
کنگھی کرتے وقت یا دوران وضو یا غسل داڑھی کے بال گر جائیں، تو ان کو اٹھانا، سنبھال کر رکھنا اور ان کی تعظیم کرنا ضروری ہے یا نہین؟ بعض حضرات سے سنا ہے کہ داڑھی سے بال نکلنے کے بعد اس کی تعظیم ختم ہوجاتی ہے، براہ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ داڑھی کے بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابل احترام و تعظیم ہیں، اس لیے ٹوٹ کر گرنے کی صورت میں ان کا حکم یہ ہے کہ اگر سہولت ہو، تو ان کو زمین میں دفن کردینا چاہیے اور اگر جمع کرنے میں سہولت نہ ہو، تو انہیں دفن کرنا ضروری نہیں ہے، حرج کی وجہ سے معاف ہے،لیکن غسل خانہ یا بیسن یا گندگی میں نہیں پھینکنا چاہیے، ایسا کرنا مکروہ ہے اور بتصریحِ فقہاء بیماری پیدا کرنے کا باعث ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الكراهية، ج:5، ص:358، ط:دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101987
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن