بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ذو الحجة 1447ھ 12 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

علم غیب کی حقیقت/غیب کی باتیں معلوم کرنے کا حکم/اور غیب کی باتیں بتانے والے کے پاس جانے والے کا حکم!


سوال

کون سی باتیں معلوم کرانا غیب کے زمرے میں آتی ہیں؟

جنات سے غیب کی باتیں پوچھنے والے عاملین کا کیا حکم ہے؟

عاملین سے غیب کی باتیں پوچھنے  اور ان کے پاس جانے والے کا کیا حکم ہے؟

 

جواب

1-علمِ غیب اُس علم کو کہا جاتا ہے جو بغیر کسی واسطے اور  بغیر کسی کے بتائے حاصل ہو۔ ایسا علم صرف اللہ ربّ العزت کے پاس ہے، اس کے سوا کوئی بھی عالمُ الغیب نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے غیب کی کئی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، جیسے جنت، دوزخ، قیامت، فرشتے، جنات، تقدیر اور مستقبل کے واقعات وغیرہ ۔

لہٰذا وہ تمام باتیں جن کا علم کسی واسطے یا کسی کے بتائے بغیر حاصل ہو، علمِ غیب کے زمرے میں شامل ہوتی ہیں۔ اور ان باتوں کا جاننا غیب کی حقیقت کو معلوم کرنے کے دائرے میں آتا ہے۔

2-3-علمِ غیب اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور وہ اپنی اس صفت میں منفرد اور یکتا ہے۔ اس لیے علمِ غیب اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ انسانوں کو حاصل ہے، نہ جنات کو اور نہ ہی فرشتوں کو۔

چناں چہ جنات کو قابو میں کر کے ان کے ذریعے امور معلوم کرنا دو طرح کا ہوتا ہے:

اوّل: امورِ غیبیہ، یعنی وہ مخفی امور جو بغیر کسی ظاہری واسطے کے حاصل کیے جائیں، جیسے جنت، دوزخ اور قیامت کے احوال یا آئندہ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں خبر لینا۔ اس عمل کو "کہانت" کہا جاتا ہے۔ شریعت نے اس قسم کے دعوائے علمِ غیب کو جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے اور کاہنوں کی باتوں کو حقیقت سے عاری ٹھہرایا ہے۔ جو شخص اس طرح غیب کی خبریں بتاتا ہو، اس کے پاس جانا اور اس کی باتوں کی تصدیق کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں کاہنوں کے پاس جانے اور ان کی تصدیق کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے، بلکہ بعض روایات میں اس فعل کو کفر تک قرار دیا گیا ہے۔

دوم: وہ امور جو امورِ غیبیہ میں داخل نہیں، بلکہ کسی واسطے سے حاصل ہو سکتے ہوں؛ مثلاً کسی گم شدہ چیز کے بارے میں خبر دینا جو کسی جگہ موجود ہو، یا ایسے ممکن امور جن تک کسی نہ کسی طریقے سے رسائی ہو سکتی ہو۔ اس نوعیت کی معلومات علمِ غیب کے زمرے میں نہیں آتیں، لہٰذا ان کے بارے میں جنات کی خبر میں صدق کا احتمال ہو سکتا ہے۔ تاہم چونکہ ان کی اطلاع شرعی شہادت کے قائم مقام نہیں، اس لیے وہ شرعی حجت نہیں بن سکتی۔ محض ان کی خبر کی بنیاد پر کسی کو چور یا مجرم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

البتہ اگر جنات کے ذریعے علاج کرایا جائے، اور اس علاج میں کوئی شرکیہ فعل یا غلط عمل شامل نہ ہو، تو  اس طریقے سے علاج کرانے میں حرج نہیں ہے۔

النبراس میں ہے:

"والتحقیق أن الغیب ما غاب عن الحواس، والعلم الضروري ، والعلم الاستدلالی،  وقد نطق القرآن بنفي علمه عمن سواہ تعالیٰ ...  وأما ما علم بحاسة، أو ضرورۃ، أو دلیل، فلیس بغیب، ...  و بھٰذا التحقیق اندفع الإشکال في الأمور اللتي یزعم أنھا من الغیب، ولیست منھا،  لکونھا مدرکةً بالسمع أو البصر، أو الضرورۃ، أو الدلیل،  فأحدها أخبار الأنبیاء، لأنھا مستفاد من الوحي، و من خلق العلم الضروري فیھم، أو من انکشاف الکوائن علی حواسھم."

(ص:343، ط: تھانوی- دیوبند)

شرح  النووی علی مسلم میں ہے:

"(فلا تأتوا الكهان) وفى رواية سئل عن الكهان فقال ليسوا بشيء قال القاضي رحمه الله كانت الكهانة في العرب ثلاثة أضرب أحدها يكون للإنسان ولي من الجن يخبره بما يسترقه من السمع من السماء وهذا القسم بطل من حين بعث الله نبينا صلى الله عليه وسلم الثاني أن يخبره بما يطرأ أو يكون في أقطار الأرض وما خفي عنه مما قرب أو بعد وهذا لا يبعد وجوده ونفت المعتزلة وبعض المتكلمين هذين الضربين وأحالوهما ولااستحالة فى ذلك ولابعد في وجوده لكنهم يصدقون ويكذبون والنهي عن تصديقهم والسماع منهم عام الثالث المنجمون وهذا الضرب يخلق الله تعالى فيه لبعض الناس قوة ما لكن الكذب فيه أغلب ومن هذا الفن العرافة وصاحبها عراف وهو الذي يستدل على الأمور بأسباب ومقدمات يدعي معرفتها بها وقد يعتضد بعض هذا الفن ببعض في ذلك بالزجر والطرق والنجوم وأسباب معتادةوهذه الأضرب كلها تسمى كهانة وقد أكذبهم كلهم الشرع ونهى عن تصديقهم وإتيانهم والله أعلم وأما قوله صلى الله عليه وسلم (ليسوا بشئ) فمعناه بطلان قولهم وأنه لاحقيقة له وفيه جواز إطلاق هذا اللفظ على ماكان باطلا قوله"

(کتا ب السلام، باب تحریم الکھانۃ واتیان الکھان، ج:14، ص:223، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

مسند احمد  میں ہے :

"حدثنا يحيى بن سعيد، عن عوف، قال: حدثني خلاس، عن أبي هريرة. والحسن، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " من أتى كاهنا أو عرافا، فصدقه بما يقول، فقد كفر بما أنزل على محمد"

(مسند عبد اللہ  بن عمرو بن العاص، ج:15، ص:331، ط:مؤسسة الرسالة)

جامع البیان عن تاویل آی القرآن (تفسیرالطبری) میں ہے:

"وقوله:{فلما خر تبينت الجن}[سبأ: ١٤] يقول عز وجل: فلما خر سليمان ساقطا بانكسار منسأته تبينت الجن {أن لو كانوا يعلمون الغيب} [سبأ: ١٤] الذي يدعون علمه  {ما لبثوا في العذاب المهين} [سبأ: ١٤] المذل حولا كاملا بعد موت سليمان، وهم يحسبون أن سليمان حي وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل".

(سورة السبا ، رقم الآي:14، ج:19، ص:239، ط:دارالهجر)

تفسیر طبری میں ہے:

"- حدثني موسى بن هارون، قال: حدثنا عمرو بن حماد، قال: حدثنا أسباط، عن السُّدّيّ في خبر ذكره، عن أبي مالك، وعن أبي صالح، عن ابن عباس - وعن مُرّة الهَمْداني، عن ابن مسعود، وعن ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،"بالغيب": أما ‌الغيْبُ فما غابَ عن العباد من أمر الجنة وأمرِ النار، وما ذكر الله تبارك وتعالى في القرآن. لم يكن تصديقهُم بذلك -يعني المؤمنين من العرب- من قِبَل أصْل كتابٍ أو عِلْم كان عندَهم.

.....

حدثنا بشر بن مُعَاذ العَقَدي، قال: حدثنا يزيد بن زُرَيْع، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قتادة في قوله"الذين يُؤمنون بالغيب"، قال: آمنوا بالجنّة والنار، والبَعْث بعدَ الموت، وبيوم القيامة، وكلُّ هذا غيبٌ ."

(البقرۃ، 3، ج:1، ص:236، ط:دار التربية والتراث - مكة المكرمة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقيل هو ‌العراف الذي يحدث ويتخرص، وقيل من له من ‌الجن من يأتيه بالأخبار. وقال أصحابنا: إن اعتقد أن الشياطين يفعلون له ما يشاء كفر لا إن اعتقد أنه تخييل، وعند الشافعي إن اعتقد ما يوجب الكفر مثل التقرب إلى الكواكب وأنها تفعل ما يلتمسه كفر. وعند أحمد حكمه كالساحر في رواية يقتل، وفي رواية إن لم يتب، ويجب أن لا يعدل عن مذهب الشافعي في كفر الساحر والعراف وعدمه.

........

والكاهن كما في مختصر النهاية للسيوطي: من يتعاطى الخبر عن الكائنات في المستقبل ويدعي معرفة الأسرار. والعراف: المنجم. وقال الخطابي: هو الذي يتعاطى معرفة مكان المسروق والضالة ونحوهما. اهـ. والحاصل أن الكاهن من يدعي معرفة الغيب بأسباب وهي مختلفة فلذا انقسم إلى أنواع متعددة كالعراف. والرمال والمنجم: وهو الذي يخبر عن المستقبل بطلوع النجم وغروبه، والذي يضرب بالحصى، والذي يدعي أن له صاحبا من الجن يخبره عما سيكون، والكل مذموم شرعا، محكوم عليهم وعلى مصدقهم بالكفر. وفي البزازية: يكفر بادعاء علم الغيب وبإتيان الكاهن وتصديقه. وفي التتارخانية: يكفر بقوله أنا أعلم المسروقات أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي اهـ. قلت: فعلى هذا أرباب التقاويم من أنواع الكاهن لادعائهم العلم بالحوادث الكائنة."

(کتاب السرقۃ، مطلب توبۃ الیاس، ج:4، ص:242، ط:سعید)

نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار میں ہے:

"والعراف الذي ‌يدعي معرفة الشيء المسروق ومكان الضالة، وقد كان في العرب كهنة منهم مَن يزعم ‌أن ‌له ‌صاحبًا من ‌الجن يلقي إليه الأخبار، ومنهم من ‌يدعي أنه يعرف الأمور بمقدمات أسبابها، ومنهم من سمى المنجم كاهنًا.

وفي قوله عليه السلام: "هذا من إخوان الكهان" دليل على أن الكهان كانوا يسجعون أو كان الأغلب منهم السجع، وهذا معروف عن كهان الأعراب يعني عن الاستشهاد عليه."

(کتاب الجنایات، ج:15، ص:310، ط:وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية - قطر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"کسی پر آئے ہوئے جن اور پری کے ذریعہ علاج کرانا

سوال (۱۱۳۵۶] : ہمارے علاقہ میں ایک نوجوان جو اخلاقی اعتبار سے بہت نیک ہے، زندگی میں سادگی ہے، برسر روزگار ہے، اس کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ اس پر کسی مرحوم بزرگ (ولی) کا سایہ ہے، بزرگ اس پر حاضر ہوتے ہیں۔ اور مختلف امراض، آسیبی اثر آسیبی تنازعہ سے متعلق تفصیل سے بتاتے ہیں اور علاج بھی کرتے ہیں۔ سینکڑوں لوگ شفایاب ہوئے، لوگ اپنے طور پر عطیہ دیتے ہیں ، ان کی کوئی مانگ نہیں ، علاج میں شرکیہ فعل نہیں ہے۔ علاج تعویذ گنڈ او پانی پر دم کر کے کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک ضعیف سال خاتون پر پر یوں کا سایہ ہے، پر یاں اس پر حاضر ہوتی ہیں اور نہایت فصیح اردو ، مراٹھی میں گفتگو کرتی ہیں، جب کہ ضعیفہ اردو، مراٹھی بالکل نہیں جانتی عمل میں شرکیہ فعل نہیں ہے ، علاج کسی چیز پر دم کر کے اور گنڈا دھاگا دے کر کرتی ہے۔

1- مندرجہ بالا واقعہ سے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟

2-اس طریقہ علاج سے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟

3-اس علاج پر یقین رکھنے اور جائز جاننے والے پر شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلياً:

جنات اور پریوں کا انسان مرد و عورت پر آنا اور اس قسم کی باتیں بتانا ممکن ہے، اردو ، مراٹھی یا کسی اور زبان میں گفتگو کرنا بھی ممکن ہے  ، علاج کے لئے کسی دوا کا بتلانا اور اس سے شفاء کا حاصل ہونا بھی ممکن ہے ، حدیث و قرآن کی دعائیں پڑھ کر دم کر کے اور تعویذ گنڈا دے کر استعمال کرانے سے جنات کا دفع ہو جانا بھی ممکن ہے اور مریض کا شفا پا جانا بھی ممکن ہے، لیکن ایسی حالت کی بتائی ہوئی بات کو حجت شرعیہ قرار دینا درست نہیں ۔ مثلا : اگر وہ بتائے کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے تو اس کے بتانے سے اس شخص کو چور قرار دینا درست نہیں ، جب کہ معالجہ صحیح طریقہ پر ہو، اس میں کوئی شرکیہ عمل یا کوئی غلط چیز نہ ہو جائز ہے اور اس کی وجہ سے کچھ ہدیہ دیا جائے اس کا لینا بھی درست ہے ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔املاه العبد محمود غفر له، دار العلوم دیو بند ، ۹۹/۱۱/۹ھ۔"

(مایتعلق بالجنات، ج:24، ص:432/433/434، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706102324

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں