
(۱): کیا امام ابو حنیفہ، امام جعفر الصادق رحمہما اللہ کے شاگرد تھے؟
(۲): کیا امام جعفر الصادق رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ گمان رکھتے تھے کہ ابو حنیفہ حدیث کو چھوڑ کر اپنے اجتہاد پر عمل کرتے ہیں، اور اسی مسئلے میں کیا ان دونوں شخصیات کا مناظرہ بھی ہوا تھا؟ اور امام جعفرؒ نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو مسائل بتانے سے منع کیا تھا؟
(۳): کیا امام ابو حنیفہ کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوتا تو میں بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کرتا؛ کیوں کہ وہ باغی تھے، یہ بات تمہید ابو شکور سالمی میں مذکور ہے، کیا یہ درست ہے؟
(۴): نیز براہِ کرم اس کے ساتھ ساتھ اس کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں بھی کچھ بتادیں۔
(۱):واضح رہے کہ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ اہل بیت میں سے بڑے محدث تھے، اور اہل سنت والجماعت میں سے تھے، حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی، امام جعفر صادق رحمہ اللہ کے ہم عصر اور ہم عمر تھے، دونوں ایک ہی سال ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ دراصل حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے والد ماجد حضرت محمد باقر رحمہ اللہ کے شاگرد تھے، لیکن حضرت باقر رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد کچھ مجالس میں اُن کے بیٹے جعفر صادقؒ کی مجالس میں بھی شریک ہوئے، جس کی بنا ء پر بعض مؤرخین نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے اساتذہ میں حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ تعالی کو بھی شمار کیا ہے۔ [ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 1]
(۲): ایسا ایک واقعہ ابونُعيم اصفہانیؒ نے اپنی کتاب، ’’حلیۃ الاولیاء‘‘میں ذکر کیا ہے، جس میں یہ بات مذکورہ ہے کہ امام جعفر صادق ؒ اور امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی باہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے کچھ سوالات وجوابات کیے، جس میں یہ بھی درج ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ، امام جعفر صادق ؒ کے سوالات کے عقلی طور پر جوابات نہ دے سکے، جس سے نالاں ہو کر قیاس اور شرعی مسائل میں رائے زنی کرنے سے حضرت جعفر صادقؒ کا منع کرنا منقول ہے، لیکن ائمۂ جرح و تعدیل نے اس واقعہ کے راوی ’’ عمرو بن جميع ‘‘پر جرح کی ہے کہ "عمرو بن جميع "مسجد میں اس قسم کے جھوٹے واقعات بیان کیا کرتا تھا، اور وہ انتہائی جھوٹا اور خبیث آدمی تھا، امام نسائی ؒ سے اس کے بارے میں"متروك الحدیث" جیسے الفاظ منقول ہیں، نیز اس راوی کو"لیس بثقة، و غير مأمون"وغیرہ جیسے الفاظ سے بھی محدثین نے مطعون کیا ہے۔ [ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 2]
اس لیے ایسے واقعات قابلِ اعتبار نہیں، بلکہ ائمۂ اہلِ بیت سے امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کے بارے میں توصیف وثناء کے الفاظ منقول ہیں، جیسا کہ علامہ ابنِ حجر الہیثمی ؒ نے"الخیرات الحسان"میں صحیح واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت باقر رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ ؒ سے فرمایاکہ کیا آپ قیاس کے ذریعے ہمارے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی مخالفت کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں امام صاحبؒ نے کچھ سوالات کر کے خود امام باقرؒ سے ان سوالوں کے جوابات لیے، اور پھر اُن مسائل میں حدیث کے ساتھ اپنے مذہب کی موافقت بتاکر فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں حدیث کے مخالف کوئی بات کروں، بلکہ میں تو حضور ﷺ کی احادیث کا خادم ہوں، تو اس پر حضرت باقر رحمہ اللہ اپنی جگہ سے اُٹھے اور آپ ؒکی پیشانی کا بوسہ لیا ۔ [ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 3]
اسی طرح حافظ ابنِ عبد البر ؒ نے "الانتقاء" میں اسی طرح کا واقع نقل کیا ہے جس میں حضرت باقر ؒسے امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کے بار ے میں " ما أحسن هديه وسمته وما أكثر فقهه" جیسے الفاظ منقول ہیں ۔[ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 4]
(۳): یہ قول ابو شکور عبد السعید السالمی ؒ نے اپنی کتا ب "التمہید فی بیان التوحید" کے صفحہ ۳۲۶ (ط:دارابن حزم ) میں بغیر سند کے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔
تاہم اگر اس قول کی نسبت امام ابوحنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف درست بھی ہو، تب بھی مذکورہ قول کے سیاق وسباق کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ کتاب کا اس بات کے نقل کرنے کا مقصدحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کرنا نہیں ہے، بلکہ اس بات کو ثابت کرنا ہے کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک محارباتِ علی و معاویہ (رضی اللہ عنہما)میں حضرت علی رضی الله عنہ خلیفۂ برحق اور امام عادل تھے، اور اجتہادی اعتبار سے مبنی برصواب تھے، جب کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی اس معاملے میں اجتہادی خطاء پر تھے، لیکن اس کے باوجود اُن کی تکفیر یا تفسیق جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ معاملہ اجتہادی ہے، اور اسی بحث کے درمیان صاحبِ کتاب نے بطورِ استدلال کے امام صاحبؒ کا مذکورہ قول بھی نقل کیا ہے، لہٰذا اولاً تو یہ بات تحقیقی طور پر ثابت نہیں کہ امام صاحبؒ نے یہ بات کہی ہے، اور اگر ثابت ہوبھی جائے تو اس کی درست تاویل وہ ہے جو مذکورہ کتاب کی روشنی میں ابھی عرض کی گئی، لہٰذا اس قول کو سیاق وسباق سے کاٹ کر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں توہین وتنقیص کا ذریعہ بنانا کسی طرح بھی درست نہیں۔ [ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 5]
(۴): ابو شکور سالمی ؒ"اور ان کی تصنیف "التمہید فی بیان التوحید " کا مختصر تعارف ۔
ابو شکور سالمی ؒ کا تعارف :
آپ کا نام محمد، والد کا نام عبد السعید /عبد السید ہے، آپ کی شہرت "ابو شکور سالمی" کے نام سے ہی ہے، آپ کی تاریخ ِ پیدائش ووفات کے بارے میں حتمی طور پر تو کسی کتاب میں تذکرہ نہیں مل سکا، البتہ براکلمن نے تاریخ اللغۃ العربیہ میں آپ کو پانچویں صدی کے علماء میں شمار کیا ہے، آپ ؒ سنی، حنفی، ماتریدی تھے۔
آپ کے تفصیلی حالاتِ زندگی بھی ناپید ہیں، تاہم آپ کی کتاب کے مطالعے سے معلوم چلتا ہے کہ آپ اپنے دور کے بڑے مناظر تھے، اور علمِ کلام پر آپ کو ملکہ حاصل تھا۔
کتاب "التمہید فی بیان التوحید " کا تعارف :
آپ ؒ کی مذکورہ تصنیف علم العقائد، علم الکلام دونوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ،اس میں عقل، روح وغیرہ جیسے موضوعات پر بحث کی گئی ہے ،اور اس کتاب میں آپ نے معرفت وتوحید کے اصول واضح طور پر لکھ د یے ہیں۔ [ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 6]
[حوالہ نمبر1 ]:
ابو حنیفہ لابی زہرۃ میں ہے:
"وكما كان لأبي حنيفة اتصال علمى بالباقر، وكان له اتصال بابنه جعفر الصادق، وقد كان في سن أبي حنيفة رضي الله عنهما، فقد ولدا في سنة واحدة، ولكنه مات قبل أبي حنيفة، فقد توفى سنة ١٤٨ أي قبل أبي حنيفة بنحو سنتين، وقد قال أبو حنيفة فيه والله ما رأيت أفقه من جعفر بن محمد الصادق ولقد جاء في المناقب الموفق المكر أن أبا جعفر المنصور قال يا أبا حنيفة إن الناس قد فتنوا بجعفر بن محمد فهي له من المسائل الشداد، فهيا له أربعين مسالة، وإن أبا حنيفة يقول عندما دخل على أبي جعفر وهو بالحيرة وأتيته فدخلت عليه، وجعفر بن محمد جالس عن يمينه فلما بصرت به دخلتنى من الهيبة لجعفر بن محمد الصادق مالم يدخلني لأبي جعفر، فسلمت عليه، وأوماً فجلست ثم التفت إليه، فقال: يا أبا عبد الله هذا أبو حنيفة؟ فقال نعم. ثم التفت إلى فقال يا أبا حنيفة ألق على أبي عبد الله من مسائلك.. فجعلت ألقى عليه فيجيبنى، فيقول: أنتم تقولون كذا، وأهل المدينة يقولون كذا، ونحن نقول كذا، فربما تابعنا وربما تابعهم، وربما خالفناء حتى أتيت على الأربعين مسالة ثم قال أبو حنيفة: إن أعلم الناس أعلمهم باختلاف الناس وهذه الرواية تنبئ عن أن أبا حنيفة أحس بمنزلة جعفر الصادق عند أول لقاء وأن جعفراً كان له رأى فى الفقه ولاشك أن ذلك كان قبل أن يكون ما بين المنصور والعلويين من عداوة ولقد عد العلماء جعفراً هذا من شيوخ أبي حنيفة، وإن كان في سنه."
(أبو حنيفة حياته و عصره، آراؤه و فقهه، المبحث شيوخ أبي حنيفة، ص:٦٥، ٦٦، ط: دار الفكر العربي)
الامام الصادق ؒ لابی زہرہ میں ہے:
"إن للإمام الصادق فضل السبق، وله على الأکابر فضل خاص، فقد کان أبو حنيفة يروي عنه، ويراه أعلم الناس باختلاف الناس، وأوسع الفقهاء إحاطة، وکان الإمام مالک يختلف إليه دارساً راوياً، وکان له فضل الأستاذية على أبي حنيفة فحسبه ذلک فضلاً. وهو فوق هذا حفيد علي زين العابدين الذي کان سيّد أهل المدينة في عصره فضلاً وشرفاً وديناً وعلماً، وقد تتلمذ له ابن شهاب الزهري، وکثير من التابعين، وهو ابن محمد الباقر الذي بقر العلم ووصل إلى لبابه، فهو ممن جعل الله له الشرف الذاتي والشرف الإضافي بکريم النسب، والقرابة الهاشمية، والعترة المحمديةَ."
(الامام الصادق، ص:٩٠، ط: دار الفكر العربي)
الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم میں ہے :
"النعمان بن ثابت أبو حنيفة مولى بني تيم الله [بن ثعلبة] روى عن عطاء ونافع وأبي جعفر محمد بن علي وقتادة وسماك بن حرب وحماد بن أبي سليمان. روى عنه هشيم وعباد بن العوام وابن المبارك ووكيع وعبد الرزاق وأبو نعيم، ثم تركه ابن المبارك بأخرة سمعت أبي يقول ذلك."
(النعمان بن ثابت أبو حنيفة مولى بني تيم الله، ٨/ ٤٤٩، ط: دارإحياء التراث العربي)
[حوالہ نمبر2]:
حلیۃ الاولیاء للاصفہانی میں ہے :
"حدثنا عبد الله بن محمد ثنا الحسن بن محمد ثنا سعيد بن عنبسة ثنا عمرو ابن جميع. قال: دخلت على جعفر بن محمد أنا وابن أبي ليلى وأبو حنيفة.
وحدثنا محمد بن علي بن حبيش حدثنا أحمد بن زنجويه حدثنا هشام بن عمار حدثنا محمد بن عبد الله القرشي بمصر ثنا عبد الله بن شبرمة. قال: دخلت أنا وأبو حنيفة على جعفر بن محمد. فقال لابن أبي ليلى: من هذا معك؟ قال هذا رجل له بصر ونفاذ في أمر الدين. قال: لعله يقيس أمر الدين برأيه. قال: نعم! قال فقال جعفر لأبي حنيفة: ما اسمك؟ قال: نعمان. قال يا نعمان هل قست رأسك بعد؟ قال: كيف أقيس رأسي؟! قال: ما أراك تحسن شيئا، هل علمت ما الملوحة في العينين، والمرارة في الأذنين، والحرارة في المنخرين والعذوبة في الشفتين. قال: لا! قال: ما أراك تحسن شيئا، قال: فهل علمت كلمة أولها كفر وآخرها إيمان. فقال: ابن أبي ليلى: يا ابن رسول الله أخبرنا بهذه الأشياء التي سألته عنها. فقال: أخبرني أبي عن جدي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال: «إن الله تعالى بمنه وفضله جعل لابن آدم الملوحة في العينين لأنهما شحمتان ولولا ذلك لذابتا، وإن الله تعالى بمنه وفضله ورحمته على ابن آدم جعل المرارة في الأذنين حجابا من الدواب فإن دخلت الرأس دابة والتمست إلى الدماغ فاذا ذاقت المررة التمست الخروج، وإن الله تعالى بمنه وفضله ورحمته على ابن آدم جعل الحرارة في المنخرين يستنشق بهما الريح ولولا ذلك لأنتن الدماغ، وإن الله تعالى بمنه وكرمه ورحمته لابن آدم جعل العذوبة في الشفتين يجد بهما استطعام كل شيء ويسمع الناس بها حلاوة منطقه». قال: فأخبرني عن الكلمة التي أولها كفر وآخرها إيمان. فقال: إذا قال العبد لا إله فقد كفر فإذا قال إلا الله فهو إيمان. ثم أقبل على أبي حنيفة فقال: يا نعمان حدثني أبي عن جدي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أول من قاس أمر الدين برأيه إبليس. قال الله تعالى له اسجد لآدم فقال: {(أنا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين)} فمن قاس الدين برأيه قرنه الله تعالى يوم القيامة بإبليس لأنه اتبعه بالقياس». زاد ابن شبرمة في حديثه. ثم قال جعفر: أيهما أعظم قتل النفس أو الزنا؟ قال: قتل النفس. قال: فإن الله عز وجل قبل في قتل النفس شاهدين ولم يقبل في الزنا إلا أربعة. ثم قال: أيهما أعظم الصلاة أم الصوم؟ قال: الصلاة. قال: فما بال الحائض تقضي الصوم ولا تقضي الصلاة. فكيف ويحك يقوم لك قياسك! اتق الله ولا تقس الدين برأيك."
(جعفر بن محمد الصادق، ٣/ ١٩٧، ط: مطبعة السعادة)
الکامل للضعفاء لابن عدی میں ہے :
"عمرو بن جميع قاضي حلوان، يكنى أبا المنذر.
حدثنا ابن حماد، حدثنا عباس، عن يحيى، قال: شيخ، يقال له: عمرو بن جميع كان ببغداد وقع إلى حلوان ليس بثقة، ولا مأمون.
حدثنا ابن حماد، قال: حدثنا عباس، قال: سمعت يحيى يقول: عمرو بن جميع صاحب الأعمش وليث بن أبي سليم كان يحدث في المسجد وكان كذابا خبيثا، يقال له: الحلواني فكان قاضي حلوان.قال النسائي عمرو بن جميع متروك الحديث."
(عمرو بن جميع قاضي حلوان،٦/ ١٩٦، ط: دارالكتب العلمية)
[حوالہ نمبر 3]:
الخیرات الحسان میں ہے :
"وأجتمع في المدينة بمحمد بن الحسن بن علي رضي الله عنهم، فقال له: أنت الذي خالفت أحاديث جدي صلى الله عليه وسلم بالقياس؟ فقال: معاذالله من ذلك! أجلس، فإنَّ لك حرمة كحرمة جدك عليه أفضل الصلاة والسلام، فجلس، وجثى أبو حنيفة بين يديه، فقال له: الرَّجلُ أضعف أم المرأة؟ قال: المرأة، قال: المرأة كم سهمها؟ قال: نصف سهم الرجل، قال: لو قلت بالقياس، لقلبت الحكم، ثم قال: الصَّلاة أفضل أم الصوم؟ قال: الصلاة، قال: لو قلت بالقياس؛ لأمرت الحائض بقضائها دون قضائه، ثم قال: البول نجس أم النطفة؟ قال: البول، قال: لو قلتُ بالقياس؛ لأوجبت الغسل من البول دون المني، معاذ الله أن أقول على غير الحديث، بل أخدم قوله، فقام وقبل وجهه."
(الفصل الثانی والعشرون، ص:١٢٨، ط: دارالھدی والرشاد)
[حوالہ نمبر 4]:
الانتقاء لابن عبدالبر میں ہے :
"حدثنا حكم بن منذر رحمه الله قال نا أبو يعقوب يوسف بن أحمد قال نا أبو العباس محمد بن الحسن بن الفارض قال نا على بن عبد العزيز قال نا أبو إسحق الطائفى قال نا عمر بن هرون عن أبي حمزة الثمالي قال كنا عند أبي جعفر محمد بن علي فدخل عليه أبو حنيفة فسأله عن مسائل فأجابه محمد ابن علي ثم خرج أبو حنيفة فقال لنا أبو جعفر ما أحسن هديه وسمته وما أكثر فقهه."
(أبو جعفر محمد بن على بن حسن، ص:١٢٤، ط: دارالكتب العلمية)
[حوالہ نمبر 5]:
التمہید فی بیان التوحید لابی شکور السالمی الحنفی ؒ میں ہے :
"وروي عن أبي حنيفة رحمه الله أنه قال لأصحابه: أتدرون لم تبعضنا أهل الشام؟ فقالوا: لا. قال: لأنا نعتقد بأنا لو كنا حضوراً لكنا نعين عليا رضي الله عنه على معاوية، ونقاتل معاوية ۔۔۔ ثم نقول بأن الباغي لا يكفر ولا يفسق بدليل قوله تعالى: <وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا>، فالله تعالى سمى كلتي الطائفتين مؤمنا وهما جند معاوية وعلي رضي الله عنه. وروي عن النبي عليه السلام أنه قال للحسن: إن ابني هذا سيد وسيصلح الله تعالى به بين فئتين من المؤمنين، فالنبي عليه السلام جعل الفئتين مؤمنين، وفي هذا دليل على أن معاوية كان له حق الخلافة بعد علي رضي الله عنه؛ لأن النبي عليه السلام جوز الصلح فيما بينهما، وكان عادلاً بعد الصلح مع الحسن. وقد قلنا :إن الباغي لا يفسق لأن شهادته مقبولة بالاتفاق. والثاني أن الباغي مئول في دعواه لأن حد البغي أن يدعي الإمارة مع شبهة الدعوى. وكانت لهم شبهة الدعوى فتأولوا في ذلك وأخطأوا في تأويلهم، وخطؤهم ما كان من الكبائر فرضي الله عنه. حتى يوجب الفسق والكفر."
(القول فی خروج معاوية(رضي الله عنه)، ص:٣٢٦، ط: دارابن حزم)
شرح العقائد النسفية میں ہے:
"وما وقع من المخالفات و المحاربات لم يكن من نزاعٍ في خلافته، بل عن خطاء في الإجتهاد.
وفي هامشه:والمقصود منه دفع الطعن من معاوية و من تبعه من الأصحاب و عن طلحة و زبير و عائشة؛ فإن الواجب حسن الظن بأصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم و اعتقاد براءتهم عن مخالفة الحق؛ فإنهم أسوة أهل الدين و مدار معرفة الحق و اليقين."
(ص:١٥٢، ط: المصباح)
النبراس على شرح عقائدمیں ہے:
"خصه بالذكر؛ لأن حربه أشهر من حرب الباقين؛ و الخطاء هو الاستعجال في طلب قصاص عثمان رضي الله عنه زعماً أن التاخير يوجب جرءة العوام على الأكابر، و كثيراً ما يفوت المطلوب...الخ"
(ص:٥٠٢، ط: رشيدية)
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی للقاضی عیاض المالکی ؒ میں ہے :
"ومن توقيره وبره صلى الله عليه وسلم توقير أصحابه وبرهم، ومعرفة حقهم، والاقتداء بهم، وحسن الثناء عليهم، والاستغفار لهم، والإمساك عما شجر بينهم ومعاداة من عاداهم، والإضطراب عن أخبار المؤرخين، وجهلة الرواة، وضلال الشيعة والمبتدعين القادحة في أحد منهم.. وأن يلتمس لهم فيما نقل عنهم من مثل ذلك فيما كان بينهم من الفتن أحسن التأويلات. ويخرج لهم أصوب المخارج، إذهم أهل ذلك. ولا يذكر أحد منهم بسوء، ولا يغمص عليه أمر.. بل تذكر حسناتهم وفضائلهم وحميد سيرهم.. ويسكت عما وراء ذلك ۔۔۔ كما قال صلى الله عليه وسلم: «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا»."
(الفصل السادس توقير أصحابه وبرهم ومعرفة حقهم، ٢/ ١١٦،ط: دارالفيحاء)
[حوالہ نمبر6]:
كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون میں ہے:
"التمهيد، في بيان التوحيد: لأبي شكور محمد بن عبد السيد بن شعيب الكشي السالمي الحنفي. أوله: (الحمد لله ذي المن والآلاء …الخ). وهو: مختصر في أصول المعرفة والتوحيد. ذكر فيه: أن القول في العقل كذا، وفي الروح كذا … إلى غير ذلك. فأورد: ما يجوز كشفه، من علم الكلام."
(التمهيد في بيان التوحيد، ١/ ٤٨٤، ط: دارإحياء التراث العربي)
سلم الوصول إلى طبقات الفحول میں ہے :
"الإمام أبو شكور محمد بن عبد السيد بن سَعيد الكَشِّيّ السَّالميّ الحنفي، صاحب كتاب "التّمهيد."
(٣/ ١٧٤، ط: مکتبة إرسيكا)
الأثمار الجنية في أسماء الحنفية میں ہے :
"محمد بن عبد السيد بن شعيب السّالميّ أبو شكور الكشيّ. له (التمهيد في أصول التوحيد)."
(٢/ ٦٠٥، ط: مركزالبحوث والدراسات الاسلامية)
" موجز دائرة المعارف الإسلامية"میں ہے :
"ومن ممثلى مدرسة الماتريدى النابهين فى أواخر القرن الخامس الهجرى/ الحادى عشر الميلادى: أبو شكور السَّلْمى الكَشِّى، مؤلف كتاب "التمهيد فى بيان التوحيد"."
(الماتريدية، ٢٩/ ٨٩٦٣، ط: مرکزالشارقة للابداع الفکري)
خزينة التراث میں ہے :
"الفن:عقائد، عنوان المخطوط: التمهيد في بيان التوحيد، اسم المؤلف: محمد بن عبد السعيد بن شعيب السالمي، اسم الشهرة: أبو شكور السالمي."
(التمهيد في بيان التوحيد، ١١٥/ ٤٤١، ط: دارالفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144507100800
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن