بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امام مسجد پر چوری کی معاونت کا الزام لگانے والے مقتدی کی نماز کا حکم


سوال

ایک مقتدی نے امام مسجد پر اعتراض کیاکہ وہ چوروں کا معاون ہے،  اس پر امام مسجد ناراض ہوا، پھر امام صاحب اور مقتدی کےدر میان تلخ کلامی ہوئی، اس کےبعدامام صاحب نے مقتدی کو پیغام بھیجا کہ آپ کی نماز میرے پیچھے پڑھنا جائز نہیں،  آپ کی نماز مکروہ تحریمی ہے،  پوچھنایہ ہے کہ کیا صرف اعتراض کرنے سے امام صاحب کا مقتدی سے متعلق یہ حکم لگانا شرعی نقطۂ نظر سے درست  ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ کسی  بھی مسلمان پر بغیر تحقیق اور ثبوت کے الزام لگاناوبدگوئی کرناشرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام ہے،  اورامام ِمسجد توبہت ہی قدروعزت اور احترام کےلائق ہوتاہے ،اُن پربے بنیاد  الزام لگانا تواور بڑاگناہ ہے،   احادیث مبارکہ میں بے بنیاد الزامات لگانے  والوں سے متعلق سخت  وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

چنانچہ ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: ”مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔“ ایک اور حدیث میں ہے:  ”جو شخص کسی دوسرے کو فسق کا طعنہ دے یا کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو تو اس کا فسق اور کفر کہنے والے پر لوٹتا ہے۔“ ایک اور روایت میں ہے:” جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا ، تہمت ، یا جھوٹی بات منسوب کی) جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے ، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو) دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا (وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے (دنیا میں) باز آ جائے (رک جائے ، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے)۔“

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر  مذکورہ مقتدی نےامام مسجد پر بغیر تحقیق و ثبوت کے یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ چوروں کا معاون ہے تو یہ شرعاًناجائز اور گناہ ہے، اس پرمذکورہ مقتدی  کوچاہیےکہ وہ صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے اور امام صاحب سے معافی مانگ کر اُ ن کوراضی کرے۔

 تاہم محض اس اعتراض اور بعد میں باہمی تلخ کلامی کی بنیاد پر امامِ مسجد کا یہ کہنا کہ اس مقتدی کی نماز ان کے پیچھے جائز نہیں یا مکروہِ تحریمی ہے، شرعاً درست نہیں،  بلکہ مقتدی اگراسی امام کے پیچھے نماز ادا کرے تو اس کی نماز ادا ہوجائے گی۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يرمي رجل رجلا بالفسوق ‌ولا ‌يرميه ‌بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك» رواه البخاري"

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان، ج:3، ص:1356، رقم:4816، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

مشکاۃ المصابیح میں دوسری جگہ ہے:

"وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌لا ‌ينبغي ‌لصديق أن يكون لعانا» . رواه مسلم"

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان، ج:3، ص:1357، رقم:4819، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

كنز العمال فی سنن الاقوال والافعال  میں ہے: 

"عن علي قال: ‌البهتان ‌على ‌البراء أثقل من السموات. الحكيم."

(الکتاب الثالث فی الاخلاق، ج:3، ص:802، رقم:8807، ط:مؤسسة الرسالة)

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"(وإمام قوم) أي: الإمامة الكبرى، أو إمامة الصلاة (وهم له) : وفي نسخة: لها، أي الإمامة (كارهون) أي: لمعنى مذموم في الشرع، وإن كرهوا لخلاف ذلك، ‌فالعيب ‌عليهم ‌ولا ‌كراهة، قال ابن الملك، أي كارهون لبدعته أو فسقه أو جهله، أما إذا كان بينه وبينهم كراهة وعداوة بسبب أمر دنيوي، فلا يكون له هذا الحكم. في شرح السنة قيل: المراد إمام ظالم، وأما من أقام السنة فاللوم على من كرهه، وقيل: هو إمام الصلاة وليس من أهلها، فيتغلب فإن كان مستحقا لها فاللوم على من كرهه، قال أحمد: إذا كرهه واحد أو اثنان أو ثلاثة، فله أن يصلي بهم حتى يكرهه أكثر الجماعة."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامة، ج:3، ص:865، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة ‌من ‌تقدم ‌قوما وهم له كارهون» (وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم.)

(کتاب الصلاۃ، باب الامامة، ج:1، ص:559، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"رجل أم قوما وهم له كارهون إن كانت الكراهة لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة يكره له ذلك وإن كان هو أحق بالإمامة لا يكره. هكذا في المحيط."

(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الامامة، ج:1، ص:87، ط:دار الفکر)

فتاوٰی مفتی محمود میں ہے:

”س:کیافرماتےہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ ایک آدمی کی امام مسجد سے کافی عرصہ سے بول چال نہیں ہے،وجہ یہ ہوئی کہ دونوں میں جھگڑا صرف دنیاداری پرہے،اورباقی لوگوں نے دونوں کومنانے کی کوشش کی لیکن صلح نہیں ہوسکی،نہ امام مسجد مانتاہے ،نہ مقتدی مانتاہے،گزارش یہ ہے کہ اگرمقتدی اس امام کے پیچھےنمازپڑھ لے تونماز ہوسکتی ہے یانہیں؟

ج:شخص ِمذکور اگرامام ِمذکور کی پیچھے نمازپڑھے گاتو نمازاداہوجائےگی۔فقط واللہ اعلم“

(باب الامامۃ، ج:2، ص:208، ط:جمعیت پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100632

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں