
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں مساجد کے ائمہ حضرات کے لیے ایک مخصوص وظیفہ مقرر کر لیا تھا، تو یہ بتائیں کہ وہ وظیفہ کتنا تھا؟
بعض کتبِ سیرت اور تاریخ میں یہ بات تو مصرح ہے کہ حضرات خلفاء راشدین کے زمانے میں اماموں اور مؤذنوں کو تنخواہ دی جاتی تھی، لیکن وظیفہ اور تنخواہ کی مقدار کیا تھی اس کی وضاحت تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، تاریخِ طبری اور طبقاتِ ابن سعد میں جہاں وظائف کے جاری کرنے کا ذکر ہے، وہاں حضرت عباس رضی اللہ عنہ، ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن، بدری صحابہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کو وظائف کے دیے جانے کا بھی ذکر ہے اور ان کے وظیفوں کی مقدار بھی صراحت سے لکھی ہے، لیکن اماموں اور مؤذنوں کے وظائف سے متعلق ایسی کوئی صراحت نہیں مل سکی۔
تاریخ بغداد میں ہے:
"عن الحسن، أن عمر بن الخطاب، وعثمان بن عفان كانا يرزقان المؤذنين والأئمة والمعلمين والقضاة."
(باب ذكر من اسمه محمد وابتداء اسم أبيه حرف الألف، محمد بن أبان العلاف ، جلد : 2 ، صفحہ : 427 ، طبع : دار الغرب الإسلامي)
مسند الفاروق لابن کثیر میں ہے:
"عن الحسن: أنَّ عمرَ بن الخطاب وعثمانَ بن عفَّان -رضي الله عنهما- كانا يرزقان المؤذِّنين، والأئمَّة، والمُعلِّمين، والقُضاة."
(احادیث الجهاد ، جلد : 2 ، صفحه : 325 ، طبع : دار الفلاح)
راہِ سنت میں ہے:
قرآن کریم کی تعلیم و تعلم و درس و تدریس کے معاوضے میں اجرت اور تنخواہ لینا نیز موذن امام وخطیب اور قاضی کے لیے اجرت وتنخواہ لینا جائز ہے، حضرات خلفائے راشدین نے اپنے اپنے دور میں ان حضرات کو وظیفے اور تنخواہیں دیں، اگر یہ کاروائی نا جائز ہوتی تو یقینا حضرات خلفائے راشدین اس کا کبھی بھی ارتکاب نہ کرتے اور حضرات خلفائے راشدین کا عمل اور سنت حدیث : "علیکم بسنة الخلفاء الراشدین" امت کے لیے مشعل راہ ہے، جس سے ان کے لیے کوئی مخلص نہیں ہے، امام ابو الفرج عبدالرحمن ابن جوزی الحنبلی لکھتے ہیں: ان عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان كانا يرزقان المؤذنين والائمۃ والمعلمين، ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما موذن اماموں اور معلموں کو وظائف اور تنخواہیں دیا کرتے تھے۔( سیرت العمرین لابن الجوزی، ص: 165)
(تلاوتِ قرآن کریم پر اجرت لینا، صفحہ: 255، طبع : دار الکتاب دیوبند)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101085
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن