
امام کی غیر موجودگی میں معتکف کا نماز کروانا کیسا ہے؟
اگر امام موجود نہ ہو تو انتظامیہ کی طرف سے جس کو نائب مقرر کیا جائے وہ امامت کا حق دار ہو تاہے،لیکن اگر امام اور اس کا نائب دونوں موجود نہ ہوں تو موجود افراد میں سے سب سے زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو نماز کے مسائل سے سب سے زیادہ واقف ہو اور اُسے اتنا قرآنِ پاک یاد ہوکہ نماز میں مسنون قراءت کی مقدار تجوید کے مطابق کرسکے، بشرط یہ کہ کھلے عام کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو۔لہذا اگر معتکفین میں سے کوئی ایسا شخص موجود ہے تو وہ بھی جماعت کراسکتا ہے۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"(و الأحقّ بالإمامة) تقدیمًا بل نصبًا مجمع الأنھر (الأعلم بأحکام الصلاۃ) فقط صحةً و فسادًا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، و قیل واجب، و قیل: سنة (ثم الأحسن تلاوۃ) و تجویدًا (للقراءۃ، ثم الأروع) أي: الأکثر اتقاء للشبھات."
(کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،ج1،ص557،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144609102096
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن