بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

احرام کی چادر کو بار بار سیٹ کرنے کی مشقت سے بچنے کے لیے لاسٹک والا احرام استعمال کرنے کا حکم


سوال

میرا عید کے بعد عمرے پر جانے کا ارادہ ہے، میں شوگر کا مریض ہوں اور مجھے بار بار واش روم جانا پڑتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا میں لاسٹک والا احرام استعمال کرسکتا ہوں ؟ تاکہ بار بار اسے سیٹ کرنے سے بچ جاؤں۔

جواب

 اِحرام کی حالت چوں کہ عام اَحوال سے مختلف ہوتی ہے،بسا اوقات اِحرام کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے مشقت لاحق ہوسکتی ہے، اس پربھی یقینًا اجر و ثواب  ہے۔ اس لیے لاسٹک کے بغیر  ہی احرام باندھنا چاہیے، لیکن اگر عذر ہے تو  لاسٹک والا احرام پہننے کی بلا کراہت اجازت ہے۔

امداد الفتاویٰ میں ہے:

"سوال: احرام باندھنے میں سیاہ کپڑا یا گیرو سے رنگاہوا کپڑا یا کسی دوسرے چیز سے رنگا ہوا پہننا جس میں کوئی خوشبو نہ ہو جائز ہے یا نہیں؟

دوسرے کوئی ازار یا چادر جو کہ کم عرض ہونے کی وجہ سے دو پاٹ کرکے پہن لی جاوے اسی حالت میں احرام میں تو اس واسطے کیا حکم ہے؟

الجواب:في الدر المختار، باب الإحرام:

(‌و لبس إزار)... (و رداء) ...(جديدين أو غسيلين طاهرين) أبيضين ككفن الكفاية، و هذا بيان السنة الخ

في رد المحتار:

(قوله: و هذا) أي لبس الإزار و الرداء على هذه الصفة بيان للسنة و إلا فساتر العورة كاف فيجوز في ثوب واحد و أكثر من ثوبين و في أسودين أو قطع خرق مخيطة أي المسماة مرقعة و الأفضل أن لايكون فيها خياطة لباب.

اس سے معلوم ہو ا کہ سفید ہونا جامۂ احرام کا مستحب ہے، ورنہ سیاہ وغیرہ بھی جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہےاور یہ بھی معلوم ہوا کہ گو افضل یہی ہے کہ اس میں بالکل سلائی نہ ہو، لیکن اگر دونوں پاٹوں کے جوڑنے کو سلائی کی جاوے تب بھی جائز ہے۔"

( باب الاحرام، ج:2، ص:195، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100913

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں