بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

انسانی نال /پلیسینٹا سے خلیات کشید کرکے ایکسوسوم نامی انجیکشن تیار کرنے اور لگانے کا حکم


سوال

مجھے بالوں کے لیے ایک علاج تجویز کیا گیا ہے جس میں ایکسوسوم (Exosome) انجیکشن استعمال ہوتے ہیں، یہ ایکسوسوم انسانی بافت (جیسے پیدائش کے بعد حاصل ہونے والی نال یا پلیسینٹا) سے حاصل کیے جاتے ہیں اور لیبارٹری میں تیار کیے جاتے ہیں۔ انہیں بالوں کی افزائش کے لیے سر کی جلد میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، اس میں نہ خون شامل ہوتا ہے اور نہ مکمل خلیات، صرف مخصوص ذرات استعمال ہوتے ہیں۔براہِ کرم وضاحت فرمائیں:

1. کیا اس طرح انسانی بافت سے حاصل کردہ مواد کا استعمال جائز ہے؟

2. اگر یہ پیدائش کے بعد حاصل شدہ بافت ہو اور عطیہ دہندہ کی رضامندی شامل ہو تو کیا حکم بدلتا ہے؟

3. کیا بالوں کی افزائش (کاسمیٹک مقصد) کے لیے اس کا استعمال جائز ہے؟

4. کیا اس سلسلے میں کوئی شرائط یا پابندیاں ہیں؟

جواب

آج کل طبّی دنیا میں یہ تجربات ہورہے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے وقت نال (Placenta) اور بچے کو ماں سے جوڑنے والی رسی (Umbilical Cord) کے خون سے بعض مخصوص خلیات حاصل کیے جاتے ہیں، جنہیں اصطلاح میں Stem Cells کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے خلیات ہیں جن کے ذریعے جسم کے بعض کمزور یا خراب اعضاء، مثلاً جگر، گردے وغیرہ کی اصلاح اور علاج کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح ان خلیات سے تیار کردہ Exosome Injection بھی بعض امراض کے علاج یا کاسمیٹک مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس مسئلہ کا شرعی حکم درج ذیل تمہید اور تفصیل کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے:

تمہید

1۔ انسانی اعضاء اور اجزاء کا حکم

شریعتِ اسلامیہ کی رو سے انسان قابلِ تکریم ہے، اور اس کے اعضاء و اجزاء اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ انسان اپنے جسم کا مالک نہیں، بلکہ صرف جائز حدود کے اندر ان سے نفع اٹھانے کا مجاز ہے۔ اسی بنا پر فقہاءِ کرام نے انسانی اعضاء کو کاٹ کر دوسرے انسان میں منتقل کرنے یا ان سے انتفاع کو اصل کے اعتبار سے ناجائز قرار دیا ہے؛ کیونکہ اس میں:

  • انسانی تکریم کے خلاف پہلو پایا جاتا ہے۔
  • انسانی جسم میں غیر ضروری تصرف اور کاٹ چھانٹ لازم آتی ہے۔
  • انسانی اعضاء کی خرید و فروخت اور ابتذال کا دروازہ کھلتا ہے۔
  • مستقبل میں سنگین مفاسد پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

2۔ خون کا استثناء

اگرچہ خون بھی انسانی جسم کا جزء ہے، تاہم ضرورت اور اضطرار کے مواقع پر فقہاء نے اس کے استعمال کی اجازت دی ہے؛ کیونکہ:

  • خون کے استعمال میں جسم کی کاٹ چھانٹ نہیں ہوتی۔
  • ضرورتِ علاج اس کی متقاضی ہوتی ہے۔
  • بعض اہلِ علم نے اس کو دودھ کے استعمال پر قیاس کیا ہے۔

مسئلہ کا حکم

بچے کی پیدائش کے وقت نال اور اس سے متعلق رسی خود بخود جسم سے خارج ہوجاتی ہے، اور ان سے حاصل کیے جانے والے خلیات خون ہی سے کشید کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر ان خلیات کو کسی مریض کے علاج، کمزور اعضاء کی اصلاح یا شدید طبی ضرورت کے تحت استعمال کیا جائے تو ضرورت کے درجے میں اس کی گنجائش ہوگی۔

لہٰذا اگر Exosome Injection یا اس نوعیت کے دیگر علاجی انجیکشن حقیقی علاج اور ضرورت کے لیے استعمال کیے جائیں تو شرعاً ان کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ درج ذیل امور کا لحاظ رکھا جائے:

  1. استعمال محض علاج اور ضرورت کی حد تک ہو۔
  2. انسانی اعضاء یا اجزاء کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔
  3. نال اور پلیسنٹا سے مطلوبہ خلیات حاصل کرنے کے بعد انہیں جلد دفن کردیا جائے۔
  4. انسانی اجزاء کی بے حرمتی یا تذلیل لازم نہ آئے۔
  5. اس عمل کو تجارتی کاروبار اور عمومی تجارت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

کاسمیٹک استعمال کا حکم

آج کل عموماً Exosome Injection خوبصورتی، جلد کی تازگی اور دیگر کاسمیٹک مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ استعمال ضرورتِ علاج میں داخل نہیں، اس لیے محض زیب و زینت اور کاسمیٹک مقاصد کے لیے ان انجیکشنز کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہوگا۔

اسی طرح اگر انسانی بافتوں یا خلیات سے یہ انجیکشن تیار کیے جائیں، اگرچہ عطیہ دینے والے کی رضامندی موجود ہو، تب بھی انسانی اجزاء کے استعمال اور ان کی تجارتی نوعیت کی وجہ سے اس کی اجازت نہیں ہوگی۔

خلاصہ

  • علاج اور شدید طبی ضرورت کی صورت میں نال کے خون سے حاصل شدہ خلیات کے استعمال کی گنجائش ہے۔
  • انسانی اعضاء و اجزاء کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔
  • نال اور پلیسنٹا کو بلا ضرورت محفوظ رکھنا درست نہیں، بلکہ ضرورت پوری ہونے کے بعد انہیں دفن کرنا لازم ہے۔
  • کاسمیٹک اور زیب و زینت کے لیے Exosome Injection کا استعمال شرعاً ناجائز ہے۔

شرح السیر الکبیر للسرخسی میں ہے :

"وفيه دليل جواز المدواة بعظم بال. وهذا لأن العظم لا يتنجس بالموت على أصلنا، لأنه لا حياة فيه إلا أن يكون عظم الإنسان أو عظم خنزير فإنه يكره التداوي به؛ لأن الخنزير نجس العين فعظمه نجس كلحمه لا يجوز الانتفاع به بحال ما. والآدمي محترم بعد موته على ما كان عليه في حياته. فكما يحرم التداوي بشيء من الآدمي الحي إكراما له فكذلك لا يجوز التداوي بعظم الميت. قال صلى الله عليه وسلم: «كسر عظم الميت ككسر عظم الحي»."

(باب دواء الجراحة، ص:128، ظ: الشركة الشرقية للإعلانات)

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"(ولا يجوز بيع شعور الإنسان ولا الانتفاع بها) لأن الآدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز

(قوله ولا يجوز بيع شعر الإنسان) مع قولنا بطهارته (والانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم غير مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا) وفي بيعه إهانة، وكذا في امتهانه بالانتفاع، وقد قال - صلى الله عليه وسلم - فيما ثبت عنه في الصحيحين «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة»."

(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد،ج:6، ص:425، ط:،دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو سقط سنه يكره أن يأخذ سن ميت فيشدها مكان الأولى بالإجماع وكذا يكره أن يعيد تلك السن الساقطة مكانها عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله ولكن يأخذ سن شاة ذكية فيشدها مكانها وقال أبو يوسف - رحمه الله - لا بأس بسنه ويكره سن غيره قال ولا يشبه سنه سن ميت استحسن ذلك وبينهما عندي فصل ولكن لم يحضرني (ووجه) الفصل له من وجهين أحدهما أن سن نفسه جزء منفصل للحال عنه لكنه يحتمل أن يصير متصلا في الثاني بأن يلتئم فيشتد بنفسه فيعود إلى حالته الأولى وإعادة جزء منفصل إلى مكانه ليلتئم جائز كما إذا قطع شيء من عضوه فأعاده إلى مكانه فأما سن غيره فلا يحتمل ذلك.

والثاني أن استعمال جزء منفصل عن غيره من بني آدم إهانة بذلك الغير والآدمي بجميع أجزائه مكرم ولا إهانة في استعمال جزء نفسه في الإعادة إلى مكانه (وجه) قولهما أن السن من الآدمي جزء منه فإذا انفصل استحق الدفن كله والإعادة صرف له عن جهة الاستحقاق فلا تجوز وهذا لا يوجب الفصل بين سنه وسن غيره. "

(كتاب الإستحسان، ج:5، ص:132،ط: دارالكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وأما ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون الواهب من أهل الهبة، وكونه من أهلها أن يكون حرا عاقلا بالغا مالكا للموهوب حتى لو كان عبدا أو مكاتبا أو مدبرا أو أم ولد أو من في رقبته شيء من الرق أو كان صغيرا أو مجنونا أو لا يكون مالكا للموهوب لا يصح، هكذا في النهاية. وأما ما يرجع إلى الموهوب فأنواع منها أن يكون موجودا وقت الهبة فلا يجوز هبة ما ليس بموجود وقت العقد بأن وهب ما تثمر نخيله العام وما تلد أغنامه السنة ونحو ذلك۔۔۔۔۔ومنها أن يكون مالا متقوما فلا تجوز هبة ما ليس بمال أصلا كالحر والميتة والدم وصيد الحرم والخنزير وغير ذلك ولا هبة ما ليس بمال مطلق كأم الولد والمدبر المطلق والمكاتب ولا هبة ما ليس بمال متقوم كالخمر، كذا في البدائع."

(کتاب الهبة،الباب الأول في تفسير الهبة، ج:4، ص:374، ط: دارالفکر)

وفيها أيضا:

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني."

(کتاب الودیعة، ج:4، ص:338، ط:دارالفکر)

موسوعۃ فقہیۃ کویتیۃ میں ہے :

"واتفق الفقهاء على عدم جواز الانتفاع بشعر الآدمي بيعا واستعمالا؛ لأن الآدمي مكرم لقوله سبحانه وتعالى: {ولقد كرمنا بني آدم} فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا مبتذلا."

(ج:26،ص:102، ط: دارالصفوۃ)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :

"و في الخانية: ينبغي أن يدفن قلامة ظفره و محلوق شعره و إن رماه فلا بأس و كره إلقاؤه في كنيف أو مغتسل لأن ذلك يورث داء وروي أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بدفن الشعر و الظفر و قال: لاتتغلب به سحرة بني آدم اهـ و لأنهما من أجزاء الآدمي فتحترم."

(کتاب الصلاۃ، باب الجمعة، ص:527، ط:دارالکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وفي البحر) عبارته: وعلى هذا أي الفرع المذكور لا يجوز الانتفاع به للتداوي. قال في الفتح: وأهل الطب يثبتون للبن البنت أي الذي نزل بسبب بنت مرضعة نفعا لوجع العين. واختلف المشايخ فيه، قيل لا يجوز، وقيل يجوز إذا علم أنه يزول به الرمد.

ولا يخفى أن حقيقة العلم متعذرة، فالمراد إذا غلب على الظن وإلا فهو معنى المنع اهـ. ولا يخفى أن التداوي بالمحرم لا يجوز في ظاهر المذهب، أصله بول ما يؤكل لحمه فإنه لا يشرب أصلا. اهـ. (قوله بالمحرم) أي المحرم استعماله طاهرا كان أو نجسا ح (قوله كما مر) أي قبيل فصل البئر حيث قال: فرع اختلف في التداوي بالمحرم. وظاهر المذهب المنع كما في إرضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما خص الخمر للعطشان وعليه الفتوى. اهـ."

(كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:211، ط: سعيد)

 مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ تحریر فرماتے ہیں:

"انسان کے اعضاء و اجزاء انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہیں، جن میں وہ مالکانہ تصرفات کرسکے، اسی لیے ایک انسان اپنی جان یا اپنے اعضاء و جوارح کو نہ بیچ سکتا ہےنہ کسی کو ہدیہ اور ہبہ کے طور پر دے سکتا ہے،اور نہ ان چیزوں کو اپنے اختیار سے ہلاک و ضائع کرسکتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے اصول میں تو خود کشی کرنا اور اپنی جان یا اعضاء رضاکارانہ طور پر یا بقیمت کسی کو دے دینا قطعی طور حرام ہی ہے جس پر قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ موجود ہیں، تقریباً دنیا کے ہر مذہب و ملت اور عام حکومتوں کے قوانین میں اس کی گنجائش نہیں، اس لیے کسی زندہ انسان کا کوئی عضو کاٹ کر دوسرے انسان میں لگادینا اس کی رضامندی سے بھی جائز نہیں ۔۔۔ شریعتِ اسلام نے صرف زندہ انسان کے کارآمد اعضاء ہی کا نہیں بلکہ قطع شدہ بے کار اعضاء و اجزاء کا استعمال بھی حرام قرار دیا ہے، اور مردہ انسان کے کسی عضو کی قطع و برید کو بھی ناجائز کہا ہے، اور اس معاملہ میں کسی کی اجازت اور رضامندی سے بھی اس کے اعضاء و اجزاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی، اور اس میں مسلم و کافر سب کا حکم یکساں ہے؛ کیوں کہ یہ انسانیت کا حق ہےجو سب میں برابر ہے۔تکریمِ انسانی کو شریعتِ اسلام نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ کسی وقت کسی حال کسی کو انسان کے اعضاء و اجزاء حاصل کرنے کی طمع دامن گیر نہ ہو، اور اس طرح یہ مخدومِ کائنات اور اس کے اعضاء عام استعمال کی چیزوں سے بالاتر ہیں جن کو کاٹ چھانٹ کر یا کوٹ پیس کر غذاؤں اور دواؤں اور دوسرے مفادات میں استعمال کیا جاتا ہے، اس پر ائمہ اربعہ اور پوری امت کے فقہاء متفق ہیں، اور نہ صرف شریعتِ اسلام بلکہ شرائعِ سابقہ اور تقریباً ہر مذہب و ملت میں یہی قانون ہے"۔   

(انسانی اعضاء کی پیوندکاری، ص: 36، مصدقہ مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100048

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں