بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کی عدم موجودگی میں اکثریت اگر ایک شخص کے نماز پڑھانے پر راضی ہو اور کچھ مقتدی اختلاف کریں تو ایسے شخص کی امامت کا کیا حکم ہے؟


سوال

اگر مسجد میں دس  آدمی ہوں ،اور امام نہ آئے، اور ایک شخص  نمازپڑھانےکے لیےآگے ہو جائے، جس کے نماز پڑھانے کے حق میں چھ  مقتدی ہو، اور تین مقتدی نہ چاہیں کہ یہ نماز پڑھائے ۔تو کیا اس طرح  آدمی کو نماز پڑھانی چاہیےیا نہیں؟

 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  امام کی غیر موجودگی میں  جماعت کا وقت ہونے پر اگر کوئی ایسا شخص امامت کرادے جس میں امامت کی شرائط موجود ہوں تو یہ جائز ہے، اس سے  امام اور مقتدیوں کی نماز  ادا ہوجائے گی ، تاہم  مسئولہ صورت میں مذکورہ شخص میں اگر کوئی شرعی خرابی نہ  ہو،یعنی اعلانیہ فسق وفجور میں مبتلا نہ ہو، سنت کا پابند ہو، اور اس کے علاوہ کوئی  اور اس سے اچھا قرآن پڑھنے اور نماز کے مسائل سمجھنے والا نہ  ہو، تو ایسی شخص کا  نماز پڑھانا درست ہےاگرچہ کچھ لوگ اس شخص کے نماز پڑھانے کےحق میں نہ ہوں۔

مذکورہ مسئلے کا تعلق چوں  کہ انتظام سے بھی ہے؛  لہذا مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے تقرر  یا اجازت کے بغیر ایسا نہ کیا جائے؛تاکہ فتنہ نہ ہو ، اگر انتظامیہ نے امام کی  غیر موجودگی میں  یا امام نے خود اپنی غیر موجودگی میں کسی کو نائب مقرر کیا ہو تو وہی امامت کا زیادہ حق دار ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن (صاحب البيت) ومثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقًا (إلا أن يكون معه سلطان أو قاض فيقدم عليه) لعموم ولايتهما.......ولو أم قوما وهم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون» (وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم"

(قوله: مطلقًا) أي وإن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم وأقرأ منه. وفي التتارخانية: جماعة أضياف في دار نريد أن يتقدم أحدهم ينبغي أن يتقدم المالك، فإن قدم واحدا منهم لعلمه وكبره فهو أفضل، وإذا تقدم أحدهم جاز لأن الظاهر أن المالك يأذن لضيفه إكراما له. اهـ. (قوله: وصرح الحدادي إلخ) أفاد أن هذا غير خاص بالسلطان العام الولاية، ولا بالقاضي الخاص الولاية بالأحكام الشرعية، بل مثلها الوالي، وأن الإمام الراتب كصاحب البيت في ذلك. قال في الإمداد: وأما إذا اجتمعوا فالسلطان مقدم، ثم الأمير، ثم القاضي، ثم صاحب المنزل ولو مستأجرا، وكذا يقدم القاضي على إمام المسجد."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامة، ج:1، ص:599، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں