بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عمامہ میں افضل رنگ/سفر وحضر میں آپ ﷺ کا عمامہ /عمامہ کی کم از کم مقدار


سوال

1-  حضور صلی اللہ علیہ وسلم عام معمول میں کس رنگ کی پگڑی باندھتے تھے ؟

2- سفید اور کالے رنگ کی پگڑیوں میں سے کس رنگ کی پگڑی باندھنا افضل ہے؟

3- سفر اور جہاد کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کون سے رنگ کی پگڑی باندھنے کا معمول تھا ؟

4- جس بندے کا عام معمول پگڑی باندھنے کا نہ ہوں وہ صرف جماعت کے لیے کندھے کے رومال سے پگڑی باندھے تو اس سے سنت ادا ہو جائے گی؟

5- پگڑی کی کم ازکم لمبائی کتنی ہونی چاہیے جس سے سنت ادا ہوجائے؟

جواب

1- آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام معمول میں سفید رنگ کا عمامہ باندھتے تھے اور امت کے لیے بھی سفید لباس کو پسند فرماتے تھے۔

2- حالتِ سفر میں سیاہ رنگ کا عمامہ باندھنا افضل ہے، اور حالتِ حضر میں سفید رنگ کا عمامہ افضل ہے۔

3- سفر اور جہاد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاہ رنگ کا عمامہ  باندھنے کا معمول تھا۔

4- عمامہ کے لیے کسی خاص کپڑے کا ہونا ضروری نہیں ہے، لہذا اگر کوئی شخص اپنے کندھے کے رومال سے ہی عمامہ باندھتا ہے، اور وہ رومال اس قدر ہے کہ کم از کم ایک بل سر پر آجائے تو اس سے بھی عمامہ کی سنت ادا ہوجائے گی۔

5-عمامہ کی سنت مقدار سات ہاتھ ہے اور بعض اوقات بارہ ہاتھ عمامہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، البتہ  عمامہ کی کم از کم کوئی مقدار متعین نہیں ہے، لیکن عمامہ  کم از کم اس قدر ہو کہ سر پر ایک بل باندھا جاسکے۔

مستدرك حاكم ميں ہے:

"وأصبح عبد الرحمن قد اعتم بعمامة من كرابيس سوداء، فأدناه النبي صلى الله عليه وسلم ثم نقضه ‌وعممه بعمامة بيضاء، وأرسل من خلفه أربع أصابع أو نحو ذلك وقال: هكذا يا ابن عوف اعتم فإنه أعرب وأحسن."

(کتاب الفتن والملاحم، ج:4، ص:582، ط:دار الکتب العلمیة)

ترمذی شریف میں ہے:

"عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: البسوا من ثيابكم البياض، فإنها من خير ثيابكم، وكفنوا فيها موتاكم."

(أبواب الجنائز، ج:2، ص:483، ط:دار الرسالة العالمية)

مرقات المفاتیح میں ہے: 

"وفي الجملة جاز لبس السواد في العمامة وغيرها وأن الأفضل البياض نظرا إلى أكثر أحواله عليه الصلاة والسلام فعلا وأمرا."

(كتاب المناسك، باب حرم مكة، ج:5، ص:1866، ط:دار الفكر)

الحاوی للفتاوی میں ہے:

"وكثيرا ما كان يعتم بالعمائم الحرقانية السود في ‌أسفاره ويعتجر اعتجارا قال: والاعتجار أن يضع تحت العمامة على الرأس شيئا."

(کتاب الصلاۃ، باب اللباس، مسائل متفرقة، ج:1، ص:83، ط:دار الفکر)

جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں ہے:

"والعمامة بالكسر: معروف، ووهم العصام حيث قال: بالفتح كالغمامة، وقد تطلق على المغفر والبيضة على ما في القاموس، قال ميرك: والمراد بها في ترجمة الباب كل ما يعقد على الرأس سواء كان تحت المغفر أو فوقه أو ما يشد على القلنسوة أو غيرها، وما يشد على رأس المريض أيضا انتهى...عن أبي الزبير عن جابر) أي ابن عبد الله الأنصاري (قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة يوم الفتح، وعليه عمامة سوداء) قال ميرك: وفي رواية مسلم بغير إحرام، واستدل بعض العلماء بهذا الحديث على جواز لبس السواد، وإن كان البياض أفضل، لما سبق من أن خير ثيابكم البيض."

(باب ماجاء في عمامة رسول الله صلي الله عليه وسلم، ج:1، ص:165، ط:المطبعة الشرفية)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

”سوال :تولیہ یا رومال بجائے عمامہ کے باندھ کر نماز پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اور تولیہ ٹوپی پر باندھنا مکروہ ہے یا نہیں؟ اور اس سے نماز پڑھانا مکروہ ہے یا نہیں؟ اور یہ اعتجار ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص اس پر طعن کرے اور الفاظ  جاہلانہ توہین کے کہے تو اس کو عتاب ہونا چاہئے یا نہیں؟

جواب:تولیہ و رومال ٹوپی پر باندھنا مکروہ نہیں ہے یعنی عمامہ کے طور پر باندھنا اور نماز اس سے مکروہ نہ ہو گی بلکہ اطلاق عمامہ کا اس پر آوے گا اور باندھنے والا مستحقِ ثواب ہو گا، اور یہ اعتجار مکروہ نہیں ہے عصابہ بمعنی عمامہ بھی آتا ہے اور پٹی جو سر پر باندھی جاوے اس کو بھی عصابہ کہتے ہیں ،العصابة تاتي بمعنى العمامة كما في القاموس وشرح شمائل للقارى، عمامہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت منقول ہے کہ آپ کے پاس دو عمامے تھے ایک سات ذراع کا اور ایک بارہ ذراع کا لیکن صحیح یہ ہے کہ اس میں کوئی تحدید شرعا نہیں ہے، بقدر ضرورت ہونا کافی ہے۔“

(کتاب الصلاۃ، فصل ثانی :مکروہات ِ صلاۃ، ج:4، ص:88، ط:دار الاشاعت)

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

”رومال کے ساتھ بلا کراہت نماز درست ہے بشرطیکہ رومال کچھ بڑا ہو کم از کم ایک بل سر پر آ جائے تو یہ عمامہ کے حکم میں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوٹا عمامہ بھی تھا اور  ایسا رومال معمول صلحاء ہے، لہذاکراہت سے خالی ہے۔ “

(باب فی احکام اللباس ، ج:2، ص:761، ط:جمیعت پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100219

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں