
ہمارے معاشرے میں پاک دامنی کو صرف عورت کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے، جبکہ مردوں کو گویا ہر بات کی آزادی ہو، نیز عورت کا اسے کچھ کہنے کا حق بھی نہیں سمجھا جاتا ،اس بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟
دینِ اسلام عفت و پاکدامنی کادرس دیتا ہے کہ ہر خاص و عام خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ مکمل طور پر پاکدامنی اختیار کرے،تاکہ معاشرہ میں صلاح و فلاح کی راہیں ہموار ہوں،یہی وجہ ہے کہ جو معاشرہ جتنا پاکدامنی سے دور ہوتا ہے ،اتنا ہی وہ معاشرہ بد امنی و بے چینی کا شکار ہوتا ہے،چنانچہ قرآن کریم جہاں عورتوں کو نظریں جھکانے ،اور اپنی عفت کی حفاظت کادرس دیتا ہے،اس کے ساتھ ہی مردوں کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ اپنی نظروں کو جھکائیں اور پاکدامنی اختیار کریں،لہذا عفت و پاکدامنی کے حکم سے کوئی عام و خاص مرد وزن کا استثناء نہیں ہے،آپ ﷺ کا معمول جن دعاؤں کا تھا ان میں ایسی دعائیں بھی شامل ہیں جن میں اللہ تعالی سے عفت و پاکدامنی کا سوال ہے،لہذا اس پر فتن دور میں اس دعا کا اہتمام نہایت ہی ضروری ہے،دعا یہ ہے:"اللهم إني أسألك الهدى والتقى، والعفاف والغنى".
اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے:
﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ...الخ﴾(سورة النور ، الآية:30،31)
ترجمہ: آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے ،بےشک الله تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیئے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
السنن الکبری للبیہقی میں ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الحياء العفاف، والعي عي اللسان، لا عي القلب، والعمل من الإيمان، وإنهن يزدن في الآخرة، وينقصن من الدنيا، وما يزدن في الآخرة أكثر مما يزدن في الدنيا ".
(باب بيان مكارم الأخلاق،ج:10،ص:328،رقم الحديث:20808،ط:دار الكتب العلمية)
ترجمہ:بیشک حیا، عفت (پاکدامنی) ہے، اور عی (عجز بیان یا جھجک) زبان کا عیب ہے، دل کا نہیں ہے،اور عمل ایمان کا حصہ ہے،یہ چیزیں آخرت میں اضافہ کرتی ہیں، اور دنیا میں کمی کرتی ہیں، اور جو اضافہ آخرت میں ہوتا ہے، وہ دنیا کی کمی سے زیادہ ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يقول: اللهم إني أسألك الهدى والتقى، والعفاف والغنى" .
(كتاب الذکر والدعاء،باب التعوذ من شر ما عمل، ومن شر ما لم يعمل،ج:8،ص:81،رقم الحديث:2721،ط:دار الطباعة العامرة)
فقط والله اعلم.
فتویٰ نمبر : 144611101046
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن