
احرام کی چادروں پر پیکو یا اوور لاک کروائیں تاکہ چادر سے نکلنے والے دھاگے کسی بھی پریشانی کا باعث نہ ہوں اور چادر کا دھاگہ بھی ضائع نہ ہو کہ اسراف ہو۔
صورتِ مسئولہ میں بہتر یہی ہے کہ احرام کی چادر پر کسی قسم کی سلائی نہ ہو ، البتہ اگر چادر کے کنارے سے دھاگے نکلتے ہوں تو کناروں کی سلائی کر دینے سے کوئی جزاء لازم نہ ہوگی۔
البحر الرائق میں ہے:
"وكذا لو أدخل منكبيه في القباء، ولم يدخل يديه في الكمين، ولم يزره لعدم الاشتمال أما إذا أدخل يديه أو زره فهو لبس المخيط لوجودهما بخلاف الرداء فإنه إذا اتزر به لا ينبغي أن يعقده بحبل أو غيره، ومع هذا لو فعل لا شيء عليه؛ لأنه لم يلبسه لبس المخيط لعدم الاشتمال".
(كتاب الحج، باب الجنايات في الحج، 3/ 7، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإن زر القباء أو الطيلسان يوما لزمه دم بخلاف ما لو عقد الرداء أو شد الإزار بحبل يوما كره له ذلك ولا شيء عليه كذا في فتح القدير".
(كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الثاني في اللبس، 1/ 242، ط: رشيدية)
محیطِ برہانی میں ہے:
"ويكره له أن يزر ليس أن يعقده على إزاره بحبل أو نحوه؛ لأنه لا يحتاج في حفظه إلى تكلف".
(كتاب المناسك،الفصل الخامس: فيما يحرم على المحرم بسبب إحرامه وما لا يحرم، 2/ 446، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101154
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن