بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 صفر 1448ھ 06 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

امام اور مدرس کے لیے سالانہ چلہ لگانا


سوال

میری مشغولیت مسجد میں دو وقت نماز پڑھانا اور بقیہ اوقات میں مدرسہ پڑھانا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر سال تبلیغ میں چلہ لگاؤں لیکن مدرسہ اور امامت کی ذمہ داری اور مصروفیت کے باعث نہیں لگا سکتا،خاص طور پر  ہر سال چلہ کا اہتمام مشکل ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے ضروری ہے کہ میں چلہ پر جاؤں یا پھر اسے ترک کردوں؟ لوگ کہتے ہیں کہ وقت لگانا چاہیے، راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

مروجہ تبلیغی ترتیب میں  وقت لگانا اپنی اصلاح    اور دین کی دعوت کے احساس کے اجاگر کرنے کے لیے ایک مفید عمل اور دین کی تبلیغ کا ایک ایسا  طریقہ کار ہے جس کی افادیت  سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم امامت اور تدریس بذات خود  دین کے مستقل اور اہم شعبہ جات ہیں، اگر سائل  امامت اور تدریس کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہے تو اس کے لیے اپنے فرائض منصبی کو نبھانااولی ہے، نیز تدریس کی تعطیلات  کے ایام میں، اگر سائل کسی اور کو امامت سپرد کرکے چلہ پر جانا چاہے بایں طور کہ اس کی غیرموجودگی سے ذمہ داریوں میں خلل نہ پڑے تو  متعلقہ انتطامیہ سے اجازت لے کر سائل کے لیے چلہ میں جانا درست ہوگا۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:

"وَمَنۡ أَحۡسَنُ قَوۡلٗا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ"(سورۃ حم سجدہ :33)

ترجمہ:  اور بات کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں فرماںبرداروں میں سے ہوں۔

صحیح بخاری میں ہے:

"....فوالله لأن يهدي الله بك رجلًا واحدًا، خير لك من أن يكون لك حمر النعم."

(باب مناقب علي بن أبي طالب، ج: 5، ص: 18، ط: دار طوق النجاة)

ترجمہ:"(آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا)... پس اللہ کی قسم اگر اللہ آپ کے ذریعے سے کسی ایک آدمی کو راہ راست پر لے آئے تو یہ آپ کے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے"

الدرالمختار میں ہے:

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى......وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل."

(کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر، ج: 6، ص: 69-70، ط: دارالفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100099

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں