بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

احسان کرنے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا


سوال

ایک کمپنی ہر سال کچھ ملازمین حج پر بھیجتی ہے، جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ کمپنی میں جو ملازم پہلے بھرتی ہو چکاہوتا ہے، اس کو پہلے بھیجا جاتا ہے، اور جو بعد میں بھرتی ہوتا ہے، اس کو ترتیب کے مطابق بعد میں بھیجا جاتا ہے، یہاں کمپنی میں ایک ملازم ہے، جو بعد میں آیا ہے، مگر و ہ بڑے عہدے پر ہے ، یہ اس ملازم سے پہلے حج پر جانا چاہتا ہے، جو کافی پہلے آیا(پہلے آنے والے ملازم کے پاس نسبتاً چھوٹا عہدہ ہے) ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا بڑے عہدے والے  ملازم (جو کمپنی میں بہت بعد میں آیا ہے) کے لیے اس طرح کرنا جائز ہے؟ کیا اسے حج کا ثواب ملے گا؟

وضاحت:  کمپنی کا مالک ہی ملازمین کو حج پر بھیجتا ہے، اور یہ ملازمین کے ساتھ وعدہ کر کے ترتیب بھی  نہیں بنائی ہوئی کہ اگلے سال آپ کا نمبر ہے، بس کئی سالوں سے یہ ترتیب چل رہی ہے کہ پرانا ملازم پہلے جاتاہے۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کے مالک کا ہر سال ملازمین کو حج پر بھیجنا اس کی طرف سے تبرع و احسان ہے، اور احسان کرنے میں کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا، کمپنی کا  مالک کسی  بھی ملازم کو اگر اپنی مرضی سےحج پر بھیجنا چاہے تو بھیج سکتا ہے، اسے اس بات کا اختیار ہے، البتہ اس کو چاہیے کہ سالہاسال جب ایک ترتیب چل رہی ہے کہ پہلے پرانے ملازم کو بھیجا جاتا ہے، تو اسی ترتیب سے ملازمین کو حج پر بھیجے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

تاہم اگر کمپنی کا مالک اگر بڑے عہدے والے نئے ملازم کو پرانے ملازم سے پہلے حج پر بھیج دے گا، تو اس کا حج ادا ہو جائے گا، اور اسےاس پر  ثواب بھی ملے گا ۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

"لا ‌جبر ‌في ‌التبرع ." (‌‌کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، ج:5،ص: 158، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101387

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں