بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں حرام آمدنی والے شخص کا شریک ہونا


سوال

اگر اجتماعی قربانی میں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ ایک حصّہ حرام کی کمائی کرنے والے کا ہے تو کیا سب کی قربانی جائز ہوگی؟

جواب

گر اجتماعی قربانی میں کسی ایک  شریک کی آمدنی حرام کی ہو اور واقعتًا  اس نے قربانی میں حرام مال سے ہی شرکت کی ہو   اور اس کا علم منتظمین اور دیگر شرکاء کو ہو تو  ایسی صورت میں باقی شرکاء کی قربانی بھی نہیں ہوگی۔ لیکن اگر دیگر شرکاء اور منتظمین کو اس کی حرام آمدن کا واقعتًا علم نہ ہو تو دیگر لوگوں کی قربانی ادا ہوجائے گی۔

مسلمان کی آمدن کی تفتیش یا تجسس کا دوسروں کو حکم نہیں ہے، ہاں اگر کسی شخص کی آمدن کے بارے میں حرام ہونے کا علم  ہو تو صرف حلال آمدن سے ہی اسے اجتماعی شریک کرنا جائز ہوگا، یا کسی کی آمدن کے بارے میں شک ہو اور اس پر کوئی دلیل بھی ہو تو تحقیق کرنا ضروری ہوگا؛ اس لیے اجتماعی قربانی کے منتظمین کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ بکنگ کی جگہ پر واضح الفاظ میں یہ تحریر آویزاں کردیں کہ اجتماعی قربانی میں صرف حلال آمدن سے شرکت کیجیے، یا اس طرح کے دیگر جملے  لکھ دیں، جن سے شرکاء کو علم ہوجائے کہ حرام رقم سے شرکت منع ہے، اس کے بعد اگر کسی شریک کے بارے میں تحقیق نہ ہو تو دیگر شرکاء کی قربانی درست سمجھی جائے گی۔

الفتاوى الهندية  میں ہے:

" وإن كان كل واحد منهم صبياً أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانياً ونحو ذلك لايجوز للآخرين أيضاً، كذا في السراجية. ولو كان أحد الشركاء ذمياً كتابياً أو غير كتابي وهو يريد اللحم أو يريد القربة في دينه لم يجزئهم عندنا؛ لأن الكافر لايتحقق منه القربة، فكانت نيته ملحقةً بالعدم، فكأنه يريد اللحم، والمسلم لو أراد اللحم لايجوز عندنا."(5/ 304).

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں