بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

انجیکشن اور انسولین لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا


سوال

کیا انجیکشن لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

کیا انسولین انجیکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں،  کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ   خلقی راستوں سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن  میں  جاتی ہے، جب کہ روزہ  فاسد  ہونے  کے لیے ضروری ہے  کہ بدن کے خلقی  راستوں سے کوئی چیز معدے یا دماغ تک پہنچے اور انجکشن میں ایسا نہیں  ہوتا؛  لہٰذا  روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے،  اس  سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ تاہم صرف اس لیے طاقت کا انجکشن لگوانا کہ روزہ محسوس نہ ہو، مکروہ ہے۔

اسی طرح روزے کی حالت میں  انسولین لگانا بھی درست ہے، اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو أقطر شيئًا من الدواء في عينه لايفطر صومه عندنا، وإن وجد طعمه في حلقه، وإذا بزق فرأى أثر الكحل، ولونه في بزاقه عامة المشايخ على أنه لايفسد صومه، كذا في الذخيرة، وهو الأصح هكذا في التبيين".

(کتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، ج:1، ص:203، ط:رشيديه)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في النهر؛ لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لايفطر".

(كتاب الصوم، باب مايفسد الصوم، ج:2، ص:395، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وما يدخل من مسام البدن من الدهن لا يفطر هكذا في شرح المجمع".

(كتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد ومالايفسد، ج:1، ص:203، ط:رشيديه)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144509100250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں