
اگر امام کو کسی مقررہ و موعودہ تنخواہ کے ساتھ لگایا ہو، اب تنخواہ کا وقت پورا ہونے کے بعد وہ تنخواہ نہیں دی، بلکہ امام کو امامت سے رخصت کر دیا، اب حکومت نے مسجد کے لیے ایک قیمتی چیز (سولر پینل) کو وقف کیا ہوا ہے جو حفاظت کے خاطر امام ہی گھر میں رکھا ہوا تھا، اب کیا امام وہی قیمتی سولر پینل اپنی تنخواہ کے بدلے لے لے اور اس کے بدلے میں اپنی طرف سے اس طرح کا سستا سولر پینل رکھ دے جو صرف قیمت کم ہو، تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
تنقیح:سوال میں مذکور مسجد محلے کی مسجد ہے، سرکاری مسجد نہیں ہے،امام صاحب نے دو سال وہاں امامت کی، ماہانہ تنخواہ سات ہزار طے ہوئی تھی، لیکن پوری تنخواہ نہیں دیتے تھے، اس کے علاوہ مقتدیوں نے یہ معاہدہ بھی کیا تھا کہ سالانہ تین لاکھ روپے تنخواہ کے علاوہ زکوۃ وغیرہ بھی دیں گے۔ دو سال بعد مقتدیوں نے امام صاحب کو فارغ کردیا، اس دوران سالانہ زکات بھی نہیں دی ۔
صورتِ مسئولہ میں مسجد کمیٹی پر لازم ہے کہ امام صاحب کے لیے ماہانہ جو تنخواہ (سات ہزار روپے) طے کی تھی، اس میں سے اگر کچھ ادائیگی باقی ہو تو اس کی ادائیگی مکمل کرلیں، البتہ امام صاحب کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنی تنخواہ وصول کرنے کے لیے سرکار کی طرف سے مسجد کے وقف شدہ سولر پینل کو بیچ کر اس کی جگہ دوسرا سستا سولر پینل رکھ دے اور درمیان کی رقم اپنی تنخواہ کی مد میں خود رکھ لے، کیوں کہ مسجد کے لیے وقف شدہ سولر پینل صرف مسجد میں ہی استعمال کیا جاسکتا ہے، اسے مسجد سے باہر لے جاکر استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح امام ِ مسجد کا مسجد کی چیزوں کو بیچ کر اپنا حق وصول کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ومثله حشيش المسجد إلخ) أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصر، كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم قال الزيلعي: وعلى هذا حصير المسجد وحشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد وعند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر، وعلى هذا الخلاف الرباط والبئر إذا لم ينتفع بها اهـ وصرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد قال في البحر: وبه علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد وعلى قول أبي يوسف في تأبيد المسجد اهـ والمراد بآلات المسجد نحو القنديل والحصير، بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريبا من أن الفتوى على أن المسجد لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر."
(کتاب الوقف،باب فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد،ج:4،ص:359،ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا يحمل الرجل سراج المسجد إلى بيته ويحمل من بيته إلى المسجد."
(كتاب الصلاة، الباب الثامن، ج:1، ص:110، ط:دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102030
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن