
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں:
1. اگر کوئی امامت کر رہا ہو تو شرعاً کتنے دن کی رخصت لے سکتا ہے؟
2. چھٹی کے درمیان نماز کے لیے کسی کو مقرر کرنے کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟ آیا امام کسی کو مقرر کرے گا یا انتظامیہ ؟
3. چھٹی نمازوں کے اعتبار سے شمار ہوگی یا دن کے اعتبار سے؟ یعنی اگر مہینے میں دو دن کی چھٹی طے ہوئی ہے تو مہینے میں الگ الگ دس نمازوں کی چھٹی شمار ہوگی یا دو دن کی ایک ساتھ؟
4. اگر انتظامیہ چھٹی دینے سے انکار کرے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
5. چھٹی پر تنخواہ وضع کرنے کا شرعی اصول کیا ہونا چاہئے؟
6. اگر نماز کے اوقات مقرر ہیں تو کتنے منٹ کی تاخیر قابل قبول ہوگی؟
7. کیا امام کو وقت سے پہلے آنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے یعنی آپ کو وقت سے پانچ منٹ پہلے مسجد میں حاضر ہونا ضروری ہوگا عین وقت پر آئیں گے تو نہیں چلے گا؟
8. ہندوستان میں ضروریات زندگی اور اشیاء کی قیمتوں کے اعتبار سے کم از کم کتنی تنخواہ مقرر کرنی چاہیے؟ جس سے آخرت میں سوال نہ ہو (ایک اندازہ بتا دیجئے) یا پھر کوئی معیار کہ اگر فلاں فلاں اشیاء کی قیمت اتنی ہے تو اتنی تنخواہ ہونی چاہئے۔ برائے مہربانی ان سوالات کے مکمل و مدلل جوابات دے کر عنداللہ ماجور ہوں!
واضح رہے کہ سوال میں مذکور تمام نکات امامت کی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل ہی انتظامیہ کے ساتھ طے کرلینے چاہییں، تاکہ آئندہ اختلافات پیدا نہ ہوں، تاہم اگر مذکورہ معاملات پہلے سے طے شدہ نہیں ہیں تو ان سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1. امام اور مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ باہمی مشورہ سے رخصت اور چھٹیوں کے متعلق مناسب معاہدہ کرلیں، پھر معاہدے میں جو طے ہوجائے اس کی پابندی انتظامیہ اور امام کے لیے ضروری ہوگی۔
2. نائب امام یا قائم مقام امام مقرر کرنا مسجد انتظامیہ کا حق ہے، لیکن اگر مسجد انتظامیہ نے پیش امام کو مسجد کا امام مقرر کرتے وقت اپنی غیر موجودگی میں عارضی امام مقرر کرنے کا پابند بنائے، تو امام کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ معاہدے کے مطابق رخصت کے ایام میں اپنی جگہ قائم مقام امام مقرر کرکے رخصت پر جائے، اور اگر مسجد انتظامیہ نے خود پیش امام کی غیر موجودگی میں قائم مقام امام مقرر کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لی ہو، تو ایسی صورت میں مسجد انتظامیہ پیش امام کی غیر موجودگی قائم مقام امام مقرر کرے گی۔
3. چھٹی کا اعتبار عرف کے مطابق دن کے لحاظ سے ہوتا ہے، نماز کے اعتبار سے نہیں ہوتا، لہذا اگر مہینہ میں دو دن چھٹی طے ہوئی ہے تو وہ دن کے اعتبار سے شمار ہوگی ،نمازوں کے اعتبار سے شمار نہیں ہوگی۔
4۔ مسجد انتظامیہ کی جانب سے امام مسجد کے رخصت کے لیے طے شدہ ایام کے علاوہ اگر امام مسجد زائد رخصت کا مطالبہ کرے تو مسجد انتظامیہ انکار کرنے کا حق حاصل ہے، اور امام مسجد کے اپنی مرضی سے چھٹی کرنے کی صورت میں مسجد انتظامیہ کو تنخواہ کاٹنے کا حق بھی حاصل ہے، تاہم مسجد انتظامیہ پر امام مسجد کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آنا بھی لازم ہے، لہذا اگر امام مسجد جائز وجوہات کی بناء پر رخصت کا مطالبہ کررہا ہے، تو مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ امام کو رخصت دے دیں۔
5۔واضح رہے کہ امام مسجد کے رخصت کے طے شدہ ایام سے زائد چھٹیاں کرنے کی صورت میں مسجد انتظامیہ کے لیے زائد چھٹیوں کی تنخواہ کی کٹوتی کرنا جائز ہے،ضروری نہیں،اور اگر چھٹی کسی عذر کی وجہ سے ہو تو پھر مسجد انتظامیہ کے لیے زائد چھٹی کی تنخواہ کا ٹنا مناسب نہیں،بلکہ فقہاء کی تصریح کے مطابق اگر امام مسجد سال کا اکثر حصہ اپنی مفوضہ ذمہ داریاں سرانجام دے،اور بقیہ دنوں عذر ِ شرعی کی وجہ سے رخصت پر ہو تو وہ پورے سال کی تنخواہ کا مستحق ہے۔
6۔واضح رہے کہ نماز کے طے شدہ اوقات کی حیثیت وعدے کی ہے،اور وعدے کی پاسداری کرنا امام مسجد پر بھی لازم ہے، لہذا امام مسجد کو چاہیے وہ طے شدہ اوقات پر نماز پڑھانے کا اہتمام کرے، تاخیر سے گریز کرے، تاہم امام سے عذر کی بناء پر تاخیرہوجانے کی صورت میں اگر نماز کے وقت میں گنجائش اور وسعت ہو تو نمازی حضرات کو اگر ناگوار نہ گزرے تو دو سے تین منٹ امام کا انتظار کرنا مناسب ہے۔
7۔امام مسجد کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ نماز کے مقررہ اوقات سے کچھ وقت قبل ہی مسجد میں حاضر ہوجائے، تاکہ اس کے نمازوں کے اہتمام کے سبب نمازیوں میں نماز کے اہتمام کا شوق بیدار ہو ،بہر حال امام مسجد کے ذمہ نماز کے مقررہ وقت پر حاضر ہوکر نماز پڑھانا ہے، لہذا اگر وہ وقت مقررہ پر نماز پڑھانے کے لیے مسجد کے محراب میں پہنچ جائے تو کافی ہے۔
8۔ واضح رہے کہ امام کی تنخواہ اس قدر ہونی چاہیے کہ جس سے وہ سہولت کے ساتھ باعزت گزر بسر کر سکے، اپنے اہل و عیال کی ضروریات اور حاجات پوری کرسکے، دوسروں کا محتاج اور پریشان نہ ہو، بلکہ ذہنی اطمینان کے ساتھ امامت و خطابت کے فرائض اچھے طریقے سے انجام دے سکے۔
حوالہ جات:
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحاً حرم حلالاً أو أحل حراماً، والمسلمون على شروطهم إلا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً."
(كتاب البيوع، باب الإفلاس والانظار، الفصل الثانی، 253/1، ط: المكتب الإسلامي بيروت)
صحیح مسلم میں ہے:
"حدثنا هارون بن معروف، وحرملة بن يحيى قالا: حدثنا ابن وهب ، أخبرني يونس ، عن ابن شهاب قال: أخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف سمع أبا هريرة يقول: « أقيمت الصلاة فقمنا فعدلنا الصفوف قبل أن يخرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا قام في مصلاه قبل أن يكبر ذكر فانصرف وقال لنا: مكانكم فلم نزل قياما ننتظره حتى خرج إلينا وقد اغتسل ينطف رأسه ماء، فكبر فصلى بنا.»"
(كتاب الصلاة،باب متى يقوم الناس للصلاة؟،101/2، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
"حدثنا عبد الرزاق، عن إسرائيل، عن سماك بن حرب، أنه سمع جابر بن سمرة يقول: كان مؤذن النبي صلى الله عليه وسلم يؤذن ثم يمهل، فلا يقيم حتى إذا رأى نبي الله صلى الله عليه وسلم، قد خرج أقام الصلاة حين يراه."
(كتاب الصلاة،باب الصلاة خير من النوم،176/2، ط:دار التأصيل)
مرشد الحیران علی معرفۃ احوال الانسان میں ہے:
"(مادة 472)يشترط لانعقاد الإجارة أهلية العاقدين بأن يكون كل منهما عاقلاً مميزاً ويشترط لنفاذها كون العاقدين عاقلين غير محجورين وكون المؤجر مالكاً لما يؤجره أو وكيله أو وليه أو وصيه.
(مادة 473) يشترط لصحة الإجارة رضا العاقدين وتعيين المؤجر ومعلومية المنفعة بوجه لا يفضي إلى المنازعة وبيان مدة الانتفاع وتعيين مقدار الأجرة إن كانت من النقود وتعيين قدرها ووصفها إن كانت من المقدرات فإن اختل شرط من شرائط الصحة المذكورة فسدت الإجارة."
(كتاب الإجارة،الباب الأول،الفصل الأول،ص:76، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي المنية القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، وفي الوهبانية أنه أظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدرس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة تكون للمطالعة والتحرير عند ذوي الهمة أما لو قال يعطى المدرس كل يوم كذا فينبغي أن يعطى ليوم البطالة المتعارفة بقرينة ما ذكره في مقابله من البناء على العرف، فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا."
(كتاب الوقف،مطلب في قطع الجهات لاجل العمارة، 372/4،ط:سعيد)
البحر الرائق میں ہے:
"وفي تولية أهل المحل قيما على أوقافه بدون إذن القاضي اختلاف المشايخ في فتاوى الفضلي وأفتى مشايخنا المتقدمون أنه يصير متوليا ثم اتفق المتأخرون وأستاذونا أن الأفضل أن ينصبوا متوليا ولا يعلموا به القاضي في زماننا لطمع القضاة في أموال الأوقاف تنازع أهل المحلة والباني في عمارته أو نصب المؤذن أوالإمام فالأصح أن الباني أولى به إلا أن يريد القوم ما هو أصلح منه وقيل الباني بالمؤذن أولى وإن كان فاسقا بخلاف الإمام، والباني أحق بالإمامة والآذان وولده من بعده وعشيرته أولى بذلك من غيرهم وفي المجرد عن أبي حنيفة رضي الله عنه أن الباني أولى بجميع مصالح المسجد ونصب الإمام والمؤذن إذا تأهل للإمامة. اهـ."
(كتاب الوقف،269،270/5، ط: دار الكتاب الإسلامي)
مبسوطِ سرخسی میں ہے:
"ولو كان يبطل من الشهر يوما أو يومين لا يرعاها حوسب بذلك من أجره سواء كان من مرض أو بطالة؛ لأنه يستحق الأجر بتسليم منافعه، وذلك ينعدم في مدة البطالة سواء كان بعذر أو بغير عذر."
(كتاب الإجارة، باب إجارة الراعي، 162/15، ط: دارالمعرفة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى.....وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل."
(کتاب الإجارۃ ، باب ضمان الأجیر، 69،70/6، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وينتظر المؤذن الناس ويقيم للضعيف المستعجل ولا ينتظر رئيس المحلة وكبيرها. كذا في معراج الدراية."
(كتاب الصلاة،الباب الثاني،الفصل الثاني في كلمات الأذان والإقامة وكيفيتهما، ط: رشیدیة)
البحر الرائق میں ہے:
"قالوا ينبغي للمؤذن مراعاة الجماعة، فإن رآهم اجتمعوا أقام وإلا انتظرهم."
(كتاب الصلاة،باب الأذان،276/1، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر
وقال ابن عابدين: (قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح، هذا إذا لم يكن معينا فإن كان الوقف معينا على شيء يصرف إليه بعد عمارة البناء اهـ قال في البحر والسراج بالكسر: القناديل ومراده مع زيتها والبساط بالكسر أيضا الحصير، ويلحق بهما معلوم خادمهما وهما الوقاد والفراش فيقدمان وقوله إلى آخر المصالح: أي مصالح المسجد يدخل فيه المؤذن والناظر ويدخل تحت الإمام الخطيب لأنه إمام الجامع اهـ ملخصا ثم لا يخفى أن تعبير الحاوي بثم يفيد تقديم العمارة على الجميع كما هو إطلاق المتون فيصرف إليهم الفاضل عنها خلافا لما يوهم كلام البحر نعم كلام الفتح الآتي يفيد المشاركة ويأتي بيانه فافهم (قوله: بقدر كفايتهم.)"
(كتاب الوقف،366،367/4، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"وجاز (رزق القاضي) من بيت المال لو بيت المال حلالا جمع بحق وإلا لم يحل وعبر بالرزق ليفيد تقديره بقدر ما يكفيه وأهله في كل زمان ولو غنيا في الأصح."
قال ابن عابدین: "(قوله في كل زمان) متعلق بتقدير أو بيكفيه أي يقدر بقدر كفايته في كل زمان، لأن المؤنة تختلف باختلاف الزمان (قوله ولو غنيا في الأصح) عبارة الهداية ثم القاضي إذا كان فقيرا، فالأفضل بل الواجب الأخذ لأنه لا يمكنه إقامة فرض القضاء إلا به إذ الاشتغال بالكسب يقعده عن إقامته، وإن كان غنيا فالأفضل الامتناع على ما قيل رفقا ببيت المال، وقيل الأخذ، وهو الأصح صيانة للقضاء عن الهوان، ونظرا لمن تولى بعده من المحتاجين، لأنه إذا انقطع زمانا تعذر إعادته اهـ."
(كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع،389/6، ط: سعید)
تکملہ فتح الملہم میں ہے:
"إن المسلم يجب عليه أن يطيع أميره في الأمور المباحة، فإن أمر الأمير، بفعل مباح، وجبت مباشرته، وإن نهى عن أمر مباح، حرم إرتكابه،..... ومن هنا صرّح الفقهاء بأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجب."
(كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية، ج:3، ص:363،ط:مكتبة دار العلوم كراتشي)
الاشباہ والنظائر میں ہے:
"القاعدة السادسة:" العادة محكمة"
وأصلها قوله عليه الصلاة والسلام {ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن}.......
ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم.
والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني. وقيل: لا يأخذ (انتهى) .وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال: إنه الأظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي الهمة.......
نقل في القنية أن الإمام للمسجد يسامح في كل شهر أسبوعا للاستراحة أو لزيارة أهله.وعبارته في باب الإمامة: يترك الإمامة لزيارة أقربائه في الرساتيق أسبوعا، أو نحوه أو لمصيبته أو لاستراحته لا بأس به، ومثله عفو في العادة والشرع (انتهى)"
(الفن الأول، القاعدۃ السادسة، صفحه: 79، طبع: دار الكتب العلمية)
کفایت المفتی میں ہے:
”امام مقرر کرنے کا اختیار کس کو ہے:
(سوال) (۱) جس ملک میں سلطان یا نائب سلطان نہ ہوں یا موجود تو ہوں لیکن شرعی امور کی طرف ان کی بالکل توجہ نہ ہو تو امام یا نائب امام مقرر کرنے کا حق شرعاً کس کو ہے ؟
(۲) اگر مصلیان و کمیٹی مسجد ایک ایسے متدین شخص کو نیابت کے لئے مقرر کریں جس پر جمہور مصلیان حسن اعتقاد رکھتے ہیں اور بطیب خاطر اس کی اقتدا کرتے ہیں اور امام نیابت کے لئے ایسے شخص کو پیش کرے جس پر مصلیوں کا اعتماد اور اطمینان نہ ہو تو کیا مصلیان امام کے پیش کردہ نائب کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں ؟ (ص ۱۴۰ ج ۲ سعید )
(۳) شامی جلد اول ص ۵۶۲ میں ہے: "ھو صریح في جواز استنبابة الخطیب مطلقا او کالصریح." (ص ۱۴۲ ج ۲ سعید) ۔ اور ص ۵۶۳ ج ۱ میں ہے:"لو صلی احد بغیر اذن الخطیب لا یجوز." (ص ۱۴۳ ج ۲ سعید) اور ص ۵۶۴ ج ۱ میں ہے:" و نصب العامة الخطیب غیر معتبر" بعض ظاہر میں عالم مذکورہ فقہی روایات سے اس بات پر استدلال کرتے ہیں کہ نائب مقرر کرنے کا حق شرعاً صرف امام کو ہے ۔
المستفتی :عبدالوہاب ،سکریٹری مسجد کمیٹی۔
(جواب ۱۶۰) (۱) اگر مسجد کی کوئی کمیٹی ہے تو وہ امام یا نائب امام مقرر کرنے کی مستحق ہے لیکن اگر کمیٹی نہیں ہے تو مسجد کے نمازیوں کی جماعت کا حق ہے ۔
(۲) نائب امام وہی ہوگا ،جس کو مسجد کی کمیٹی یا نمازیوں کی کثرت رائے سے مقرر کیا گیا ہے، صرف امام کو تنہا اس کا اختیار نہیں ہے خصوصاً جب کہ امام خود بھی امامت کا تنخواہ دار ملازم ہو ۔
(۳) خطیب سے تنخواہ دار خطیب مراد نہیں ہے ،کیوں کہ تنخواہ دار خطیب تو ملازم مستاجر ہے، اس کے اوپر احکام استیجار کے نافذ ہوں گے ۔
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘ دہلی۔“
(کتاب الصلوۃ،تیسرا باب: امامت و جماعت، 123/3، ط: دار الاشاعت)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
” امام کا ناغہ کرنا:
(سوال615)اگر کوئی امام باوجود تنخواہ پانے امامت کے کبھی کبھی مسجد سے غیر حاضر ہو جائیں تو کیا حکم ہے؟
الجواب: شامی جلد ثالث کتاب الوقف (419/4،ط: سعید)میں ہے:"إمام يترك الإمامة لزيارة أقربائه في الرساتيق أسبوعا أو نحوه أو لمصيبة أو لاستراحة لا بأس به ومثله عفو في العادة والشرع."اس کا حاصل یہ ہے کہ امام اپنی ضروریات یا راحت کے لیے ایک ہفتہ یا اس کے قریب یعنی 15 دن سے کم تک عادتا غیر حاضری اور عرفا و شرعا جائز ہے، پھر اگے تصریح کی ہے کہ سال بھر میں ہفتے دو ہفتے غیر حاضر ہو تو معاف ہے پس صورت مسئولہ کا حکم بھی اس سے سمجھ لینا چاہیے گاہ گاہ کی غیر حاضری امام کو معاف ہوگی۔"
(کتاب الصلوۃ، باب الامامۃ و الجماعۃ،ص:460، ج:1، حصہ سوم، ط: دار الاشاعت)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
”امام کے لیے وقت پر حاضری ضروری ہے:
(سوال 197): ہمارے امام صاحب عشاء کی نماز میں عام طور پر دیر سے آتے ہیں، گاہے گاہے غیر حاضر بھی رہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میرا کھانا عین نماز کے وقت آتاہے، اور حدیث شریف میں ہے کہ جب کھانا سامنے آجاوے تو اولاً کھانا کھا کر فارغ ہو جائے، پھر نماز پڑھو کیا یہ عذر ٹھیک ہے؟
(الجواب) :امام اس حکم سے مستثنی ہے، کیوں کہ اس صورت میں مصلیوں کو انتظار کی زحمت و پریشانی ہوگی اور نماز میں تاخیر ہو گی لہذا امام کو وقت کا اہتمام (کرنا) چاہیے البتہ اس مسجد میں نائب امام ہیں تو پھر حرج نہیں، مگر اس طرح تاخیر کی عادت بنا لینا مناسب نہیں، امام ہو یا مقتدی کھانا کھا کر جلدی فارغ ہوجائے، یا کھانے کا وقت بدل دے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔“
(کتاب الصلوۃ،باب الامامۃ والجماعۃ، ص: 754، ج:1، حصہ چہارم، ط: دار الاشاعت کراچی )
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
”سوال : (۵۸۲) کیا امام یا مقتدی کا دس پانچ منٹ انتظار کرنا درست ہے؛ جب کہ وقت جماعت مقرر ہے؟ (۱۳۴۵/۶۵۶ھ)
الجواب: جب کہ وقت میں گنجائش کافی ہے تو انتظار درست ہے (۴) فقط (۵۹/۳)“
(کتاب الصلوۃ،امامت کے احکام و مسائل،95/3، ط:مکتبہ دار العلوم دیوبند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100662
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن