بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حافظ ابن ِعون رحمه الله کے قول: ’’اپنے اعمال کی تعداد پر یقین نہ کرو۔۔۔الخ‘‘ کی تخریج


سوال

کیا درجِ ذیل قول  ، حافظ ابن ِعون رحمہ اللہ   کاہے ؟رہنمائی فرمائیں:

’’اپنے اعمال کی تعداد پر یقین نہ کرو ؛کیوں کہ تم نہیں جانتے کہ وہ تم سے قبول ہوں گے یا نہیں؟ اور اپنے گناہوں سے بےفکر نہ رہو؛ کیوں کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے پاس کفارہ ہوگا یا نہیں؟‘‘۔

جواب

سوال میں آپ نے امام ابنٍِ عون رحمہ اللہ کا جو قول ذکر کے اس کے متعلق  دریافت کیا ہے ، یہ قول"شعب الإيمان للبيهقي"، "جامع العلوم والحكم لابن رجب"، "تاريخ دمشق لابن عساكر"، "التوبة لابن أبي الدنيا"میں مذکو ر ہے۔  "شعب الإيمان للبيهقي" میں  اس قول کے مکمل الفاظ درج ذیل   ہیں:

"أخبرنا أبو سعيد الصيرفيُّ، أنا أبو عبد الله الصفّار، نا أبو بكر بنُ أبي الدنيا، حدّثني عليُّ بن أبي مريمَ عن محمّد بن سعيدٍ عن أشعثَ بن شُعبةَ قال: قال ابنُ عَونٍ: لَا تَثِقْ بِكَثْرَةِ الْعَمَلِ؛ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي تُقْبَلُ مِنْكَ أَمْ لَا، وَلَا تَأْمَنْ ذُنُوبَكَ؛ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي هَلْ كُفِّرَتْ عَنْكَ أَمْ لَا، إِنَّ عَمَلَكَ عَنْكَ مُغَيَّبٌ، مَا تَدْرِي مَا اللهُ صَانِعٌ فِيهِ، أَيَجْعَلُهُ فِي سِجِّينَ أَمْ يَجْعَلُهُ فِي عِلِّيِّين".

(شعب الإيمان، معالجة كل ذنب بالتوبة، فصل في محقرات الذنوب، 9/428، رقم الحديث:6930، ط: مكتبة الرشد للنشر والتوزيع-الرياض)

ترجمہ:

’’(حافظ ) ابنِ عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اپنے اعمال کی کثرت پر یقین نہ رکھو؛کیوں کہ تمہیں نہیں   معلوم   کہ وہ  تمہاری طرف سے   قبول ہوں  گے یانہیں؟اورنہ  اپنے گناہوں سے بےفکر رہو؛کیوں کہ تمہیں نہیں  معلوم کہ وہ تمہاری طرف سے  کفارہ ہوں گے یانہیں؟! (یعنی وہ معاف ہوں گے یانہیں؟)بلاشبہ تمہارا عمل  تم سے پوشیدہ ہے، تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالی  اس کے بارے میں کیا  فیصلہ کریں گے؟!آیا اُسے ’’سجین‘‘(جہاں کفار فجار کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں)میں رکھیں گے یاعلییین ( جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں)میں رکھیں گے ؟!‘‘۔

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144503100817

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں