بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اجتماعات میں خواص اور عوام کے درمیان کھانا کھلانے میں تفریق کرنے کا حکم


سوال

ہمارے مدارس میں پروگرام یا اجتماعات کے موقع پر یہ معمول دیکھا جاتا ہے کہ عام عوام کو صرف سادہ کھانا (مثلاً صرف چاول) دیا جاتا ہے، جبکہ علماء کرام کے لیے الگ اور خاص کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ

 1. کیا اس طرح کھانے میں فرق کرنا شرعاً درست ہے؟

2. اگر یہی کام عام لوگ شادی یا ولیمے میں کریں، یعنی کچھ مہمانوں کو سادہ کھانا دیں اور کچھ کو خاص، تو اس کو اکثر حرام اور ناجائز کہا جاتا ہے۔ تو کیا یہ دونوں صورتیں ایک ہی حکم رکھتی ہیں یا الگ الگ ہیں؟ 3 شرعی اصول کی روشنی میں عوام اور علماء کے کھانے میں اس طرح امتیازی سلوک درست ہے یا نہیں؟

جواب

(1) صورتِ مسئولہ میں اگر مہمانوں کو کھانا مدرسہ کے عام چندے سے کھلایا جاتا ہے، تو یہ کھانا کھلانا شرعاً جائز نہیں۔ ہاں، اگر چندہ دہندگان کی اجازت سے کھانا کھلایا جائے، یا کوئی شخص اپنی ذاتی رقم سے مہمانوں کو کھانا کھلائے، یا پروگرام میں شریک لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے چندہ کیا جائے تو اس صورت میں ایک ہی دسترخوان پر اس طرح کی تفریق مناسب نہیں کہ بعض مہمانوں کے لیے خاص کھانا ہو اور بعض کے لیے عام۔  البتہ اگر اس طرح ہو کہ علماء کرام کے لیے ایک خاص جگہ مقرر ہو اور عام عوام کے لیے علیحدہ جگہ ہو، تو ایسی صورت میں کھانے کی نوعیت میں فرق (علماء کے لیے خاص اور عوام کے لیے عام کھانا) شرعاً درست ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

(2) ولیمے یا دیگر پروگراموں میں خواص و عوام کے درمیان کھانے میں تفریق کو حرام یا ناجائز کہنا درست نہیں، اس لیے کہ حدیث میں ہے:  

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک سائل آیا، تو آپؓ نے اسے ایک ٹکڑا روٹی کا دیا۔ پھر ایک اور شخص آیا جس کے لباس اور حالت بہتر تھی، تو آپؓ نے اسے بٹھایا اور وہ بیٹھ کر کھانے لگا۔  

کسی نے سوال کیا (کہ دونوں کے ساتھ فرق کیوں کیا؟) تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ"  یعنی "لوگوں کو ان کے مرتبے کے مطابق مقام دو"۔

لہٰذا کسی ولیمے یا تقریب میں الگ الگ مقامات پر  ذی شرف لوگوں کو خاص کھانا اور عام افراد کو سادہ کھانا کھلانا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔

لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أنزلوا الناس منازلهم". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

(عائشة) قوله: (‌أنزلوا الناس منازلهم) أي: أكرموا كل شخص على حسب فضله وشرفه، ولا تسووا بين الوضيع والشريف والخادم والمخدوم من غير تحقير للفقراء بما يؤذيهم.

روي عن عائشة رضي الله عنها كانت جالسة وعندها طعام كل منه، فإذا فقير سأل، فأرسلت عليه كسرة من خبز، ثم مرّ بها راكب فأرسلت إليه أن الطعام حاضر فأت إن كانت لك رغبة، قيل لها: ما هذا التفاوت بين المؤمنين؟ فقالت: سمعت رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم يقول: (‌أنزلوا الناس منازلهم)."

(کتاب الآداب،باب الشفقة والرحمة على الخلق، ج:8، ص:264، ط:دار النوادر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

عام دعوت میں ایک دسترخوان پر یہ تفریق مناسب طریقہ نہیں ہے،دسترخوان اگر جدا گانہ ہومثلا:ایک کمرے میں مخصوص لوگوں کو بلا کرعلیحدہ  مخصوص کھانا دیا جائے،اور عام دستر خوان پر دوسری قسم کا کھانا ہو،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے یہ ثابت ہے۔

(کتاب الحظر والاباحت، باب الضیافات والھدایا، ج:24، ص:172، ط:ادارہ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100694

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں