
میرے والدین اور اہلیہ کے درمیان معاملات صحیح نہیں چل رہے، ہمارے والدین نیک دیندار سمجھے جاتے ہیں، اہلیہ کے اوپر کئی الزامات لگائےہیں، لیکن ثبوت دینے سے قاصر ہیں،میں نے کافی کوشش کی کہ آپس میں جوڑ ہو جائے، لیکن نہ ہو سکا، میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں، اور وہ مجھے الگ بھی نہیں رہنے دیتے۔اب میں اپنی بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں،میرے والدین نے میری اہلیہ کو اس کی والدہ کے گھر بھیج دیا، اور وہ بہت چھوٹی باتوں پر گھر آنے سے انکار کر چکی ہے،تقریباً ایک مہینہ ہو گیا ہے کہ میری بیوی اور میں ایک دوسرے سے جدا ہیں میں نےوالدین سےکہاہےکہ میں اگر الگ بھی ہوا تومجھ پر آپ کا بھی حق ہے، اور جو میرے بیوی بچے ہیں ان کے بھی اپنے حقوق ہیں،میرے والدین نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر میں الگ گھر میں رہا تو آپ ہمارے بیٹے نہیں،اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں الگ رہ کر اپنے ماں باپ کا نافرمان تو نہیں کہلاؤں گا؟
صورت مسئولہ میں اگربیٹاوالدین سےالگ ہوکررہناچاہےتوالگ رہنےکی وجہ سےنافرمان تونہیں کہلائےگااگروہ الگ ہوتےہوئے بھی والدین کےحقوق پورے کرسکتاہو،مگرچونکہ سائل والدین کااکلوتابیٹاہےاس لئےسائل کوچاہیئےکہ وہ اپنی اہلیہ کوسمجھائےکہ میاں بیوی کےرشتےضابطوں کےبجائےاخلاقیات سےچلتےہیں ، اخلاقی طورپراس کاخیال کرناچاہئے کہ وہ اس کے شوہرکے والدین ہیں تواپنے والدین کی طرح ان کا بھی ادب و احترام کرے، ضروری کام ہو وہ بھی انجام دے، اس سے آپس کے تعلقات خوشگواررہتے ہیں،اوراگرشوہرحکم دے کہ ان کی والدین کی خدمت کرے توشرعی حدود میں رہتے ہوئےشوہر کی اطاعت کرتے ہوئے ان کی خدمت کرنا عورت کی ذمہ داری ہوگی ، اسی طرح شوہرکےوالدین کوبھی چاہیئےکہ وہ چونکہ بڑےہیں تونرمی اوردرگزر،مصالحت سےکام لیں ،اوربےجاالزامات سے گریز کریں ۔
مرقاۃ شرح مشکاۃ میں ہے:
"عن معاذ قال: «أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر كلمات، قال: " لا تشرك بالله شيئا، وإن قتلت وحرقت، ولا تعقن والديك وإن أمراك أن تخرج من أهلك ومالك.
(ولا تعقن والديك) أي تخالفنهما، أو أحدهما فيما لم يكن معصية إذ لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق ( وإن أمراك أن تخرج من أهلك)أي: امرأتك أو جاريتك، أو عبدك بالطلاق أو البيع أو العتق أو غيرها (ومالك) : بالتصرف في مرضاتهما. قال ابن حجر: شرط للمبالغة باعتبار الأكمل أيضا أي: لا تخالف واحدا منهما، وإن غلا في شيء أمرك به، وإن كان فراق زوجة أو هبة مال، أما باعتبار أصل الجواز فلا يلزمه طلاق زوجة أمراه بفراقها، وإن تأذيا ببقائها إيذاء شديدا؛ لأنه قد يحصل له ضرر بها، فلا يكلفه لأجلهما؛ إذ من شأن شفقتهما أنهما لو تحققا ذلك لم يأمراه به فإلزامهما له مع ذلك حمق منهما، ولا يلتفت إليه، وكذلك إخراج ماله".
(کتاب الإیمان، باب الكبائر وعلامات النفاق،ج: 1، ص: 132/133، ط: رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به ....قوله في كل مباح) ظاهره أنه عند الأمر به منه يكون واجبا عليها كأمر السلطان الرعية به ط."
(کتاب النکاح، باب القسم، ج: 3، ص: 208، ط: سعید)
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
”جب تک ساس خسر زندہ رہیں ان کی خدمت کو، ان کی تابع داری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو، ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے،خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑدیں ۔۔۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عار نہ کرو، تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو، اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی۔“
(بہشتی زیور، نکاح کا بیان، باب: 31، ص: 47، 48، ط: تاج کمپنی کراچی)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”سوال:زید کی بیوی زچکی کی وجہ سے میکہ گئی ہے زید نے کہا کہ میری ماں کی خدمت کرو ہندہ نے کہا کہ خدمت کے لیے دوسری عورت رکھ لو میں خدمت نہیں کروں گی اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
الجواب حامدا و مصلیا:
شرعا ہندہ کے ذمہ شوہر کی ماں کی خدمت واجب نہیں، لیکن اخلاقی طور پر اس بات کا خیال کرنا چاہیے کہ وہ اس کے شوہر کی ماں ہیں تو اپنی ماں کی طرح اس کو بھی راحت پہنچانے کا خیال رکھے اور شوہر کی اطاعت کریں آخر جب ہندہ کو ضرورت پیش اتی ہے تو شوہر کی ماں اس کی خدمت کرتی ہے ،اس طرح آپس کے تعلقات خوشگوار رہتے ہیں اور مکان آباد رہتا ہے البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ اپنی بیوی سے نرمی اور شفقت کا معاملہ کرے اس کو سمجھائے کہ میں تمہاری ماں کا احترام کرتا ہوں اور ان کو اپنی ماں کی طرح سمجھتا ہوں تم بھی میری ماں کو اپنی ماں کی طرح سمجھو۔ نیز بیوی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں ۔“
(کتاب النکاح، باب احکام الزوجین، ج: 18، ص: 616/617، ط: ادارۃالفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101888
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن