بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1447ھ 08 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے لیے مسجد کے پانی کی رقم کو بطور قرض لینا کا حکم


سوال

مقتدی مسجد کے امام کو مسجد کے پانی کے لیے پیسے دیتے ہیں یا کبھی امام خود چندہ کرتا ہے۔ اگر پانی موجود ہو تو وہ پیسے اپنے استعمال میں لے لیتا ہے، اور جب پانی ختم ہو جائے تو دوبارہ پانی ڈلواتا ہے۔ تو کیا امام کا ان پیسوں کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے؟ یا اس کے لیے دینے والوں سے اجازت لینا ضروری ہوگا؟
مزید یہ کہ انتظامیہ خود چندہ کرکے مسجد کے کسی کام میں پیسہ خرچ نہیں کرتی، جبکہ امام خرچ بھی کرتا ہے اور لوگ اس پر اعتماد بھی رکھتے ہیں، اس لیے وہ امام کو دیتے ہیں مگر انتظامیہ کو نہیں دیتے، کیوں کہ لوگ ان پر بھروسہ نہیں کرتے۔

جواب

امامِ مسجد یا مسجد انتظامیہ کی جانب سے مسجد کے جس متعین کام کے حوالہ سے چندہ جمع کیا جاتا ہے،وہ  جمع شدہ رقم اسی کام میں صرف کرنا شرعا لازم ہوتا ہے، چندہ کرنے والے فرد یا اتنظامیہ کو مذکورہ رقم میں اپنی مرضی سے تصرف کا یا مذکورہ رقم خود استعمال کرنے کا شرعا اختیار نہیں ہوتا،لہذا صورتِ مسئولہ میں مسجد کے پانی کے لیے  جو رقم امام صاحب کو دی گئی ہو، وہ رقم  امام صاحب کے لیے اپنے  ذاتی استعمال لانا جائز نہیں ہوگا،ذاتی ضرورت کے لیے کسی سے قرض لیا جا سکتاہے،تاہم مسجد کی رقم لینا جائز نہیں ۔

البحر الرائق میں ہے:

"أن القيم ليس له ‌إقراض مال ‌المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه."

(كتاب الوقف، تصرفات الناظر في الوقف، ج : 5، ص : 259، ط :دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101196

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں