بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کا آیت کے درمیان میں وقف کرکے دوبارہ بغیر ملائے آگے سے پڑھنا


سوال

ایک مسجد کے غیر حافظ اور مولانا امام صاحب جان بوجھ کر بے محل وقف کرتے ہیں، پھر دو تین الفاظ پہلے سے ملائے بغیر آگے سے تلاوت شروع کرتے ہیں۔ مثلاً سورۂ فتح کی آخری آیت میں: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِپر رک جاتے ہیں، پھر پچھلے الفاظ سے ملائے بغیر آگے سے پڑھتے ہیں: رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًااسی طرح:كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِپر رک جاتے ہیں، پھر ملائے بغیر آگے سے پڑھتے ہیں:يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَاسی طرح سورۂ فرقان کی آیت 75 میں أُولَٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُواپر رک کر، ملائے بغیر آگے سے پڑھتے ہیں: وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًامیرا گمان ہے کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ اس کے بعد والی دو آیات کے درمیان وقف موجود ہے: خَالِدِينَ فِيهَا ۚ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًاقُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۖ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًاشاید انہی کے مطابق انہوں نے پچھلی آیت میں بھی اپنی طرف سے ایک وقف بنا لیا ہے، حالانکہ سانس خواہ کتنی ہی کم ہو، آیت: أُولَٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا میں درمیان میں وقف کرنے کی بظاہر ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیا میں انہیں اس طرح بے محل اور اپنی مرضی سے وقف کرنے سے منع کر سکتا ہوں؟ یا پھر میری یہ ناگواری اور بے چینی ہی غلط ہے؟

جواب

 اگر تلاوت کرنے والا قرآن کے معانی کو سمجھتا ہو اور اسے معلوم ہو کہ آیت کے درمیان وقف کرنے میں معنی میں کوئی خرابی نہیں آرہی اور وہ آیت کے درمیان وقف کر لیتا ہے تو اس طرح وقف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لہذا مذکورہ امام صاحب کا ذکر کردہ مواقع پر وقف کرنا درست ہے، سائل کو مذکورہ معاملہ میں تشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

البرہان فی علوم القرآن میں ہے:

"فالتام هو الذي لا يتعلق بشيء مما بعده فيحسن الوقف عليه والابتداء بما بعده كقوله تعالى:{وأولئك هم المفلحون} وأكثر ما يوجد عند رءوس الآي كقوله: {وأولئك هم المفلحون} ثم يبتدئ بقوله: {إن الذين كفروا} وكذا: {وأنهم إليه راجعون} ثم يبتدئ بقوله: {يا بني إسرائيل} وقد يوجد قبل انقضاء الفاصلة كقوله: {وجعلوا أعزة أهلها أذلة} هنا التمام لأنه انقضى كلام بلقيس ثم قال تعالى: {وكذلك يفعلون} وهو رأس الآية ۔۔۔۔۔۔والكافي منقطع في اللفظ متعلق في المعنى فيحسن الوقف عليه والابتداء أيضا بمابعده نحو: {حرمت عليكم أمهاتكم} هنا الوقف ثم يبتدئ بما بعد ذلك وهكذا باقي المعطوفات وكل رأس آية بعدها لام كي وإلا بمعنى لكن وإن المكسورة المشددة والاستفهام وبل وألا المخففة والسين وسوف على التهدد ونعم وبئس وكيلا وغالبهن كاف ما لم يتقدمهن قول أو قسم وقيل أن المفتوحة المخففة في خمسة لا غير البقرة: {وأن تصوموا} {وأن تعفوا} {وأن تصدقوا} {والنساء} {وأن تصبروا} {والنور} {وأن يستعففن}۔"

(النوع الرابع والعشرون، معرفة الوقف والابتداء، ج: 1، ص:352، ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں