
کسی ادارے کی رہائشی مسجد میں ایک امام مقرر ہے، لیکن اسے بعض دنوں میں ظہر کی نماز مقررہ وقت پر پڑھانے کا وقت نہیں ملتا، اس لیے کوئی دوسرا شخص جماعت کرا دیتا ہے۔ اب صرف اس وجہ سے کہ زیادہ لوگ جماعت میں شریک ہو سکیں، کیا وہ دوسرا شخص ظہر کی جماعت کا وقت آگے یا پیچھے کر سکتا ہے، یا یہ اختیار صرف مسجد کے ذمہ داران یا مقرر امام کو ہے؟
واضح رہے کہ مسجد میں نمازِ باجماعت کے اوقات کا تعین اور دیگر انتظامی امور کا اختیار شرعاً امامِ راتب یا مسجد کی انتظامیہ کو حاصل ہے۔اگر امامِ راتب کی غیر موجودگی میں کوئی شخص بطورِ نائب نماز پڑھا رہا ہو تو اسے جماعت کا مقررہ وقت اپنی رائے سے آگے یا پیچھے کرنے کا اختیار نہیں، کیونکہ وہ صرف امامت کا نائب ہے، انتظامی اختیارات کا نہیں ہے۔اگرچہ زیادہ افراد کے ساتھ جماعت کا اہتمام باعثِ فضیلت ہے، لیکن اس مصلحت کی بنا پر مقررہ نظم میں ازخود تبدیلی کرنا درست نہیں۔ ایسی تبدیلی کا اختیار صرف امامِ راتب یا مسجد کی انتظامیہ کو ہے، تاکہ مسجد کا نظم برقرار رہے اور اختلاف و نزاع پیدا نہ ہو۔
نماز کے اوقات عوام الناس کی سہولت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں، ہر آئے دن اگر کوئی ان میں تبدیلی کرے گا تو یہ عوام میں بے چینی،منازعت اور ان کے لیے تکلیف کا باعث بنے گا؛ لہٰذا وقت کا تعین مسجد کا امام راتب اور مسجد انتظامیہ عوام الناس کی سہولت کو مدِ نظر رکھ کر کریں گے کسی اور کو وقت تبدیل کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نائب امام یا قائم مقام اپنی مرضی سے ظہر یا کسی بھی نماز کی جماعت کا وقت تبدیل نہیں کر سکتا، بلکہ اس کے لیے مسجد کی انتظامیہ یا امامِ راتب کی اجازت ضروری ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولاية الأذان والإقامة لباني المسجد مطلقا وكذا الإمامة لو عدلا.
(قوله: مطلقًا) أي عدلًا أو لا. و في الأشباه: ولد الباني وعشيرته أولى من غيرهم اهـ وسيجيء في الوقف أن القوم إذا عينوا مؤذنا وإماما وكان أصلح مما نصبه الباني فهو أولى، وذكره في الفتح عن النوازل وأقره. اهـ. مدني."
(كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:1،ص:400، ط: دار الفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وقيد في السراج الوهاج تقديم الأعلم بغير الإمام الراتب، وأما الإمام الراتب فهو أحق من غيره،"
(كتاب الصلاة، باب الامامة، الأحق بالامامة في الصلاة، ج:1، ص:368، ط:دار الكتاب الاسلامي)
التجريد للقدوری میں ہے:
"لنا: ما روى أبو مسعود الأنصاري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (لا يؤم الرجل الرجل في سلطانه، ولا يجلس على تكرمته إلا بإذنه)."
(كتاب الصلاة، مسائل الجنائز، ج:3، ص1100، ط:دار السلام)
معراج الدراية في شرح الهداية میں ہے:
"وينتظر المؤذن الناس، ويقيم للضعيف المستعجل، ولا ينتظر رئيس المحلة وكبيرها،"
(كتاب الصلاة، باب الاذان، ج:1، ص:537، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ ہندی میں ہے:
"وينتظر المؤذن الناس ويقيم للضعيف المستعجل ولا ينتظر رئيس المحلة وكبيرها. كذا في معراج الدراية."
(كتاب الصلاة، الباب الثاني، الفصل الثاني، ج:1، ص:57، ط:دار الفكر)
شرح المجلہ میں ہے:
"الضرورات تبيح المحظورات أي أن الاشياء الممنوعة تعامل كالأشياء المباحة وقت الضرورت."
(المقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج:1، ص:24، رقم المادۃ:21، ط:رشیدیة)
البحر الرائق میں ہے:
"ينبغي للمؤذن مراعاة الجماعة، فإن رآهم اجتمعوا أقام وإلا انتظرهم"
(كتاب الصلاة، الجمع بين الصلاتين،جلوس المؤذن بين الاذان والجماعة، ج:1، ص:276، ط:دار الكتاب الاسلامي)
وفيه أيضاً:
"ينبغي للمؤذن مراعاة الجماعة، فإن رآهم اجتمعوا أقام وإلا انتظرهم"
(كتاب الصلاة، الجمع بين الصلاتين، ج:1، ص:271، ط:دار الكتاب الاسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101427
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن