
ایصال ثواب کے لیے کسی سے قران پڑھانا کیا یہ صحیح ہے ؟ حدیث وغیرہ میں ایسا کچھ ہے کیا ؟
واضح رہے کہ جمہور علمائے اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک قرآنِ مجید پڑھ کر میت کو ایصالِ ثواب کرنا جائز اور درست ہے۔ ذخیرۂ احادیث میں متعدد روایات موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اعمالِ خیر کا ثواب میت تک پہنچتا ہے اور پہنچایا جا سکتا ہے، اور اعمالِ خیر میں تلاوتِ قرآن بھی شامل ہے۔
چناں چہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اقرءوا يس على موتاكم" یعنی: "اپنے مرحومین پر سورہ یٰسین پڑھا کرو" (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)۔
اسی طرح میت کے ایصالِ ثواب کے لیے کسی سے قرآن مجید پڑھوانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور صحیح قول کے مطابق اس کا اجر میت کو پہنچتا ہے اور اسے فائدہ دیتا ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو مات رجل وأجلس وارثه على قبره من يقرأ الأصح أنه لا يكره وهو قول محمد - رحمه الله تعالى - كذا في المضمرات."
(کتاب الکراھیۃ، الباب السادس عشر، ج:5، ص:350، ط:دار الفکر بیروت)
المحیط البرھانی میں ہے:
"«رجل مات وأجلس ولداه على قبره رجلاً يقرأ القرآن؟ تكلموا فيه؛ بعضهم قالوا: يكره، وبعضهم قالوا: لا يكره، والمسألة في الحقيقة بناءاً على أن قراءة القرآن في المقبرة هل تكره؟ والمختار أنه لا تكره، وهل ينفع الميت؟ تكلموا فيه، والأشبه أنه ينفع؛ لأن الأخبار وردت بقراءة آية الكرسي، وسورة الفاتحة، وسورة الإخلاص وغير ذلك، وحكي عن الفقيه أبي بكر الفياض أنه أوصى موصى عند موته بذلك."
(کتاب الاستحسان والکراھیۃ، ج:5، ص:400، ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن معقل بن يسار، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: اقرءوا يٰس على موتاكم ."
(كتاب الجنائز، باب القرأة عند الميت، رقم الحديث:3121، ج:3، ص:191، ط:المكتبة العصرية بيروت)
شرح الصدور للسیوطی میں ہے:
"عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من دخل المقابر فقرأ سورة يس خفف الله عنهم وكان له بعدد من فيها حسنات."
(شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور، ص:303، ط:دار المعرفة)
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص قبرستان میں داخل ہو اور سورہ یٰسین پڑھ لے، اللہ تعالیٰ ان (قبر والوں) پر تخفیف فرماتا ہے اور پڑھنے والے کو وہاں موجود افراد کی تعداد کے برابر نیکیاں عطا فرماتا ہے۔"
شعب الإيمان للبيهقي میں ہے:
"عن عبد العزيز بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من حج عن والديه بعد وفاتهما كتب له عتق من النار، وكان للمحجوج عنهما أجر حجة تامة من غير أن ينقص من أجورهما شيئ ".
( شعب الإیمان ،باب بر الوالدين، ج:10 ، ص:304ط: دارالکتب العلمیة، بیروت)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے حج کرتا ہے، تو اس کے لیے جہنم سے خلاصی لکھ دی جاتی ہے، اور جن دونوں (والدین) کی طرف سے حج کیا گیا ہے انہیں کامل حج کا ثواب ملتا ہے۔ نہ حج کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی کی جاتی ہے اور نہ ہی جن کی طرف سے حج کیا گیا ہے ان کے اجر میں کوئی کمی کی جاتی ہے۔"
مجمع الزوائد میں ہے:
"وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إذا تصدق بصدقة تطوعاً أن یجعلها عن أبویه فیکون لهما أجرها، ولاینتقص من أجره شیئاً". رواه الطبراني في الأوسط. وفیه خارجة بن مصعب الضبي وهو ضعیف".
(مجمع الزوائد، باب الصدقة علی المیت، ج:3، ص:138، ط: دار الكتب العلمية بيرت)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب کوئی شخص نفلی صدقہ کرے اور اسے اپنے والدین کی طرف منسوب کرے، تو اس کا اجر والدین کو بھی ملے گا، اور صدقہ کرنے والے کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔"
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102139
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن