
مفتی صاحب! ہم ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں ایک امن کمیٹی مقامی سماجی مسائل کے حل کے لیے سرگرم ہے۔ ان دنوں مہر کی غیر مناسب مقدار ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے، کیونکہ اکثر شادیاں صرف اس وجہ سے مؤخر یا منسوخ ہو رہی ہیں۔
موجودہ صورتِ حال :
عام طور پر 3، 4 یا اس سے زائد تولے مہر رکھا جاتا ہے، جبکہ اکثر نوجوان ایک یا ڈیڑھ تولے کی ہی استطاعت رکھتے ہیں۔ بعض اوقات نمائشی طور پر 15 تولے لکھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں مہر اتنا نہیں دیا جاتا، کئی خواتین 5-6 تولے پر نکاح کرتی ہیں، لیکن شوہر عمر بھر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
سوالات برائے راہ نمائی :
1۔کیا گاؤں کی کمیٹی یا علماء شرعاً مہر کی مقدار متعین کر سکتے ہیں ؟ اگر ہاں، تو کتنی ہو کہ شرعی حد سے کم نہ ہو؟
2 ۔اگر مہر مقرر کرنا درست نہیں، تو متبادل شرعی حل تجویز فرمائیں تاکہ شادیاں آسان ہوں۔
3۔کیا نمائش کے طور پر 15 تولے مہر لکھنا جبکہ نیت اور ادائیگی کم ہو، جائز ہے ؟
4۔ اگر کسی خاتون کا مہر 5-6 تولے ہو اور شوہر زندگی بھر ادا نہ کر سکے، تو اس کا حل کیا ہے؟
1، 2۔شرعی طور پر مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کے بقدر چاندی(30 گرام 618 ملی گرام ) ہے یعنی اس سے کم مہر مقرر کرنا جائز نہیں اور زیادہ کی حد مقرر نہیں ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص کو قدرت ہو تو وہ اپنی قدرت کے موافق جتنا مہر مقرر کرےتو اتنا مہر لازم ہوجاتا ہے ،لیکن محض دکھلاوے کی غرض سے یا دباؤ میں آکراپنی طاقت اور قدرت سے زیادہ مہر مقرر کرنا مذموم ہے۔اگر گاؤں کی امن کمیٹی یا علماء گاؤں کے لوگوں کی استطاعت کو مدنظر رکھ کران کی آسانی کے لیے مہرکا اوسط درجہ مقرر کر دیں تو مضائقہ نہیں،مگر اس تعیین کا اعلان طرح بنایا جائے کہ شرعی حکم کی تصریح بھی اس میں موجود ہو ۔ مثلاً یہ عبارت ہو”شریعت مقدسہ میں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کے بقدر چاندی(30 گرام 618 ملی گرام ) ہے، اور زائد کے لئے کوئی حد معین نہیں ہے ۔ شوہر اپنی وسعت کے موافق جتنا ادا کرسکتا ہو مقرر کر سکتا ہے ۔ اس شرعی حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے امن کمیٹی گاؤں کے لوگوں کی آسانی کے لیے یہ حد مقرر کرتی ہے کہ : کم از کم مقدار تو وہی ہو جو عورت یا اس کا ولی منظور کرے اور شوہر اس کی ادائیگی کی استطاعت رکھتا ہو، مگر (دو تولہ سونے، مثلاً) سے تجاوز نہ کیا جائے۔“
تاہم ملحوظ رہے کہ اس کے خلاف کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنا جائز نہیں ہے۔ جو خلاف کرے اس کو صرف یہ تنبیہ کی جائے کہ لوگ اس کی تقریب میں شرکت نہ کریں اور اگر کوئی خاص شخص صاحبِ وسعت زیادہ مہر مقرر کرنے کی درخواست کرے تو کمیٹی میں اس کی درخواست پیش ہو اور کمیٹی مناسب سمجھے تو اس کو خاص طور پر اس شرط سے اجازت دے دے کہ وہ مہر بوقتِ عقد فوراً ادا کرے۔
3۔صرف دکھاوے کے لیے زیادہ مہر لکھوانا، جب کہ فریقین کے درمیان طے شدہ مہر اس سے کم ہو ریاکاری اور جھوٹ ہے، جو کہ ناجائز اور گناہ ہے۔
4۔اگر کسی عورت کا مہر پانچ ،چھ تولے مقرر تھا، اور وہ نہ اس نےوصول کیا اور نہ ہی اپنی مرضی سے معاف کیا، تو یہ مہر شوہر کے ذمے قرض رہے گا۔ اگر شوہر فوت ہوتے وقت اتنا مال چھوڑ گیا کہ اس سے مہر ادا ہوسکے، تو ترکہ میں سے مہر ادا کیا جائے گا۔ اور اگر اتنا مال نہ چھوڑا ہو کہ پورا مہر ادا ہوسکے، تو جتنا مہر باقی رہ گیا اس کا گناہ شوہر پر ہوگا۔
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"حدثنا هارون بن إسحاق، حدثني محمد بن عبد الوهاب، عن سفيان، عن سلمة بن كهيل عن جندب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من يرائي يرائي الله به، ومن يسمع يسمع الله به."
(أبواب الزهد، باب الرياء والسمعة، ج:5، ص:293، ط:دار الرسالة العالمية)
ترجمہ:”حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص دکھلاوا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عمل کا (قیامت کے دن) دکھلاوا کر دے گا،اور جو لوگوں کو سمع کرانے (اپنی نیکی کی شہرت کرنے) کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کر دے گا۔“
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أقل المهر عشرة دراهم مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا، وإن كانت قيمته أقل، كذا في التبيين وغير الدراهم يقوم مقامها باعتبار القيمة وقت العقد في ظاهر الرواية."
(کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل الأول في بيان مقدار المهر، ج:1، ص:302، ط:رشیدیة)
کفایت المفتی میں ہے:
”علاقہ والوں کی طرف سے مہر کی ایک مخصوص مقدار مقرر کرنا
(سوال)ایک مسلم جماعت نے بستی کے مسلمانوں کی شادیوں کی فضول خرچی کو روکنے کے لئے چند قواعد مرتب کئے ہیں ۔ ان میں مہر کے متعلق یہ حد مقرر کی ہے کہ کم سے کم سو روپے اور زیادہ سے زیادہ چھ سو چوبیس روپے مہر رکھا جائے ۔ اس حدود مہر سے کم یا زیادہ مہر رکھنے والا اپنی جماعت کا گنہگار سمجھا جاتا ہے اس مجرم کے لئے جرمانہ بھی مقرر ہے ۔ کیا شریعت حقہ میں مہر کے لئے کوئی حد مقرر ہے یا نہیں ۔ مذکورہ بالا حد بندی ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں ۔ ایسی حد بندی قائم کرنے والی جماعت حق بجانب ہے یا نہیں ؟ المستفتی نمبر ۱۱۵۴ حاجی محمد یوسف صاحب
(جواب۱۹۱ ) مہر کے لئے کم از کم مقدار دس درہم (تقریباً ڈھائی روپیہ) ہے اور زیادہ کی حد مقرر نہیں ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص کو قدرت ہو تو وہ اپنی قدرت کے موافق جتنا مہر مقرر کرے(مثلاً ہزار دو ہزار دس ہزار وغیرہ) تو اتنا مہر لازم ہوجاتا ہے لیکن اپنی طاقت اور قدرت سے زیادہ مہر مقرر کرنا مذموم ہے اگر کوئی انجمن اصلاح کے طور پر مہرکا اوسط درجہ مقرر کر دے تو مضائقہ نہیں۔مگر اس قاعدے کو اس طرح بنایا جائے کہ شرعی حکم کی تصریح بھی اس میں موجود ہو ۔ مثلاً یہ عبارت ہو (شریعت مقدسہ میں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہے۔ (۱) اور زائد کے لئے کوئی حد معین نہیں ہے ۔ شوہر اپنی وسعت کے موافق جتنا ادا کرسکے مقرر کر سکتا ہے ۔ اس شرعی حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے انجمن اصلاح کے لئے یہ حد مقرر کرتی ہے ۔ کم از کم مقدار تو وہی ہو جو عورت یا اس کا ولی منظور کرے مگر زیادتی کی جانب میں چھ سو چودہ روپے سے زیادہ تجاوز نہ کیا جائے، اس عبارت کے ساتھ قاعدہ بنایا جائے اور خلاف کرنے والے پر جرمانہ کرنا جائز نہیں ۔ جو خلاف کرے اس کو صرف یہ تنبیہ کی جائے کہ لوگ اس کی تقریب میں شرکت نہ کریں اور اگر کوئی خاص شخص صاحب وسعت زیادہ مہر مقرر کرنے کی درخواست کرے تو انجمن میں اس کی درخواست پیش ہو اور انجمن مناسب سمجھے تو اس کو خاص طور پر اس شرط سے اجازت دے دے کہ وہ مہر بوقت عقد فوراً ادا کر دے اور عورت کے نام اس رقم کی جائیداد خرید دی جائے تاکہ وہ محفوظ ہوجائے ۔“
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ، دہلی
(کتاب النکاح، باب المہر، ج:5، ص:123، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100368
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن