
میں اسکول میں پڑھتا ہوں، اسکول کے پیپر مجھے مل جاتے ہیں آفس سے، لیکن اس میں اپنا پیپر نہیں دیکھتا، لیکن کچھ بچوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس پیپر ہے، وہ مجھ سے پوچھتے ہیں تو ان کو بتانا جائز ہے ؟ جب کہ میں ان سے کوئی رشوت وغیرہ نہیں لیتا۔
واضح رہے کہ امتحانی پرچہ اسکول کی امانت ہوتا ہے، اور اسے امتحان سے پہلے کسی طالب علم کو بتانا امانت میں خیانت اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس میں نہ صرف ادارے کے اعتماد کی خلاف ورزی ہے، بلکہ دیگر طلبہ کے حقوق کی حق تلفی بھی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے کسی بھی طالب علم کو امتحانی پیپر بتانا جائز نہیں، خواہ وہ اس کے بدلے کوئی رشوت لے یا نہ لے، کیوں کہ حرمت کی بنیاد رشوت نہیں، بلکہ خیانت اور دھوکہ ہے۔
المعجم الكبیر للطبرانی میں ہے:
"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار»."
(باب، ج: 10، ص: 138، رقم: 10234، ط: مكتبة ابن تيمية - القاهرة)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: «لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له» . رواه البيهقي في شعب الإيمان."
(كتاب الإيمان، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 17، رقم: 35، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : بہت کم ایسا ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بیان کرتے اور یہ نہ کہتے ہوں کہ جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں۔“
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وعن أنس) رضي الله عنه (قال: قلما خطب) : " ما " مصدرية، أي قل خطبة خطبنا (رسول الله صلى الله عليه وسلم) ويجوز أن تكون كافة، وهو يستعمل في النفي، ويدل عليه الاستثناء، أي ما وعظنا (إلا قال) أي فيها، ولعل الحصر غالبي. (لا إيمان) أي على وجه الكمال (لمن لا أمانة له) : في النفس والأهل والمال، وقيل: فيما استؤمن عليه من حقوق الله وحقوق العباد التي كلف بها."
(كتاب الإيمان، ج: 1، ص: 108، ط: دار الفكر، بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708102006
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن