بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

علمِ کلام اور مناظرے سے اجتناب کرنے سے متعلق امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تخریج


سوال

کیا یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے ؟رہنمائی فرمائیں:

میں نے سوچا کہ صحابہ اور کبار تابعین ہم سے زیادہ عالم اور ماہر تھے، مگر انہوں نے ان مسائل میں بحثیں نہیں کیں ۔ میں نے دیکھا کہ جو لوگ علمِ کلام اور مناظروں سے وابستہ ہیں، ان کے طور طریق اور انداز سلف صالحین کے طریقہ پر نہیں ہیں۔

جواب

مذکورہ قول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے، اور اس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ علمِ کلام اپنی جگہ ایک مفید علم ہے، لیکن چونکہ اس کا مدار بحث و مناظرہ پر ہوتا ہے، اس لیے اس میں زیادہ مشغولیت سے طبیعت میں سختی اور عمل سے غفلت پیدا ہوجاتی ہے۔ سلفِ صالحین نے اسی وجہ سے اس علم کو اپنا مشغلہ نہیں بنایا۔ ان کی اصل توجہ فقہ، حدیث اور دیگر عملی علومِ شریعت پر ہوتی تھی، اور وہی ان کے نزدیک دین کے لیے زیادہ نفع بخش تھے۔ نیز یہ بھی دیکھا گیا کہ علمِ کلام میں حد سے زیادہ دلچسپی رکھنے والے افراد  بس اوقات  سخت مزاج اور عمل سے کچھ دور ہو جاتے ہیں۔امام صاحب رحمہ اللہ نے اپنے زمانہ میں علمِ کلام سے وابستہ لوگوں میں ایسا محسوس کیا ہوگا،  اور اسی تناظر میں یہ  ارشاد فرمایا ہوگا،  اس قول کایہی مطلب ہے، اس کا مقصد علمِ کلام کی نفی یا اس کی اہمیت کو گھٹانا ہرگز نہیں ہے۔ 

حوالہ ملاحظہ فرمائیے:

"قال: قال الإمام: كنت أعطيت جدلا فى الكلام، وأصحاب الأهواء فى البصرة كثيرة، فدخلتها نيف وعشرين مرة، وربما قمت بها سنة أو أكثر ظنا، إن علم الكلام أجل العلوم فلما مضى مدة عمري، تفكرت، وقلت: السلف كانوا أعلم بالحقائق ولم ينتصبوا مجادلين بل أمسكوا عنه، وخاضوا فى علم الشرائع، ورغبوا فيه، وتعلموا، وعلموا، وتناظروا عليه، فتركت الكلام، واشتغلت بالفقه ورأيت المشتغلين بالكلام ليس سيماهم سيماء الصالحين، قاسية قلوبهم، غليظة أفئدتهم، لا يبالون بمخالفة الكتاب والسنة، ولو كان خيرا لاشتغل به السلف الصالحون هذا".

(الجواهر المضية في طبقات الحنفية: فصل في اعتقاده (1/ 468)، ط.ميرمحمد كتب خانه كراتشي باكستان) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144503101417

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں