بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کی خطائے قراءت سے تغیرِ معنی کی بنا پر نماز جمعہ کے فساد، اعادہ جمعہ و سجدہ سہو کے احکام


سوال

میں نے اپنے گاؤں میں جمعہ کی نماز پڑھیں،تو امام صاحب نے جوکہ غیر عالم تھے (ولا تکونوا کاالذین نسوالله فأ نساهم أنفسهم،اولئك هم الفاسقون)کی جگہ اولئك هم الفائزون پڑھا،تو میں نے امام کو نماز لوٹانے کا کہا تو اس نے نماز لوٹادی،لیکن بعد میں مسجد کے متولی نے میرے چچا کو شکایت کی،اور متولی نے مجھے غصے کی حالت میں کہا کہ آپ نے دوبارہ نماز لوٹانے کی غلطی کی ہے،کیونکہ وہ کہتے ہے کہ جمعہ کی نماز میں کسی کی غلطی کی وجہ سے نماز نہیں لوٹانی  چاہئے۔

لہذا میرا نماز لوٹانا درست تھا یا نہیں؟

اگر جمعہ کی نماز میں کوئی مفسد صلاۃ  پایا جائے ،تو کیا اس کی وجہ سے جمعہ کی نماز لوٹانا درست ہے یا نہیں؟

مذکورہ غلطی کی وجہ سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر امام نے نماز میں یہ آیت پڑھتے وقت:"وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ"کی بجائے آخر میں "أُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ" پڑھ دیا، اور درمیان میں یعنی "فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ" پر وقفِ تام بھی نہیں کیا، اور نہ ہی نماز کے اندر اس غلطی کی اصلاح کی، تو ایسی صورت میں آیت کا معنی بدل گیا، اور معنی میں یہ تغیر  فاحش نماز کے فساد کا سبب بن گیا۔ لہٰذا ایسی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔

البتہ اگر امام نے دونوں جملوں کے درمیان یعنی "فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ" پر وقفِ تام کیا تھا، یا پھر نماز کے دوران ہی اس غلطی کو درست کرلیا تھا، تو نماز صحیح ہے، ایسی صورت میں اعادے کی حاجت نہیں تھی۔

اور جمعہ کی نماز میں اگر امام سے ایسی غلطی ہوجائے جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہو، تو جمعے کے وقت کے اندر دوبارہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری ہے، اگر کوئی مقتدی پہلی جماعت سے نکل گیا ہو اور بعد میں اسے نماز کے فساد کا علم ہوجائے تو وقت کے اندر وہ دوسری جگہ دوسرے امام کے ساتھ جمعہ ادا کرسکتا ہے۔ لیکن اگر وقت گزرنے کے بعد فساد کا علم ہوا ،تو اب جمعے کی قضا نہیں ہوسکتی، اس صورت میں صرف چار رکعت ظہر ادا کرنا لازم ہوگا۔

اور  اگر امام سے جمعہ کی نماز میں  ایسی غلطی ہوجائے جس پر صرف سجدہ سہو لازم ہو، اور مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے انتشار یا نماز کے مزید خراب ہونے  کا اندیشہ ہو، تو اس صورت میں سجدہ سہو نہ کرنا ہی بہتر ہے۔لیکن موجودہ زمانہ میں نماز اسپیکر پر ہوتی ہے ،تو یہ خدشہ نہیں ہوتا،لہذا سجدہ سہو کرنا چاہئے۔

لہذا مذکورہ تفصیل کے مطابق اگر امام نے مذکورہ آیت بغیر وقف کے پڑھی ہو تو اس صورت میں سائل کا نماز کا اعادہ کروانا ،جائز تھا۔ متولی کا شکایت کرنا  یا مطلق یہ سمجھنا کہ جمعہ کی نماز کسی بھی غلطی کی وجہ سے نہ لوٹائی جائے ، درست نہیں،اور سائل نے جو کرایا درست ہے،جبکہ متولی کا غصہ وغیرہ کرنا درست نہیں ہے۔

 فتاویٰ عالمگیری  میں ہے:

"(ومنها ذكر آية مكان آية) لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفا تاما ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لا تفسد كما لو قرأ {والعصر - إن الإنسان} [العصر: 1 - 2] ثم قال {إن الأبرار لفي نعيم} [الانفطار: 13] ، أو قرأ {والتين} [التين: 1] إلى قوله {وهذا البلد الأمين} [التين: 3] ووقف ثم قرأ {لقد خلقنا الإنسان في كبد} [البلد: 4] أو قرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [البينة: 7] ووقف ثم قال {أولئك هم شر البرية} [البينة: 6] لا تفسد.

أما إذا لم يقف ووصل - إن لم يغير المعنى - نحو أن يقرأ {إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات} [الكهف: 107] فلهم جزاءالحسنى مكان قوله {كانت لهم جنات الفردوس نزلا} [الكهف: 107] لا تفسد. أما إذا غير المعنى بأن قرأ " إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية إن الذين كفروا من أهل الكتاب " إلى قوله " خالدين فيها أولئك هم خير البرية " تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح. هكذا في الخلاصة."

(کتاب الصلوۃ، الباب الرابع فی صفة الصلوۃ، الفصل الخامس في زلة القارئ، ج: 1، ص: 80،81، ط: مکتبة رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و السهو في صلاة العيد و الجمعة و المكتوبة و التطوع سواء) و المختار عند المتأخرين عدمه في الأوليين لدفع الفتنة كما في جمعة البحر، و أقره المصنف، و به جزم في الدرر. و في جمعة حاشية أبي السعود عن العزمية: أنه ليس المراد عدم جوازه، بل الأولى تركه لئلايقع الناس في فتنة. اهـ."

(کتاب الصلاۃ، باب سجودالسهو، ج: 2، ص: 92، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101988

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں