رضامندی سے یہ مکان بیچ کر  گوادر سے کراچی منتقل ہونا چاہیں اور    قانونی کاروائی پوری کرنے کے لیے اس  مکان کے کاغذات سائلہ کے نام کروانا چاہیں  تو شرعاً  ایسا کرنا جائز ہے ،البتہ  ملحوظ رہے کہ اس صورت میں  مذکورہ مکان سے دیگر ورثاء کا شرعی حق ختم نہیں ہوگا ،  قانونی طور پر تو مکان سائلہ کے نام پر منتقل ہوجائے گا ،لیکن شرعاً تمام ورثاء  کا حق اس میں باقی رہے گا ۔چنانچہ اس مکان کو فروخت کرکے جو رقم حاصل ہوگی یا جو دوسرا مکان خریدا جائے گا اس میں مذکورہ تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے بقدر شریک ہوں گے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود . وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما......(وأما) الذي يثبت بغير فعلهما فالميراث بأن ورثا شيئا فيكون الموروث مشتركا بينهما شركة ملك."

(كتاب الشركة ، أنواع الشركة، ج:6، ص:57، ط: دار الكتب العلمية)

مجمع الانہر میں ہے:

"هي (الشركة) ضربان :( شركة ملك وشركة عقد، فالأولى أن يملك اثنان إرثا أو شراء أو اتهابا أو استيلاء أو اختلط مالهما بحيث لا يتميز أو خلطاه، وكل منهما أجنبي في نصيب الآخر) حتى لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذن الآخر كغير الشريك لعدم تضمنها الوكالة."

(كتاب الشركة،ج:1، ص:714/715، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100975

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں