
ایک جماعت مسجد کی نماز ٹائم سے پہلے اقامت کر کے نماز باجماعت ادا کر سکتی ہے؟ جبکہ نماز کا وقت 20 منٹ بعد ہے۔
واضح رہے کہ مسجدِ شرعی کی حدود میں باقاعدہ جماعت سے پہلے چند لوگوں کا الگ جماعت کرناناجائز ہے۔
یہ حکم اس صورت میں ہے اگر مذکورہ مسجد محلہ کی ہو امام اور مؤذن مقرر ہو اور باجماعت نمازوں کا اہتمام ہو اور اگر مسجدِطریق(راستہ میں واقع مسجد )ہویعنی محلہ کی نہ ہو بلکہ راستہ کی مسجد ہو (جہاں راہ گزر آتے جاتے نمازیں پڑھتے ہیں) تو ایسی صورت میں ایک سے زائد جماعت کروانایا انفرادی نماز پڑھنا مکروہ نہ ہوگا۔
جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے:
"ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن.
(قوله: ويكره) أي تحريماً؛ لقول الكافي: لايجوز، والمجمع: لايباح، وشرح الجامع الصغير: إنه بدعة، كما في رسالة السندي، (قوله: بأذان وإقامة إلخ) ... والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعاً. اهـ".
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:552، ط: ایچ ایم سعيد)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"(ولنا) أنا أمرنا بتكثير الجماعة، وفي تكرار الجماعة في مسجد واحد تقليلها؛ لأن الناس إذا عرفوا أنهم تفوتهم الجماعة يعجلون للحضور؛ فتكثر الجماعة، وإذا علموا أنه لاتفوتهم يؤخرون؛ فيؤدي إلى تقليل الجماعات، وبهذا فارق المسجد الذي على قارعة الطريق؛ لأنه ليس له قوم معلومون فكل من حضر يصلي فيه، فإعادة الجماعة فيه مرةً بعد مرة لاتؤدي إلى تقليل الجماعات."
(كتاب الصلاة، باب الأذان، أذان المرأة، ج:1، ص:135، ط:دار المعرفة بيروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فإن كان له أهل معلوم: فإن صلى فيه غير أهله بأذان وإقامة لا يكره لأهله أن يعيدوا الأذان والإقامة، وإن صلى فيه أهله بأذان وإقامة، أو بعض أهله يكره لغير أهله وللباقين من أهله أن يعيدوا الأذان والإقامة."
(کتاب الصلاۃ،ج :1/ ص :153، ط:ایچ ایم سعید)
کفایت المفتی میں ہے:
"سوال: امامِ مسجد جب کہ وقتِ مستحب پر نماز پڑھتا ہو تو اس سے پہلے مسجد میں جماعت کرلینا کیسا ہے؟ اور جو امام سے پہلے نماز پڑھا دے اس کی امامت کیسی ہے؟
جواب: امامِ مسجد سے پہلے جماعت کرلینا ناجائز ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہے حدیث شریف میں ہے"ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه"شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ اشعۃ اللمعاب میں فرماتے ہیں"پس تقدم نکند بروالی۔۔۔یعنی بادشاہ اور اس کے نائبوں اور امامِ مسجد اور صاحبِ خانہ کی امامت کے مواقع میں بغیر ان کی اجازت کے امامت ہرگز نہ کرنی چاہیے کیوں کہ اس سے ہیبتِ سلطنت میں نقصان واقع ہوگا اور آپس میں بغض ونفاق پیدا ہوگا حالاں کہ جماعت انہیں باتوں کو دفع کرنے کے لیے مشروع ومقرر ہوئی ہے، ترمذی شریف میں ہے"لايؤم الرجل في سلطانه"(الحديث) ترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے، صاحبِ مجمع البحار لکھتے ہیں "في سلطانه أي في موضع يملكه أو يتسلط عليه بالتصرف كصاحب المجلس وإمام المسجد فإنه أحق به من غىره وإن كان أفقه، إنتهى" اور صاحبِ منزل اور امامِ مسجد کی اجازت پر بھی بعض صحابہ امامت نہیں کرتے تھے، مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کا قصہ ترمذی میں موجود ہے کہ باجودِ اجازت کے انہوں نے نماز نہ پڑھائی اور حدیث متقدم کو دلیل میں پیش کیاپس بمقتضائے فرمانِ واجب الاذعان پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم امامِ مسجد سے پہلے نماز پڑھنے والے گناہ گار ہیں کیوں کہ اس کی موجودگی میں جب ان کو نماز پڑھنا ممنوع ہے تو اس سے قبل اس کی جماعت کو متفرق کرنا اور اختلاف پیدا کردینا تو سخت ممنوع ہونا چاہیے اسی واسطے فقہانے لکھا ہے کہ امامِ راتب سے پہلے جماعت کرنے والوں کی جماعت مکروہ ہوگی کیوں کہ اقامتِ جماعت کا حق اسی کو ہے ، واللہ اعلم بالصواب۔"
(تتمہ نوٹ از واصف، متعلقہ کتاب الصلوٰۃ، تیسرا باب فصل دوم، امامِ مسجد سے پہلے مسجد میں جماعت کرانے والا گناہ گار ہے، ج:9، ص:441، ط: دارالاشاعت کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610100286
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن