
اگر کسی مسئلے میں ایک ہی مسلک کے علماء کا اختلاف ہو جائے اور دونوں ہی ادارے بڑے ہوں ، اور دونوں کے علم اور تقویٰ پراعتماد بھی ہو ۔ بہتر تو یہی ہےکہ احتیاط والے فتوے پر عمل کیاجائے،لیکن اگر کسی خاص مسئلے میں احتیاط پر عمل کرنے میں مشکل اور حرج ہو، اور ذہنی تکلیف کا باعث ہو تو اس صورت میں دوسرے فتوے پر عمل کیا جا سکتا ہے؟
بصورت مسئولہ یہ بات فی الجملہ درست ہے کہ اگر کسی مسئلے میں کبارِ اہل علم کا اختلاف ہو، تو اس اختلاف سے نکلنے کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ دونوں طرف کی آراء میں سے اس رائے پر عمل کیا جائے ،جو احتیاط پر مبنی ہو ہاں اگر ایک طرف جواز واباحت کا فتوی ہو اور دوسری جانب منع ومحظور کا حکم ہوتو اس صورت میں منع ومحظور پر عمل کرنا ضروری ہے ، کیونکہ کسی بھی جائز ومباح کا استعمال لازم نہیں ہوتا ،جبکہ ممنوع ومحظور سے احتراز کرنا ہر حال میں لازم ہے تاکہ آخرت میں پکڑ نہ ہو ۔
اب رہا یہ سوال کہ اگر کسی خاص مسئلہ میں احتیاطی فتوی پر عمل کرنے میں دشواری ،حرج ،مشکل یا ذہنی تکلیف کا سامنا ہو تو غیر محتاط فتوی پر عمل کرنے کی گنجائش کہاں تک ہے ؟
سو اس بابت تفصیل یہ ہے کہ شریعت نے حرج ِ شرعی ،اضطرار ِفقہی اور ضرورتِ فقہیہ متحقق ہونے کی صورت میں رخصت وسہولت کا راستہ کھلا رکھا ہے ،مگر اسی رخصتوں کی طرف جانے سے پہلے حرج ، اضطرار اور ضرورت کا تعین کرنا ضروری ہے، اور یہ ایسے ماہرین ِشریعت کا کام ہے جو دینی مسائل کے بیان میں اتباع ھوی ،تتبع رخص اور حیلہ سازی و حیلہ بازی کی شہرت نہ رکھتے ہو ،اگر ایسے علماء کسی صاحبِ معاملہ کے بارے میں گنجائش کی طرف جانے کی اجازت دیں تو بالکل جائز ہے ،لیکن اگر کوئی صاحب ِ معاملہ شرعی ضرورت کے تحقق کے بغیر محض نفسانی خواہش ،شہوت کشی ،راحت کوشی ، مالی مفاد یا دنیوی غرض کے لئے محتاط فتووں پر عمل کی بجائے غیر محتاط قول والے اہل علم کی رائے پر عمل کرنا چاہے ،اور اس کے لئے محض اہل علم کی رائے ہونے کو بہانے کے طور پر استعمال کرتا ہو، تو ایسا کرنا کسی صاحب ِ علم کے قول پر عمل کرنا نہیں کہلاتا بلکہ خواہشات کی پیروی کرنا کہلاتا ہے جو کہ حرام ہے ، ہمارے اکابر نے ایسی روش کو نامعقول اور غیر معتبر عذر ،بلکہ عذر تراشی سے تعبیر کیا ہے ،جو کامل اتباع ہوی نہ بھی ہو تو اتباع ہوی کے قریب قریب ضرور شمار کیا ہے ،ایسی صورت میں ایمان خطرہ میں رہتاہے ۔
حدیث شریف میں ہے:
"وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اتبعوا السواد الأعظم فإنه من شذ شذ في النار."
(مشكاة المصابيح، كتاب الإيمان، باب الاعتصام بالكتاب والسنة، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 62، ط: المكتب الإسلامي)
ایک اور حدیث میں ہے:
"عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبَّھات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبَّهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى أوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله في أرضه محارمه."
(صحيح البخاري، كتاب الإيمان،باب: فضل من استبرأ لدينه، ج: 1،ص: 28، ط: دار ابن كثير)
فتاوی شامی میں ہے:
"وقد ذكروا أن المجتهد المطلق قد فقد، وأما المقيد فعلى سبع مراتب مشهورة. وأما نحن فعلينا اتباع ما رجحوه وما صححوه كما لو أفتوا في حياتهم. فإن قلت: قد يحكون أقوالا بلاترجيح، وقد يختلفون في الصحيح. قلت: يعمل بمثل ما عملوا من اعتبار تغير العرف وأحوال الناس، وما هو الأوفق وما ظهر عليه التعامل وما قوي وجهه، ولا يخلو الوجود عمن يميز هذا حقيقة لا ظنا، وعلى من لم يميز أن يرجع لمن يميز لبراءة ذمته، فنسأل الله تعالى التوفيق والقبول، بجاه الرسول.
مطلب في طبقات الفقهاء.
(قوله: وأما المقيد إلخ)...والسابعة: طبقة المقلدين الذين لا يقدرون على ما ذكر، ولا يفرقون بين الغث والسمين اهـ بنوع اختصار. (قوله: وأما نحن) يعني أهل الطبقة السابعة، وهذامع السؤال والجواب مأخوذ من تصحيح الشيخ قاسم. (قوله: كما لو أفتوا في حياتهم) أي كما نتبعهم لو كانوا أحياء وأفتونا بذلك فإنه لا يسعنا مخالفتهم. "
(مطلب في طبقات الفقهاء ،مقدمہ،ج:1،ص: 77،ط:سعید)
وفي أدب المفتي والمستفتي لإبن الصلاح:
"إذا اختلف عليه فتوى مفتيين، فللأصحاب فيه أوجه:
أحدهما: أنه يأخذ بأغلظها، فيأخذ بالحظر دون الإباحة، لأنه أحوط، ولأن الحق ثقيل."والثاني": يأخذ بأخفهما، لأنه صلى الله عليه وسلم: "بعث بالحنفيّة السمحة السهلة". "والثالث": يجتهد في الأوثق، فيأخذ بفتوى الأعلم الأورع كما سبق شرحه، واختاره السمعاني الكبير، ونص الشافعي على مثله في القبلة."والرابع": يسأل مفتيًا آخر فيعمل بفتوى من يوافقه."والخامس": يتخير فيأخذ بقول أيهما شاء وهو الصحيح عند الشيخ أبي إسحاق الشيرازي، واختاره صاحب "الشامل"، فيما إذا تساوى المفتيان في نفسه.والمختار:أن عليه أن يجتهد ويبحث عن الأرجح فيعمل به فإنه حكم التعارض وقد وقع، وليس كما سبق ذكره من الترجيح المختلف فيه عند الاستفتاء، وعند هذا ليبحث عن الأوثق، من المفتيين فيعمل بفتياه، فإنه لم يترجح أحدهما عنده استفتى آخر، وعمل بفتوى من وافقه الآخر، فإن تعذر ذلك وكان اختلافهما في الحظر والإباحة، وقبل العمل، اختار جانب الحظر وترك"جانب الإباحة"، فإنه أحوط وإن تساويا من كل وجه خيرناه بينهما، وإن أبينا التخيير في غيره، لأنه ضرورة في صورة نادرة.ثم "إنما" نخاطب بما ذكرناه المفتيين، وأما العامي الذي وقع له ذلك فحكمه أن يسأل عن ذلك ذينك المفتيين أو مفتيًا آخر، وقد أرشدنا المفتي إلى ما يجيبه به في ذلك، فهذا جامع لمحاسن الوجوه المذكورة، ومنصب في قالب التحقيق. والله أعلم.
(ص:164،الناشر:مكتبة العلوم والحكم-المدينة المنورة)
وفی آداب الفتاوی والمفتی والمستفتی للنووي:
"إذا اختلف عليه فتوى مفتيين ففيه خمسة أوجه للأصحاب :
أحدها يأخذ بأغلظهما والثاني بأخفهما والثالث يجتهد في الأولى فيأخذ بفتوى الأعلم الأورع كما سبق إيضاحه واختاره السمعاني الكبير ونص الشافعي رضي الله عنه على مثله في القبلة والرابع يسأل مفتيا آخر فيأخذ بفتوى من وافقه والخامس يتخير فيأخذ بقول أيهما شاء وهذا هو الصحيح عند الشيخ أبي إسحاق الشيرازي المصنف وعند الخطيب البغدادي ونقله المحاملي في أول المجموع عن أكثر أصحابنا واختاره صاحب الشامل فيما إذا تساوى المفتيان في نفسه .
وقال الشيخ أبو عمرو المختار أن عليه أن يبحث عن الأرجح فيعمل به فإنه حكم التعارض فيبحث عن الأوثق من المفتيين فيعمل بفتواه وإن لم يترجح عنده أحدهما استفتى آخر وعمل بفتوى من وافقه فإن تعذر ذلك وكان اختلافهما في التحريم والإباحة وقبل العمل اختار التحريم فإنه أحوط وإن تساويا من كل وجه خيرناه بينهما وإن أبينا التخيير في غيره لأنه ضرورة وفي صورة نادرة .
قال الشيخ أبو عمرو ابن الصلاح ثم إنما نخاطب بما ذكرناه المفتيين وأما العامي الذي وقع له ذلك فحكمه أن يسأل عن ذلك ذينك المفتيين أو مفتيا آخر وقد أرشدنا المفتي إلى ما يجيبه به وهذا الذي اختاره الشيخ ابن الصلاح ليس بقوي بل الأظهر أحد الأوجه الثلاثة وهي الثالث والرابع والخامس والظاهر أن الخامس أظهرها لأنه ليس من أهل الاجتهاد وإنما فرضه أن يقلد عالما أهلا لذلك وقد فعل ذلك بأخذه بقول من شاء منها والفرق بينه وبين ما نص عليه في القبلة أن أمارتها حسية فإدراك صوابها أقرب فيظهر التفاوت بين المجتهدين فيها والفتاوى أمارتها معنوية فلا يظهر كبير تفاوت بين المجتهدين والله أعلم."
(ص:80،ط: دار الفکر)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
’’سوال:بعض مسائل ایسے ہیں کہ اس میں احناف کے علماء مثلا علماء دیوبند ،سہارنپور،دہلی مختلف ہیں ،کسی کے نزدیک حلت ہے کسی کے نزدیک حرمت ہے تو کیا ایسی صورت میں جس جگہ سہولت ملے استفتاء کرسکتے ہیں یا نہیں ؟درآں حالیکہ قابل اعتماد اور دین دار ہرایک ہیں ،یعنی اتباع ہوا میں تو داخل نہیں ہے؟
جواب:جب سب اداروں پر یکساں اعتماد ہے تو محض سہولت کے لئے انتخاب کرنا کہ فلاں مسئلہ میں فلاں جگہ سے سہولت ملےگی اور فلاں مسئلہ میں فلاں جگہ سے سہولت ملےگی ،اگرکامل اتباع ہَوا نہیں تو اتباع ہوا کے قریب قریب ضرور ہے۔‘‘
(کتاب العلم،فتوی کا بیان،ج:3،ص:366،ط:جامعہ فاروقیہ کراچی)
تذکرۃ الخلیل میں ہے :
ایک دن آپ کی مجلس میں بدعت وسنت کے مسائل اختلافیہ کی بحث ہونے لگی، آپ دیر تک سنتے رہے، اور آخرمیں فرمایا:کہ میرے نزدیک علاوہ دلائل علمیہ کے حق و باطل پہچاننے کا ایک معیار اور بھی ہے، وہ یہ کہ قدرت نے ہر چیز میں اس کے ہمجنس کی طرف کشش کا مادہ رکھا ہے ،کہ کبوتر با کبوتر باز با باز، اور یہ قدرت کا عطیہ جس کو فطر ت کہنا چاہئے اجسام ہوں یا اعراض سب ہی میں جاری وساری ہے، پس جس فعل کے متعلق یہ شبہ ہو کہ معلوم حق ہے یا باطل، اس میں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کی طرف میلان کن قلوب کا ہوا، اور کشش کس قسم کے لوگوں کی ہے ؟ پس اگر دیکھو کہ بددین فساق و فجار کو ابتدا ءاس کی طرف حرکت ہوئی، اور وہی قلوب جوش و خروش کے ساتھ اس کی طرف لپکتے ہیں، تو سمجھ لو کہ اس فعل میں ضرور ظلمت ہے اگر چہ ظاہری صورت نورانی اور دینی معلوم ہوتی ہو، کیونکہ اس میں نور ہوتا تو ظلمانی قلوب کو جذب نہ کرتا، بلکہ وہ اس سے بھاگتے اور نورانی قلوب اولیاء و صلحا کے اس کی جانب کھینچتے۔ اور اگر کسی فعل کو دیکھو کہ دیندا راہل اللہ اس کی طرف جاتے اور عوام و بازاری اس سے بھاگتے ہیں، تو سمجھ لو کہ ضرور اس فعل میں نورانیت ہے کہ اہل نور کے قلوب کو اس طرف کشش ہوئی اور ظلمانی قلوب نے اس سے وحشت کھائی۔
پس عوام کا کسی اختلافی مسئلہ کے متعلق یہ کہنا" کہ ہم تو بے پڑھے ہیں اور دونوں طرف مولوی ہیں پھر ہم کیونکر سمجھیں کہ کون حق پر ہے " خدا کے نزدیک معتبر اور عذر مقبول نہ ہوگا۔ بالخصوص جبکہ وہ دونوں طرف علماء ہونے کے قائل ہو کر بھی ایک طرف جھکے ہوئے ہیں ،جو دلیل ہے کہ ایک شق کو ان کے نفوس نے ترجیح دے کر اختیار کیا، اور اپنے اوپر سے الزام اتارنے کے لئے مولویوں میں فیصلہ نہ کر سکنے کا عذر تراشا ہے۔ اس طرح پر ذرا غور کرنے سے ہر بے پڑھے سے بے پڑھا حق اور باطل سمجھ سکتا ہے ؛کیونکہ دیکھ رہا ہے که رسومات و بدعات را ئجہ کی طرف یا وہ بازاری عوام جھکتے ہیں جن کو نماز روزہ تک سے وحشت و بے تعلقی ہے ، یا وہ پڑھے لکھے مائل ہوتے ہیں جن کی نورانیت قلوب کو حبِ جاہ و مال نے داب لیا ہے، اور اگر کوئی مخلص دھوکہ کھا کر ادھر چلا بھی گیا ،تو خود اپنے قلب کو ٹول لے کہ وہ کشش نہ ہوگی جو درود، نماز ،و روزہ جیسی کھلی اور صاف عبادتوں کی طرف اس کو ہوتی ہے، اور اس لئے امید ہے انشاء اللہ کسی وقت اس کا قلب اس کی رہبری کرے گا اور وہ متنبہ ہو کر نورِ سنت کی طرف ضرور آجائے گا۔
(حق وباطل کی معرفت کا معیار، ص: 251 ، ط: مکتبۃ الشیخ)
فتاوی بینات میں ہے :
الغرض دین کے احکام تین قسم کے ہیں:
1۔احکام منصوصہ اتفاقیہ
2۔احکام اجتہادیہ اتفاقیہ
3۔احکام اجتہادیہ اختلافیہ
پہلی دو قسموں میں جدید اجتہادکی قطعاً گنجائش نہیں ہے، تیسری قسم میں بھی، میں اجتہاد کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ البتہ اتنی گنجائش ہے کہ اگر مذہب حنفی میں واقعی دشواری ہے اور امت محمدیہ واقعی تیسیر وتسہیل کی محتاج ہے اور اعذار بھی صحیح اور واقعی ہے ،محض وہمی وخیالی نہیں ہیں ، تو دوسرے مذاہب پر عمل کرنے اور فتوٰی دینے کی گنجائش ہوگی اور ضرورت کس درجہ میں ہے اور ہے بھی یا نہیں؟یہ صرف علماء وفقہاء کی جماعت طے کرے گی ۔
چوتھی قسم مسائل کی وہ ہے جو جدید تمدن نے پیدا کئے ہیں ، اور سابقہ فقہ اسلامی کے ذخیرہ میں اس کا ذکر نہیں ہےنہ نفیا نہ اثباتا ، ان مسائل میں ان جدید تقاضوں کو پورا کرنا اور ان مشکلات کو حل کرنا دور حاضر کے علماء کا فریضہ ہے۔ یعنی کہ وہ ان مسائل کا، قیاس و اجتہاد سے قدیم ذخیرہ کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ ان علماء میں حسب ذیل شرائط ہوں:
1۔اخلاص
2۔تقویٰ
3۔قرآن و حدیث و فقہ اسلامی میں مہارت و وسعت
4۔دقت نظر و ذکاوت
5۔جدید مشکلات کے سمجھنے کی اہلیت
ان صفات کے ساتھ شخصی فیصلہ نہ کیا جائے ،بلکہ ان صفات پر متصف جماعت ہو، اور ان کے فیصلے سے مسائل حاضرہ حل کیے جائیں۔ بہرحال قرآن کریم حجت ہے، احادیث نبویہ و سنت نبویہ دین کی اہم بنیاد ہیں، تعامل علماء امت و اجماع امت شرعی حجت ہیں۔
(مقدمہ فتاوی بینات ،ج:1، ص:31 ، ط: مکتبہ بینات)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101436
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن