بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

الرجی کی بیماری بڑھ جانے کے اندیشہ کی وجہ سے فجر کی نماز گھر میں ادا کرنا


سوال

ایک آدمی جو الرجی کا بیمار ہے، جو صبح سویرے اُٹھ کر  فجر کی نماز کے لیے مسجد میں اگر جائے تو سردی یا گرم ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے  اُسے چھینکیں آنا شروع ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے پورا دن خراب رہتا ہے یعنی  پھر یہ الرجی مسلسل پورے دن چلتی ہے، الرجی کی کیفیت  یہ ہے کہ ناک کا بہنا اور چھینک بہت زیادہ حدِ اعتدال سے بڑھ جانا وغیرہ ۔  سوال یہ ہے کہ کیا وہ آدمی اس عذر کی وجہ  سے  فجر کی نماز گھر میں پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ باقی نمازیں وہ مسجد میں ادا کرتا ہے۔

جواب

مردوں کے لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ (حکماً واجب) ہے، جس کی پابندی کرنا واجب ہے، اور پنج وقتہ نمازوں کی جماعت کے لیے مسجد مخصوص کی گئی ہے، لہٰذا جو شخص شرعی عذر کے بغیر گھر پر نماز پڑھنے کا معمول بنالے وہ تارکِ سنت اور گناہ گار ہے، نیز گھر میں نماز اگر جماعت کے ساتھ بھی ادا کی جائے تو تب مسجد  میں باجماعت نماز پڑھنے کا جو ثواب ہے وہ نہیں ملے گا، مسجد کا ثواب مسجد  ہی میں باجماعت نماز پڑھنے سے حاصل ہو گا۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص  کو اگر سردی  سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کے ساتھ مسجد جاکر نماز ادا کرنے میں   الرجی کی بیماری لاحق نہیں ہوتی یا اس کی تکلیف نہیں بڑھتی تو وہ فجر کی نماز میں بھی مسجد جانے کا اہتمام کرے،  اگر  ان تدابیر کے بعد بھی یہ  تکلیف برقرار رہتی ہے تو کسی مستند، دین دار  ڈاکٹر سے چیک اپ کراکر  اس کی رائے معلوم کرے، اگر ڈاکٹر   یہ کہتا ہے کہ اس کا علاج ممکن ہے تو علاج کرائے اور اگر اس کی رائے یہ ہو کہ  صبح نماز کے لیے جانے کی صورت میں یہ بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہے اور  فجر کی نماز کے لیے باہر نہ نکلیں تو اس صورت میں یہ عذر شمار  ہوگا، اور مذکورہ شخص کے لیے گھر میں نماز ادا کرنا جائز ہوگا، البتہ اس صورت میں بھی بہتر یہ ہوگا کہ وہ گھر میں انفرادی نماز ادا کرنے کے بجائے  اہلیہ یا بچوں وغیرہ کے ساتھ جماعت  قائم کرلے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال...وقيل واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج)...(فلا تجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط، ذكره الحدادي (ومفلوج وشيخ كبير عاجز وأعمى) وإن وجد قائدا (ولا على من حال بينه وبينها مطر وطين وبرد شديد وظلمة كذلك)...، وخوف على ماله، أو من غريم أو ظالم، أو مدافعة أحد الأخبثين، وإرادة سفر، وقيامه بمريض، وحضور طعام (تتوقه) نفسه ذكره الحدادي، وكذا اشتغاله بالفقه لا بغيره، كذا جزم به الباقاني تبعا للبهنسي: أي إلا إذا واظب تكاسلا فلا يعذر.

(قوله من غير حرج) قيد لكونها سنة مؤكدة أو واجبة، فبالحرج يرتفع الإثم ويرخص في تركها...لكن في نور الإيضاح: وإذا انقطع عن الجماعة لعذر من أعذارها وكانت نيته حضورها لولا العذر يحصل له ثوابها"

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/ 552-555، ط: سعيد)

 اعلاء السنن میں ہے:

"قلت: دلالته علی الجزء الأول ظاهرة حیث بولغ في تهدید من تخلّف عنها وحکم علیه بالنفاق، ومثل هذا التهدید لایکون إلا في ترك الواجب، ولایخفی أن وجوب الجماعة لو کان مجردًا عن حضور المسجد لما هم رسول اﷲ ﷺ بإضرام البیوت علی المتخلفین لاحتمال أنهم صلوها بالجماعة في بیوتهم؛ فثبت أن إتیان المسجد أیضًا واجب کوجوب الجماعة، فمن صلاها بجماعة في بیته أتی بواجب وترك واجبًا آخر ... و أما مایدل علی وجوبها في المسجد فإنهم اتفقوا علی أن إجابة الأذان واجبة لما في عدم إجابتها من الوعید ..."

(باب وجوب إتیان الجماعة في المسجد عند عدم العلة، 4 /186، ط: إدارة القرآن کراچی)

فتاوی عالمگیری میں  ہے:

"و تسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - والصحيح أنها تسقط بالمطر والطين والبرد الشديد والظلمة الشديدة. كذا في التبيين وتسقط بالريح في الليلة المظلمة وأما بالنهار فليست الريح عذرا وكذا إذا كان يدافع الأخبثين أو أحدهما أو كان إذا خرج يخاف أن يحبسه غريمه في الدين أو يريد سفرا وأقيمت الصلاة فيخشى أن تفوته القافلة أو كان قيما لمريض أو يخاف ‌ضياع ‌ماله وكذا إذا حضر العشاء وأقيمت صلاته ونفسه تتوق إليه، وكذا إذا حضر الطعام في غير وقت العشاء ونفسه تتوق إليه. كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الصلاۃ ،فصل فی الجماعة، 1/ 83، ط:رشیدیة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101735

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں