
اگر عمرہ کرنے کے لیے جائے ، اور عمرے کے دوران نیت کرنے کے بعد منہ پر نقاب آ جائے یا کوئی کپڑا وغیرہ لگ جائے تو اس سے عمرہ ہوگا یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر حالتِ احرام میں غلطی سےنقاب چہرے پر آجائےیا دوپٹہ پہنتے ہوئے یا اتارتے ہوئے کپڑا چہرے پر لگ جائے اور اسے فوراً ہٹادیا جائے تو اس صورت میں کوئی دم یا صدقہ لازم نہیں آئے گا، البتہ اگر پورے دن یا پوری رات اس سے زائد وقت کے لیے کپڑا چہرے پر لگا رہا یا نقاب لگا رہا تو دم دینا لازم ہوگا، اور اگر اس سے کم وقت تک کپڑا چہرے پر رہا تو صدقۂ فطر کی مقدار کے برابر صدقہ دینا لازم ہوگا۔
الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:
"وأجاز الشافعية والحنفية ذلك بوجود حاجز عن الوجه فقالوا: للمرأة أن تسدل على وجهها ثوباً متجافياً عنه بخشبة ونحوها، سواء فعلته لحاجة من حر أو برد أو خوف فتنة ونحوها، أو لغير حاجة، فإن وقعت الخشبة فأصاب الثوب وجهها بغير اختيارها ورفعته في الحال، فلا فدية. وإن كان عمداً وقعت بغير اختيارها فاستدامت، لزمتها الفدية".
(الباب الخامس: الحج والعمرة، المبحث العاشر ـ محظورات الإحرام أو ممنوعاته، ومباحاته، ج:3، ص:2295، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100984
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن