
روزے کی حالت میں انڈوسکوپی کروانا کیسا ہے؟انڈوسکوپی میں جو حلق میں کیمرہ داخل کیا جاتا ہےتو کیا بغیر دوا کے حلق میں کیمرہ داخل کرنا ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
اگر انڈوسکوپی کے لئے جس کیمرے کو حلق کے ذریعہ داخل کیا جاتا ہے، اگر اس پر کوئی دوا نہ لگی ہو اور کوئی چیز پیٹ میں باقی نہ رہ جاتی ہو، اور جو چیزیں داخل کی گئیں ہیں سب واپس نکل آئیں تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، لیکن اگر انڈو سکوپی میں پیٹ میں دوا بھی جاتی ہو اور پوری دوائی یا کچھ دوائی پیٹ میں باقی رہ جاتی ہو، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
باقی یہ سوال کہ بغیر دواکے حلق میں کیمرہ داخل کرنا ممکن ہے یا نہیں ؟ اس کا جواب متعلقہ ڈاکٹر سے معلوم کرلیں ۔
فتاوی شامی میں ہے:
" (أو أدخل عودا) ونحوه (في مقعدته وطرفه خارج) وإن غيبه فسد وكذا لو ابتلع خشبة أو خيطا ولو فيه لقمة مربوطة إلا أن ينفصل منها شيء. ومفاده أن استقرار الداخل في الجوف شرط للفساد بدائع.
(قوله: وكذا لو ابتلع خشبة) أي عودا من خشب إن غاب في حلقه أفطر وإلا فلا (قوله: مفاده) أي مفاد ما ذكر متنا وشرحا وهو أن ما دخل في الجوف إن غاب فيه فسد وهو المراد بالاستقرار وإن لم يغب بل بقي طرف منه في الخارج أو كان متصلا بشيء خارج لا يفسد لعدم استقراره."
(کتاب الصوم ،باب مایفسد الصوم والا یفسدہ،2 / 396،ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف والأذن والدبر بأن استعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه، أما إذا وصل إلى الجوف فلا شك فيه لوجود الأكل من حيث الصورة.… وكذا قالوا فيمن ابتلع لحما مربوطا على خيط ثم انتزعه من ساعته؟ إنه لا يفسد وإن تركه فسد."
( كتاب الصوم، 93/2، دارالكتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ومن ابتلع لحما مربوطا على خيط ثم انتزعه من ساعته لا يفسد، وإن تركه فسد كذا في البدائع."
( كتاب الصوم،الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، 204/1، رشيدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101869
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن