
احرام کی حالت میں اگر حاجی نے ایک یا دو گھنٹہ کے لیے سلا ہوا کپڑا متعدد بار پہنا یا مثلا ماسک وغیرہ پہنا اور وہ متفرق اتنا ہوگیا کہ اس جمع کیا جائے تو مجموعی طور پر بارہ گھنٹے ہوجاتے ہیں تو کیا اس صورت میں دم لازم آئے گا یا نہیں؟
مرد کے لیے احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا استعمال کرنا یا سرڈھانپنا، اور مرد اور عورت دونوں کے لیے چہرہ کو کسی چادر یا ماسک وغیرہ سے ڈھانپنا منع ہے، یہ احرام کے ممنوعات میں سے ہے، کسی عذر کے بغیر ایسا کرنا گناہ ہے، اگر کسی نے عذر یا بغیر عذر کے ایسا کرلیا تو ایسی صورت میں دم یا صدقہ واجب ہونے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ چیزیں مسلسل بارہ گھنٹے یا اس سے زائد پہن کر رکھی تو دم لازم آئے گا اور بارہ گھنٹے سے کم استعمال کرنے کی صورت میں صدقہ لازم آئے گا، اور اگر احرام کی حالت میں ان چیزوں کا استعمال متفرق اوقات میں کیا، لیکن مسلسل بارہ گھنٹے تک استعمال نہیں کیا تو ایسی صورت میں اگر یہ مجموعی لحاظ سے بارہ گھنٹے سے زائد بھی ہوجائے تب بھی صدقہ ہی لازم آئے گا، دم اس وقت لازم آتا ہے جب بارہ گھنٹے مسلسل سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوں یا چہرہ ڈھانپا ہو وغیرہ ، تاہم عذر کے بغیر ایسا کرنا گناہ ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"فالمحرم لايلبس المخيط جملة".
(كتاب الحج ،فصل محظورات الإحرام، 2/ 183، ط:رشيدية)
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"(الواجب دم على محرم بالغ) ... (أو لبس مخيطاً) لبساً معتاداً، ولو اتزره أو وضعه على كتفيه لا شيء عليه (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوماً كاملاً) أو ليلةً كاملةً، وفي الأقل صدقة (والزائد) على اليوم (كاليوم).
(قوله: يوماً كاملاً أو ليلةً) الظاهر أن المراد مقدار أحدهما، فلو لبس من نصف النهار إلى نصف الليل من غير انفصال أو بالعكس لزمه دم، كما يشير إليه قوله: وفي الأقل صدقة، شرح اللباب. (قوله: وفي الأقل صدقة) أي نصف صاع من بر."
(کتاب الحج،باب الجنایات فی الحج،2/ 547، ط: سعید)
غنية الناسك میں ہے:
"و أما تعصيب الرأس و الوجه فمكروه مطلقاً، موجب للجزاء بعذر أو بغير عذر، للتغليظ إلا ان صاحب العذر غير آثم".
(غنية الناسك: باب الإحرام، فصل في مكروهات الإحرام، ص:91، ط: إدارة القرآن)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100441
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن