بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

امام شافعی رحمہ اللہ کے قول:’’جس نے اپنے بھائی کو پوشیدہ طور پر نصیحت کی تو اس نے خیر خواہی کی ۔۔۔الخ کی تخریج


سوال

کیا درج ذیل قول  امام شافعی رحمہ اللہ کا  ہے؟ رہنمائی فرمائیں:

’’جس نے اپنے بھائی کو پوشیدہ طور پر نصیحت کی تو اس نے خیر خواہی کی اور اسے مزین کر دیا اور جس نے اعلانیہ اسے ٹوکا تو اس نے گویا اسے رسوا اور بدنما کر دیا‘‘۔

جواب

سوال میں آپ نے  حضرت امام شافعی رحمہ اللہ  کےجس قول کا ترجمہ ذکرکرکے اس کے متعلق دریافت کیا ہے، یہ قول  آپ کےمذکورہ ترجمہ کے مطابق  "شرح النووي على مسلم"،"شرح سنن أبي داود لابن رسلان"، "مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"،"عون المعبود شرح سنن أبي داود"،"إحياء علوم الدين"ودیگر مختلف کتب میں  مذکور ہے۔مذکورہ کتب میں اس قول کو بغیر کسی سند کے حضرت  امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے ذکرکیا ہے۔  "شرح النووي على مسلم"میں اس قول کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"قَال الإمامُ الشافعيُّ -ر حمه الله-: مَنْ وَعَظَ أَخَاهُ سِرًّا فَقَدْ نَصَحَهُ وَزَانَهُ وَمَنْ وَعَظَهُ عَلَانِيَةً فَقَدْ فَضَحَهُ وَشَانَه".

(شرح النووي على مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان، 2/24، ط: دارإحياء التراث العربي-بيروت)

ترجمہ:

’’(حضرت) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے نصیحت کی اس نے اس کے ساتھ خیر خواہی  کی  اور اسے  مزین وآراستہ کردیا،اور جس نے  اسےکھلم کھلا نصیحت کی اس نے  اسے رسوا کردیا اور عیب دار وقابلِ مذمت  بنادیا‘‘۔

البتہ"حلية الأولياء وطبقات الأصفياء"میں یہ قول  سند کے ساتھ مذکورہے،   اس میں  آخر میں"فَقَدْ فَضَحَهُ وَشَانَه"(یعنی اس نے اسے رسوا کردیااور عیب دار وقابلِ مذمت  بنادیا) کے بجائے"فَقَدْ فَضَحَهُ وَخَانَه" (یعنی اس نے اسے رسوا کردیااور اس کے ساتھ خیانت کی )کے  الفاظ  مذکور ہیں ۔بعدازاں"لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح"میں بھی یہ قول  انہی  الفاظ کے ساتھ مذکور ہے۔"حلية الأولياء وطبقات الأصفياء"میں اس قول کے مکمل الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدّثنا أحمدُ، قال: سمعتُ أبا بكرٍ، يقولُ: سمعتُ المزنيَّ، يقولُ: سمعتُ الشافعيَّ، يقولُ: مَنْ وَعَظَ أَخَاهُ سِرًّا فَقَدْ نَصَحَهُ وَزَانَهُ، وَمَنْ وَعَظَهُ عَلَانِيَةً فَقَدْ فَضَحَهُ وَخَانَه".

(حلية الأولياء، فمن الطبقة الأولى من التابعين، ترجمة الإمام الشافعي-رحمه الله-، 9 /140، ط: مطبعة السعادة بجوار محافظة مصر)

ترجمہ:

’’(امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد)  مزنی فرماتے ہیں: میں نے (امام) شافعی رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے نصیحت کی اس نے اس کے ساتھ خیر خواہی کی اور اسے مزین وآراستہ کردیا، اور جس نے اسے کھلم کھلا نصیحت کی اس نے اسے رسوا  کردیا اور  اس کے ساتھ خیانت کی ‘‘۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ"مَنْ وَعَظَ أَخَاهُ سِرًّا فَقَدْ نَصَحَهُ وَزَانَهُ، وَمَنْ وَعَظَهُ عَلَانِيَةً فَقَدْ فَضَحَهُ وَخَانَه"(امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد) مزنی فرماتے ہیں: میں نے (امام) شافعی رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے نصیحت کی اس نے اس کے ساتھ خیر خواہی کی اور اسے مزین وآراستہ کردیا، اور جس نے اسے کھلم کھلا نصیحت کی اس نے اسے رسوا  کردیا اور   اس کے ساتھ خیانت کی)  کے الفاظ سند کے اعتبار سے ثابت ہیں ، اس لیے انہی الفاظ کو بیان کرنے کا اہتمام کرناچاہیے۔

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144504101077

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں