بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 صفر 1448ھ 29 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

انفلات ریح کے عذر والے کا نیند سے وضو ٹوٹنے کا حکم


سوال

اس شخص کی نیند سے وضو ٹوٹنے کا کیا حکم ہے؟ جس کو "انفلات ریح" یعنی بار بار ہوا خارج ہونے کا مرض ہو؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص شرعی معذور ہو، اس کے لیے ایک نماز کے وقت کے دوران وہ خاص عذر پیش آنے کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگتا جس عذر کی وجہ سے وہ شرعی معذورقرار پایا ہو، البتہ نواقض وضو کے دیگر اسباب میں سے کوئی سبب پائے جانے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا  ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں انفلات ریح  کی وجہ سے شرعی معذور قرار پانے والا شخص اگر  سوجائے تو بیدار ہونے کے بعد نماز و دیگر وہ عبادات جس میں وضوء شرط  ہے اسے ادا کرنے سے پہلے  دوبارہ  وضوء کرنا ضروری  ہوگا،  انفلات ریح کا عذر  اس صورت میں شرعا معتبر نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وشرط بقائه أن لا يمضي عليه وقت فرض إلا والحدث الذي ابتلي به يوجد فيه هكذا في التبيين."

(كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج: 1، ص: 40، ط: رشيدية)

فتاویٰ شامی  میں ہے: 

"توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته".  

(كتاب الطهارة، ج: 1، ص: 305، ط: ایچ، ایم ،سعید) 

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101565

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں