
جب اجتماعی قربانی کے لیے رقم کسی ایک شخص کے پاس جمع کی جاتی ہے تو کیا وہ شخص ان قربانی والے پیسوں سے کسی شخص کو قرض دے سکتا ہے؟
مذکورہ شخص کے پاس اجتماعی قربانی کی رقم لوگوں کی امانت ہے،لہذااس رقم کو مالکان کی اجازت کے بغیر کسی کو قرض کے طور پر دینا شرعا جائز نہیں ہے۔
مجلۃ الاحکام میں ہے:
"المادة (1479) إذا قيدت الوكالة بقيد فليس للوكيل مخالفته ،....."
(کتاب الاوکالۃ،ص287،ط:نور محمد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101538
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن