
میری شادی کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے، میرے ہاں کوئی اولاد نہیں ہے، اب میں نے اور میری بیوی نے بچہ یا بچی کو گود لینے کا ارادہ کیا ہے، اس سلسلے میں آپ سے راہ نمائی درکار ہے، تاکہ ہم جو بھی قدم اٹھائیں وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہو، ہمارا پاکستانی قانون کے مطابق بچے کا سرپرست بننے کا ارادہ ہے، اس لیے میرے بےفارم اور بچے کے شناختی کارڈ میں میرا نام بچے کے سرپرست کی حیثیت سے لکھا جائے گا۔مندرجہ ذیل سوالات سے متعلق راہ نمائی درکار ہے:
1- میری بیوی کا دودھ نہ ہونے کی وجہ سے بچہ یا بچی کو دودھ نہیں مل سکتا، لیکن یہ کام آج کل ڈاکٹر کے تجویز کردہ انجیکشن لگواکر کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد میری بیوی کسی بھی بچے کو دودھ پلاسکتی ہے، شرعاً کیا ایسا کرنا درست ہے؟
اگر انجیکشن لگواکر بھی کسی وجہ سے بیوی کو دودھ نہ اترے تو اس صورت میں کیا بچہ اور بچی کو گود لیا جاسکتا ہے؟
2- اگر کوئی بچہ گود لیں، اور اسے محرم بنانے کی غرض سے میری بیوی اسے دودھ پلائے، اور اس کی عمر دو سال سے کم ہو، تو کتنی مرتبہ دودھ پلانے سے رضاعت کا رشتہ قائم ہوجائے گا؟میری بیوی کیا اس کی رضاعی ماں بن جائے گی؟ اور زندگی میں کبھی اس کے ساتھ سفر کرنے یا کسی اور معاملے میں مشکل تو نہیں ہوگی؟
3- اگر ہم کوئی لڑکی گود لیں اور مجھ سے محرم بنانے کی غرض سے میری بیوی اسے دودھ پلائے، اور اس کی عمر بھی دو سال سے کم ہو، تو کیا میں اس بچی کا محرم بن جاؤں گا؟ اور میں اس کا رضاعی والد کہلاؤں گا؟ اور زندگی میں کبھی اس کے ساتھ سفر کرنے یا کسی اور معاملے میں کوئی پریشانی تو نہ ہوگی؟اس سلسلے میں بچی کو کتنا اور کتنی دفعہ دودھ پلانا ہوگا؟
واضح رہے کہ کسی بچہ یا بچی کوگود لینا شرعاجائز ہے، البتہ اس متعلق چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے :
الف۔جس کو گود لیا جارہا ہے اس کو تمام معاملات میں حقیقی والد ہی کی طرف منسوب کیا جائے،گود لینے والے کا بچہ کو اپنی طرف منسوب کرناشرعا درست نہیں، اسی طرح کاغذات میں بھی بچے کے حقیقی والد کا نام درج کرنا ضروری ہے، البتہ سائل سرپرست کی حیثیت سے اپنا نام لکھ سکتا ہے۔
ب۔نیز اسی طرح جس بچہ کو گود لیاجارہا ہو وہ اگر اس کا محرم نہ ہو تو اس بچہ یا بچی کے بالغ ہونے کا بعد پردہ کرنا ضروری ہوگا، محض لے پالک ہونے سے محرمیت (رشتہ داری) ثابت نہیں ہوتی۔
1۔اگر بیوی کو دودھ نہیں اترتا ہے، تو بچے کو دودھ پلانے کے لیے ڈاکٹر کے تجویز کردہ انجیکشن لگوانا درست ہے، البتہ چونکہ دودھ انجیکشن لگوانے سے اترا ہے، شوہر کی وجہ سے نہیں اترا، تو ایسی صورت میں بچہ کو دودھ پلانے سے بیوی بچے کی رضاعی ماں بن جائے گی، البتہ شوہر بچے کا رضاعی والد نہیں کہلائے گا، اور اگر بچی ہو تو وہ بالغ ہونے کے بعد شوہر کے حق میں نامحرم ہی رہے گی۔
2- اگر بچہ گود لیا،اور بیوی کو انجیکشن لگوانے سے دودھ اترا، تو ایسی صورت میں مدت رضاعت میں بچہ کو دودھ پلانے سے وہ اس کی رضاعی ماں بن جائے گی، البتہ شوہر اس صورت میں بچے کا رضاعی والد نہیں بنے گا۔
اگر انجیکشن لگوانے سے بھی بیوی کو دودھ نہ اترے، تو ایسی صورت میں بچہ کو محرم بنانے کے لیے بیوی کی بہن دودھ پلائے، بہن کے دودھ پلانے سے سائل کی بیوی لڑکے کی رضاعی خالہ ہوجائے گی، اور پھر سائل کی بیوی کے لیے بچے کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا، سفر کرنا، اور لڑکے کے سامنے چہرہ کھولنا درست ہوگا، اگر بیوی کی کوئی بہن نہ ہو، یا بہن ہو لیکن اس کو دودھ نہ آتا ہو، تو اس صورت میں بیوی کی بھابھی (بھائی کی بیوی) بچے کو دودھ پلائے، اس صورت میں بھی بیوی بچے کی محرم ہوجائےگی، اور رضاعی پھوپھی کہلائے گی۔
نیز بچہ یا بچی کو دودھ پلانے میں کوئی خاص مقدار یا عدد متعین نہیں، ایک مرتبہ معمولی دودھ پلانے سے بھی رضاعت کا رشتہ ثابت ہوجائے گا، البتہ مدتِ رضاعت (ڈھائی سال) کے اندر دودھ پلانے سے ہی رضاعت ثابت ہوگی۔
3- اور اگر لڑکی گود لی ہو، تو انجیکشن کے ذریعے دودھ اترنے سے بیوی دودھ پلائے، تو بیوی بچی کی رضاعی ماں ہوگی، لیکن شوہر بچی کا رضاعی والد نہیں ہوگا، اور بلوغت کے بعد بچی شوہر کے لیے نامحرم ہی رہےگی۔
لہذا بچی کو گود لینے کی صورت میں (اسی طرح اگر بیوی کو دودھ انجیکشن لگوانے سے بھی دودھ نہ آئے) تو بہتر یہ ہے کہ سائل کی بہن بچی کو دودھ پلائے، اس طرح سے سائل بچی کا رضاعی ماموں بن جائے گا، اور محرم ہوگا، اور اگر سائل کی بہن نہ ہو، یا اس کو دودھ نہ اترے، تو اس صورت میں سائل کی بھابھی (بھائی کی بیوی) بچی کو دودھ پلائے، تو سائل بچی کا محرم بن جائے گا، اور رضاعی چاچا کہلائے گا۔
مجمع الأنھر شرح ملتقی الأبحر میں ہے:
" (ويثبت حكمه) أي الرضاع، وهو حل النظر وحرمة المناكحة (بقليله) ، ولو قطرة (وكثيره) وهو مذهب جمهور العلماء لإطلاق النص والأحاديث. "
( کتاب الرضاع، ج:1، ص:375، ط:دار إحياء التراث العربي )
وفیہ أیضا:
" (فيحرم به) أي بالرضاع (ما يحرم من النسب) ؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب. "
( أیضاً، ص:376 )
وفیہ أیضا :
" (و) لا حل بين رضيع (وولد زوج لبنها) أي لبن المرضعة (منه) أي من الزوج بأن نزل بوطئه (فهو) أي ذلك الزوج (أب للرضيع وابنه) أي ابن زوج المرضعة (أخ) للرضيع وإن كان من امرأة أخرى، (وبنته أخت) للرضيع وإن كانت من امرأة أخرى وأبوه جد وأمه جدة، (وأخوه عم) له، (وأخته عمة) له. "
( أیضاً: ص:377/378 )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج. "
( کتاب الرضاع، ج:1، ص:342، ط:رشیدیة )
وفیہ ایضا:
" رجل تزوج امرأة ولم تلد منه قط ثم نزل لها لبن فأرضعت صبيا كان الرضاع من المرأة دون زوجها حتى لا يحرم على الصبي أولاد هذا الرجل من غير هذه المرأة. "
( أیضا، ص:343 )
فتح القدیر میں ہے :
" لأنه لو تزوج امرأة ولم تلد منه قط ونزل لها لبن وأرضعت ولدا لا يكون الزوج أبا للولد لأن نسبته إليه بسبب الولادة منه، وإذا انتفت انتفت النسبة فكان كلبن البكر، ولهذا لو ولدت للزوج فنزل لها لبن فأرضعت به ثم جف لبنها ثم در فأرضعته صبية فإن لابن زوج المرضعة التزوج بهذه الصبية، ولو كان صبيا كان له التزوج بأولاد هذا الرجل من غير المرضعة بحر عن الخانية. "
( كتاب الرضاع، ج:3، ص:221، ط: سعید )
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100986
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن