بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

امتحانات میں نقل کر کے پاس ہونا اور اس سے حاصل شدہ ڈگری کی بنیاد پر ملازمت کا حکم


سوال

 ہم جو وفاق المدارس اور بوڑد کے پرچوں میں نقل  کر  کے   امتحانات پاس کرتے ہیں اور ان  ہی   ڈگریوں کی بنیاد   پر  ہم نوکریوں میں جاتے ہیں، تو کیا یہ نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں؟یا اس کے  جواز کی کیا  صورت ہے؟

جواب

امتحانات میں نقل کرنا  جھوٹ، خیانت، دھوکا دہی، فریب اور حق داروں کی  حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے  کی وجہ سے ناجائز ہے، لہذا  امتحانات میں نقل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس پر توبہ واستغفار کرنالازم ہے، اور اس سند سے کسی ملازمت کے حصول میں بھی جعل سازی اور دھوکا دہی کا پہلو ہے؛ اس لیے اس کی بنیاد پر بھی کسی ملازمت کا حصول بھی جائز نہیں۔

باقی اگر کسی نے اس طرح  ملازمت  حاصل کرلی  ہو  تو    جو  تنخواہ  وصول کی  جائے اس کے  حلال یا حرام ہونے سے متعلق  یہ ضابطہ ہے کہ اگر مذکورہ   شخص   متعلقہ ملازمت اور نوکری کی صلاحیت رکھتا  ہو اور اس کے تمام امور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتا  ہو (یعنی مطلوبہ وقت دینے کے ساتھ ساتھ وہ ذمہ داری اسی معیار کے مطابق ادا کرے جو اس منصب کے لیے مطلوب ہے) تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی، اس لیے کہ تنخواہ کے حلال ہونے کا تعلق فرائض کی درست ادائیگی سے  ہے، اور اگر   وہ شخص  اس ملازمت  اور نوکری کا اہل نہیں ہے، یا اہل تو ہے مگر دیانت داری کے ساتھ کام نہیں کرتا  تو اس کی تنخواہ حلال نہیں ہوگی، (یعنی جس قدر خیانت ہوگی اسی قدر تنخواہ حلال نہیں ہوگی)۔

واضح رہے کہ متعلقہ ادارے کو ایسے شخص کی جعل سازی کا علم ہونے کے بعد شرعی دائرے میں رہ کر قانونی چارہ جوئی و کار روائی کا حق ہوگا۔

صحیح بخاری میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبيّ صلى الله عليه وسلّم قال:"آية المنافق ثلاث:إذا حدّث كذب،وإذاوعدأخلف،وإذااؤتمن خان."

(كتاب الإيمان،باب علامة المنافق،ج:1،ص:143،مكتبةالبشرى)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"فالكذب الإخبار على خلاف الواقع وحق الأمانةأن تؤدي إلى أهلها،فالخيانةمخالفةلها."

(كتاب الإيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، ج: 1، ص: 226، مكتبة حقانية)

فتاوی  عالمگیری   میں ہے:

"الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها."

(كتاب الاجارة، الباب الثاني: متي يجب الاجر، ج: 4، ص: 413، ط: المكتبة الرشيدية)

فقط  واللہ  اعلم


فتوی نمبر : 144410101932

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں