بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی کے انتظام کی اجرت


سوال

پہلے معاہدہ نامہ کے مندرجات ذکر کیے جاتے ہیں۔پھر سوال ذکر کیا جائے گا۔

قربانی سروس معاہدہ نامہ

اس معاہدہ کے تحت ادارہ تین قسم کی سروسز فراہم کر رہا ہے:

1- کسٹمر کی نیابت میں قربانی کے جانور یا اس کے حصہ کی خریداری

2-شریعت کے اصولوں کی روشنی میں قربانی کے جانور کی قربانی

3-گوشت کی بنوائی اور فراہمی

خریداری کی سروس

1-کسٹمر کے لیے خرید ا گیا قربانی کا جانور شرعی طور پر قربانی کے قابل ہو گا۔

2-بکرے کے گوشت کا اوسط وزن 13 کلو ہوگا۔ گائے، بچھڑے کے گوشت کا اوسط وزن 14 سے 15 کلو ہو گا، جب کہ کل وزن 100 سے 110 کلو تک ہو گا۔ تاہم گوشت کے حتمی وزن کی تعین قربانی کے بعد ہی ہوگی۔

3- جانور کی خریداری اور حصول ادارہ کے طے شدہ کو ائف اور حفظان صحت کے معیارات کی روشنی میں کیا جائے گا۔

4-کسٹمر کے لیے قربانی کے جانور کا تعین اور کسٹمر کی طرف سے اس پر قبضہ قربانی کے عمل سے فوراً پہلے عمل میں آئے گا۔

5-گائے بکرے میں نر اور مادہ دونوں شامل ہوں گے۔

6-ادارہ اس بات کا پابند ہے کہ مذکورہ معاہدہ میں طے کی گئی قیمت کے اندر اندر ہی جانور کی خریداری کرے۔ اگر ادارہ مطلوبہ معیار کا جانور مذکورہ قیمت سے کم میں خریدنے میں کامیاب ہو گیا تو ادارہ بطورِ انعام(Performance Incentive) اس زائد رقم کا حق دار ہوگا۔

قربانی سروس

1- جانور کی قربانی شرعی اصولوں کی روشنی میں کی جائے۔

2- میں (کسٹمر) ادارہ کو اس بات کی اجازت دیتا ہوں کہ دہ میرے قربانی کے جانور / اس کے حصہ کی میری طرف سے قربانی اور اس سے متعلق تمام امور سر انجام دے۔

گوشت کی بنوائی اور فراہمی

1-گوشت کی بنوائی اور فراہمی ادارہ کے حفظان صحت کے اصولوں کی روشنی میں ہو گی۔

2-جانور کے پائے، دل، گردے، کلیجی ہر فرد کے لیے علیحدہ نہیں رکھے جائیں گے، بلکہ مشترکہ طور پر تقسیم کیے جائیں گے۔

3-جانور / حصہ کی سری، اضافی چربی، اوجڑی، آنتیں، وغیرہ، اس وقت مارکیٹ کے قیمت پر فروخت کر کے حاصل شد ہ ر قم مستند دینی اداروں اور فلاحی تنظیموں یا مسحق افراد کو شرعی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے صدقہ کر دی جائے گی۔

4-ادارہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ جانور / حصہ کی قربانی کی کھال کسٹمر کی طرف سے مستند دینی اداروں اور فلاحی تنظیموں یا مستحق افراد کو شرعی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دے دے۔

5-ادارہ کو اس بات کی اجازت ہے کہ اگر کسٹمر کسی بھی وجہ سے مقررہ وقت تک گوشت لینے نہ آسکے تو وہ اس کے گوشت کو مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔

عمومی شرائط و ضوابط

اپنے آرڈر کی بکنگ کرانے کے ساتھ ہی کسٹمر ادارہ کے ساتھ اس ایگریمنٹ میں شامل ہو جائے گا۔ ہر فرد کی قربانی کا گوشت اس کے لیے علیحدہ ر کھا جائے گا اور رسید میں ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔ بکنگ کے وقت جاری کی جانے والی رسید کی حفاظت کسٹمر کی ذمہ داری ہے، اور قربانی کے گوشت کی فراہمی اسی رسید پر ہوگی۔

قیمت اور چار جز

بکنگ کے وقت ادا شدہ قیمت کی درج ذیل چار جزء شامل ہیں :

(1) 60 فیصد رقم جانور کی خریداری کی قیمت

(2) 05 فیصد رقم خریداری سروس کی فراہمی کے لیے

(3) 15 فیصد رقم جانور کی جانچ پڑتال، دیکھ بھال اور ترسیل کے لیے

(4) 20 فیصد رقم قربانی، گوشت بنوائی اور فراہمی کے

سوال:

ایک ادارہ اجتماعی قربانی کرتا ہے جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ادارہ اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والے شرکاء سے بکنگ کی مد میں رقم وصول کرتا ہے اور بکنگ کے وقت شرکاء سے ایک معاہدہ نامہ ( قربانی ایگریمنٹ) پر دستخط (سائن) کرواتا ہے۔ جس میں ادارہ کی طرف سے دی جانے والی سروسز ، شرائط ، اور قیمت کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ منسلکہ معاہدہ نامہ میں قیمت اور چار جز کے عنوان سے درج تفصیل کے مطابق موصول شدہ رقم کو تقسیم کیا جاتا ہے۔

اگر ادارہ مقررہ قیمت سے کم میں جانور خریدنے میں کامیاب ہو جائے تو بچ جانے والی رقم ادارہ بطورِ انعام(Performance Incentive)  رکھ لیتا ہے۔ جیسا کہ قربانی معاہدہ میں خریداری سروس کے عنوان کی شق نمبر 6 میں مذکور ہے۔

بکنگ مکمل کرنے کے بعد ادارہ جانور کی خریداری کرتا ہے ، اس کے بعد کسٹمر کی طرف سے جانور کی تعیین اور اس پر قبضہ قربانی سے کچھ وقت قبل ادارہ کی طرف سے نیابتًا کیا جاتا ہے۔ قربانی کے بعد ہر کسٹمر کے حصہ کے بقدر اس کو گوشت بھیج دیا جاتا ہے۔ 

سوال یہ کہ:

1- کیا منسلکہ معاہدہ نامہ کی تمام شقیں شرعی اعتبار سے درست ہیں ؟

2 -منسلکہ معاہدہ نامہ میں مذکور خریداری سروس کے عنوان کی شق نمبر 6 کے مطابق زائد رقم بطورِ انعام(Performance Incentive)  ادارہ کا خود ر کھ لینے کا شرعا کیا حکم ہے ؟

وضاحت:ادارے کی انتظامیہ کسٹمر کی طرف سے جانور قبضے میں لیتی ہے، اور ذبح سے پہلے جانوروں کی تعیین کی جاتی ہے کہ یہ جانور فلاں سات کسٹمر کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاہدہ نامے کی تین شق قابلِ اصلاح ہیں:

1-”ادارہ اس بات کا پابند ہے کہ مذکورہ معاہدہ میں طے کی گئی قیمت کے اندر اندر ہی جانور کی خریداری کرے۔ اگر ادارہ مطلوبہ معیار کا جانور مذکورہ قیمت سے کم میں خریدنے میں کامیاب ہو گیا تو ادارہ بطورِ انعام(Performance Incentive) اس زائد رقم کا حق دار ہوگا“۔

یہ شق درست نہیں، بلکہ بچ جانے والی رقم حصہ داروں کی ملکیت ہے، اس رقم کو ان کی اجازت کے بغیر اپنے پاس رکھنا ناجائز ہے۔ لہٰذا بچ جانے والی رقم ان کے علم میں لانا ضروری ہے، اس کے بعد اگر وہ خود خوش دلی سے باقی بچ جانے والی رقم ادارے کو عطیہ کر دیں تو اس صورت میں اس رقم کا لینا درست ہوگا، لیکن صرف ابتدائی اجازت کافی نہیں ہوگی۔

2-”ادارہ کو اس بات کی اجازت ہے کہ اگر کسٹمر کسی بھی وجہ سے مقررہ وقت تک گوشت لینے نہ آسکے تو وہ اس کے گوشت کو مستحق افراد میں تقسیم کر دے۔“

یہ شق بھی درست نہیں، بلکہ جس حصہ دار نے گوشت صدقہ کرنا ہو، اس سے باقاعدہ اجازت لینا ضروری ہے، چاہے یہ اجازت پہلے سے لی جائے یا عین وقت پر حصہ دار سے اجازت حاصل کی جائے۔

3-”بکنگ کے وقت ادا شدہ قیمت کی درج ذیل چار اجزاء شامل ہیں :(1) 60 فیصد رقم جانور کی خریداری کی قیمت، (2) 05 فیصد رقم خریداری سروس کی فراہمی کے لیے، (3) 15 فیصد رقم جانور کی جانچ پڑتال، دیکھ بھال اور ترسیل کے لیے، (4) 20 فیصد رقم قربانی، گوشت بنوائی اور فراہمی کے”۔

اداشدہ قیمت کو پہلے سے اس طرح چار حصوں میں تقسیم کرنا درست نہیں، بلکہ جانور خریدنے کے بعد جو حقیقی قیمت ہو، اسی کا اعتبار کیا جائے۔خریداری کی سروس فیصد کے اعتبار سے درست نہیں، بلکہ اسے پہلے سے متعین کرنا ضروی ہے، مثلاً پانچ ہزار روپے۔جانور کی جانچ پڑتال، دیکھ بال، ترسیل اور گوشت بنوائی و فراہمی کے لیے پہلے سے فیصد طے کرنا درست نہیں، بلکہ کام مکمل ہونے کے بعد جو خرچ آئے، اسی کا اعتبار ہوگا۔ان سب مصارف کے بعد جو رقم بچ جائے، وہ حصہ داروں کو واپس کرنا ضروری ہے۔

معاہدہ نامے کے باقی مندرجات پر اگر کسٹمر راضی ہو اور وہ مذکورہ تمام اختیارات کی اجازت دے کر دستخط کر دے، تو مذکورہ طریقے کے مطابق حصہ داروں کی طرف سے کی گئی قربانی اور اس کی تقسیم درست ہوگی۔

سنن الترمذی میں ہے:

"حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني ، عن أبيه ، عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ... والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما."

ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ... "مسلمان اپنی باہمی شرطوں کے پابند ہوں گے، سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔“

 (‌‌أبواب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلح بين الناس، ج:3، ص:626، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى)

کنز العمال میں ہے:

"لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."

”(ترجمہ) کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر  حلال نہیں“۔

(حرف الهمزة، ‌‌الكتاب الأول من حرف الهمزة، ‌‌الباب الأول، ‌‌الفصل الرابع، الفرع الثاني،1/ 92، ط:مؤسسة الرسالة)

بدائع الصنائع میں ہے:

(ومنها) إذن صاحب الأضحية بالذبح إما نصا أو دلالة إذا كان الذابح غيره، فإن لم يوجد لا يجوز؛ لأن الأصل فيما يعمله الإنسان أن يقع للعامل، وإنما يقع لغيره بإذنه وأمره فإذا لم يوجد لا يقع له."

(كتاب التضحية، فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية، ج:5، ص:72، ط: دار الكتب العلمية )

درر الحکام في شرح مجلة الأحکام میں ہے:

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعاً. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل." 

(الکتاب الحادي عشر الوکالة، الباب الثالث، الفصل االأول، المادة:1467، ج:3، ص:573، ط:دارالجیل)

فتاوی شامي ميں ہے :

"ويقسم اللحم وزنالا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد)صرفا للجنس لخلاف جنسه.

(قوله ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لا تشترط لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت. وفي فتاوى الخلاصة والفيض: تعليق القسمة على إرادتهم، وهو يؤيد ما سبق غير أنه إذا كان فيهم فقير والباقي أغنياء يتعين عليه أخذ نصيبه ليتصدق به اهـ ط. وحاصله أن المراد بيان شرط القسمة إن فعلت لا أنها شرط، لكن في استثنائه الفقير نظر إذ لا يتعين عليه التصدق كما يأتي، نعم الناذر يتعين عليه فافهم (قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفةوأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة خلافا لما بحثه في الشرنبلاليةمن أنه فيه بمعنى لا يصح ولا حرمة فيه." 

(کتاب الاضحیة، ج:6، ص:317، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

"(فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه).

(قوله تصدق بثمنه) أي وبالدراهم فيما لو أبدله بها."

(ج:6، ص:328، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

"وشرطها: كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

(قوله ‌كون ‌الأجرة ‌والمنفعة ‌معلومتين) أما الأول فكقوله بكذا دراهم أو دنانير."

(كتاب الاجارة، ج:6، ص:5، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"امرأة قالت لزوجها المريض: إن ‌مت من مرضك هذا فأنت في حل من مهري، أو قالت: فمهري عليك ‌صدقة فهو باطل؛ لأنها مخاطرة وتعليق، كذا في الظهيرية."

(کتاب الھبة، ج:4، ص:398، ط:دار الفکر)

تبیین الحقائق میں ہے:

"والتمليك ‌لا ‌يقبل ‌التعليق بالشرط".

(کتاب الکفالة، ج:4، ص:158، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں