
ہمارے ہاں اسکول میں طلبہ کرام نقل کے ذریعے امتحان دیتے ہیں، جبکہ نقل کی اجازت تمام اساتذہ اور نگرانِ اعلی کی طرف سے بھی ہوتی ہے، کیا اس طرح طلباء کے لیے اور اساتذہ کے لیے کرنا جائز ہے؟ کیا انہیں نقل سے پاس کردہ ڈگریوں سے ملازمت لینا جائز ہے یا نہیں؟
نیز یہ بھی واضح فرمادیں کہ اگر کوئی اپنی جگہ کسی دوسرے کو بٹھا کر امتحان دلوائے(اگرچہ خود بھی امتحان دے سکتا ہے) تو اس ڈگری سے ملازمت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟
2: ہمارے ہاں یہ بھی عام طور پر ہے لوگ پیسے دے کر ملازمت حاصل کرتے ہیں اگرچہ میرٹ پاس نہ کیا ہو (میرٹ کا مطلب ہے ملازمت حاصل کرنے کے لیے امتحان دینے) نیز اگر میرٹ کے امتحان میں پاس ہوا ہو ، مگر آرڈر کے لیے پھر بھی پیسے مانگتے ہوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ ورنہ ایسے لوگوں کا یہ آرڈر پیسوں سے ہوتا ہے جو بالکل جاہل ہے۔
3: اگر کوئی آدمی ملازمت/ امامت لے اور پھر خود نہ جاتا ہو ، وہاں کسی کو کچھ رقم دے کر ڈیوٹی کرواتا ہو ، بقیہ رقم اپنے پاس رکھتا ہو تو اس کے کیا جواز کی صورت ہے؟
امتحانات میں نقل کرنا یا اپنی جگہ کسی اور سے امتحان دلوانا جھوٹ، خیانت، دھوکا دہی، فریب اور حق داروں کی حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، لہذا امتحانات میں نقل کرنا شرعاً قانونا اخلاقا جائز نہیں ، نیز جس طرح نقل کرنا جائز نہیں ، اسی طرح استاذ کا کسی طالب علم کو نقل کروانا یا نقل کرنے کی اجازت دینا گناہ کے کام میں معاون بننا ہے اور دوسرا اپنے فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی اور خیانت ہے، جو کہ ناجائز ہے اور اس طرح جعل سازی سے امتحان پاس کرکے ملازمت حاصل کرنا بھی شرعاً جائز نہیں جبکہ وہ مفوضہ کام کی اہلیت نہ رکھتا ہو ۔
باقی اگر کسی نے نقل کرکے حاصل کی گئی ڈگری کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرلی تو اس کے عوض جو تن خواہ وصول کی جائے اس کے حلال یا حرام ہونے سے متعلق یہ ضابطہ ہے کہ اگر مذکورہ شخص متعلقہ ملازمت اور نوکری کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کے تمام امور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتا ہو (یعنی مطلوبہ وقت دینے کے ساتھ ساتھ وہ ذمہ داری اسی معیار کے مطابق ادا کرے جو اس منصب کے لیے مطلوب ہے) تو اس کی تن خواہ حلال ہوگی، اس لیے کہ تن خواہ کے حلال ہونے کا تعلق فرائض کی درست ادائیگی سے ہے، اور اگر وہ شخص اس ملازمت اور نوکری کا اہل نہیں ہے، یا اہل تو ہے مگر دیانت داری کے ساتھ کام نہیں کرتا تو اس کی تن خواہ حلال نہیں ہوگی، (یعنی جس قدر خیانت ہوگی اسی قدر تن خواہ حلال نہیں ہوگی)
2: واضح رہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں ہی ناجائز اور حرام ہیں، رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت کی گئی ہے، اور اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں ملازمت کے حصول کے لیے رشوت کا لین دین شرعا جائز نہیں ہے، اور اس صورت میں راشی ( رشوت دینے والا) اور مرتشی (رشوت لینے والا) دونوں ہی گناہ گار ہوتے ہیں، ان پر توبہ واستغفار لازم ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص ملازمت کی مطلوبہ شرائط پر مکمل اترتا ہو اور ملازمت کے لیے منتخب ہونے کے ٹیسٹ میں کامیاب ہو، تو انتظامیہ کے افراد کا اپنے طور پر صرف آرڈر جاری کرنے کے لیے اس سے پیسے مانگنا جائز نہیں ہے، یہ رشوت ہے، لہذا ایسی صورت میں مذکورہ منتخب امیدوار کوچاہیے رشوت دیے بغیر کسی طرح اس کا کام ہوجائے، لیکن اگر کسی طرح بھی رشوت دئیے بغیر اس کا کام نہ ہو اور وہ مجبوری میں پیسے دےدے تو دینے والے پر اس کا مواخذہ نہیں ہوگا، البتہ لینے والا گناہ گار ہوگا۔
3: اگر مذکورہ ادارے کے قانون اور ضابطہ میں اس بات کی اجازت نہ ہو کہ ملازمین اپنا کام کسی اور سے کرواسکتے ہیں ، بلکہ ان کے لیے خود ڈیوٹی کرنا ضروری ہو تو اس صورت میں ملازمین کے لیے اپنی جگہ کسی اور کو ڈیوٹی پر مقرر کرنا جائز نہیں ہے، اگرچہ افسران اپنے طور پر اجازت بھی دے دیں۔اور خود ڈیوٹی سرانجام دیے بغیر تنخواہ لینا بھی ناجائز اور حرام ہوگا، البتہ اگر متعلقہ ادارے کے ضابطہ کے مطابق نائب رکھنے کی اجازت ہو یا مالکان خود نائب رکھنے کی اجازت دے دیں تو نائب رکھنا جائز ہوگا۔
سنن أبی داود میں ہے:
"عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»."
(3/ 300،کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة، رقم الحدیث: 3580،ط: المکتبة العصریة)
مرقاة المفاتیح میں ہے:
"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه."
(7/ 295، کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، الفصل الثاني، ط:دارالکتب العلمیة)
فتاوی شا می میں ہے:
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ ."
(6/ 423، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى."
(6 / 69، کتاب الاجارہ، ط: سعید)
دررالحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے
"الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره مثلا لو أعطى أحد جبة لخياط على أن يخيطها بنفسه بكذا دراهم، فليس للخياط أن يخيطها بغيره وإن خاطها بغيره وتلفت فهو ضامن."
( الكتاب الأول البيوع، الباب السادس في بيان أنواع المأجور وأحكامه، الفصل الرابع في بيان إجارة الآدمي،1/657، المادة 571، ط: دار الجيل)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702101054
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن