
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، وہاں ہمارے ساتھ ایک ساتھی عبد اللہ بھی کام کرتا ہے، اس کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے، انہوں نے اس کا نام "انشرح"رکھا ہے۔ ان کو مسئلہ یہ ہے کہ اس بچی کو "اِنشرح" پکارا جائے گا یا"أنشرح"؟ اور اگر یہ نام مناسب نہیں ہے تو کوئی اور متبادل نام کیا رکھنا چاہیے؟
مذکورہ نام کا تلفظ "انشرح" کے بجائے "انشراح" شین کے زیر اور راء کے بعد الف کے ساتھ درست ہے، اس کا معنی ہے کشادہ ہونا، اور بغیر "الف" کے "انشرح" درست تلفظ نہیں ہے، باقی ملحوظ رہے کہ ناموں کے سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ بچوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام ، صحابہ کرام اور صلحاء کےنام پر اور بچیوں کے نام صحابیات اور نیک خواتین کے نام پر رکھے جائیں۔
ہماری ویب سائٹ(www.banuri.edu.pk) پراچھے ناموں کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے موجود ہے، وہاں سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے :
"عن أبي وهب الجشمي رضی اللہ عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تسموا أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن وأصدقها حارث وهمام أقبحها حرب ومرة» . رواه أبو داود"
"حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء کے ناموں پر نام رکھو۔ اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ ناموں میں سے ’’عبداللہ‘‘ اور ’’عبدالرحمٰن‘‘ ہے، اور مصداق کے اعتبار سے سب سے سچے نام ’’حارث‘‘ اور ’’ہمام‘‘ ہیں۔ اور سب سے برے نام "حرب" اور "مرہ" ہیں۔ "
(باب الاسامی، رقم الحديث: 4782، الفصل الثالث، ج: 2، ص: 409، ط: قدیمی)
تاج العروس میں ہے:
"وانفسح صدره: انشرح."
(فسح، ج: 7، ص: 16، ط: وزارۃ الإرشاد کویت)
القاموس الوحید میں ہے:
" انشرح : کھلنا، واضح ہونا، کشادہ ہونا۔"
(مادہ: ش/ر/ح، ص:853، ط:ادارہ إسلامیات)
حسن التنبہ لما ورد في التشبہ میں ہے:
"ينبغي التسمية بأسماء الصالحين تفاؤلاً، وتحسين التسمية بتغيير الاسم القبيح؛ فالاسم الحسن سنة معروفة روى الإمام أحمد، وابن أبي شيبة، ومسلم، والترمذي عن المغيرة ابن شعبة رضي الله تعالى عنه قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى نجران، فقالوا: إنكم تقرؤون: يا اخت هارون وبين موسى وعيسى ما شاء الله من السنين، فلم أدر ما أجيبهم به حتى رجعت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنهم كانوا يسمون بأنبيائهم، والصالحين قبلهم. وروى ابن عساكر عن علي رضي الله تعالى عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من قوم يكون فيهم رجل صالح فيموت فيخلف فيهم مولود فيسمونه باسمه إلا خلفهم الله تعالى بالحسنى. وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اطلبوا الخير عند حسان الوجوه، وتسموا بخياركم، وإذا أتاكم كريم قوم فأكرموه."
(القسم الأول، باب التشبه بالصالحين رضي الله عنهم، ج: 2 ، ص: 566 ، ط : دار النوادر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100665
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن