بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا مسجد میں کھانا کھانے کا حکم


سوال

 ہم امام مسجدہیں اورہم عصرتاعشاء مسجدمیں ہی ذکروتلاوت میں لگےرہتےہیں،  اگرہم مسجد میں رات کاکھانا کھالیں توکوئی حرج تونہیں؟

جواب

واضح ہو کہ مسجد بنانے کا مقصد ذکراللہ اور عبادتِ الہٰی  ہے، مسافر اور معتکف کے علاوہ افراد کے لیے مسجد میں کھانا، پینا اور سونا مکروہ ہے،کیوں کہ مسجد اس طرح کے کاموں کے لیے نہیں ہے، البتہ صرف مسافر اور معتکف کے لیے بوجہ ضرورت مسجد میں کھانے، پینے اور سونے کی گنجائش ہے، اسی طرح اگر کبھی چھوٹی موٹی چیز (مثلًا کھجور یا پانی وغیرہ) کھانے کی نوبت آجائے تو معتکف اور مسافر کے علاوہ عام آدمی بھی اعتکاف کی نیت کر کے کھا پی سکتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ   چونکہ عصر سے عشاء تک مسجد میں ہی قیام پذیر رہتے ہیں، تو ایسی صورت میں مسجد میں داخل ہوتے وقت ہی اعتکاف کی نیت کر لیا کریں، پھر اس کے بعد مسجد میں کھانا کھانے کی اجازت ہوگی۔تاہم اگر مسجد سے خارج حصہ میں کھانے کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے، تو پھر مسجد کو ان کاموں کے لیے استعمال کرنا بالکل بھی درست نہیں ہے، بلکہ یہ مسجد کی بے ادبی ہے، اس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" وأكل، ونوم إلا لمعتكف وغريب : (قوله: وأكل ونوم إلخ) وإذا أراد ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف، فيدخل ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى، أو يصلي ثم يفعل ما شاء، فتاوى هندية."

(‌‌كتاب الصلاة، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، ج:1، ص:661، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ويكره النوم والأكل فيه لغير المعتكف، وإذا أراد أن يفعل ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيه ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء، كذا في السراجية."

‌‌(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد، ج:5، ص:321، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101294

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں