بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایجاب وقبول کے بعد بائع یکطرفہ سودا فسخ کرنا جائز نہیں


سوال

میں نے ایک مکان کا سودا کیا تھا 60 لاکھ روپے میں اور چھ مہینے کے ٹائم پر،  ہر مہینے 10 لاکھ روپے دینے تھے اس کے بعد مالک مکان نے کہا کہ جب تک آپ پیمنٹ نہیں دیتے یعنی چھ مہینے تک 20 ہزار روپے کے حساب سے آپ کرایہ بھی دیں گے اور دوسرا یہ ہے کہ بڑی مشکل سے پھر ایک لاکھ روپے پر ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک لاکھ روپے میں چھ مہینہ کرایہ دوں گا تو یہ ہوگا 61 لاکھ روپے۔

اس کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ یعنی اس میں ایک اور مسئلہ یہ آیا کہ کاغذات میں مسئلہ تھا جب ہماری بات ہو رہی تھی اس ٹائم تک ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا اور اس کے بعد پھر ہم نے 25 سے 30 لاکھ روپے دینے کے بعد یعنی جب سب باتیں ہونے کے بعد میں نے وہ مکان بہت خستہ حالت میں تھا تو گرا دیا، گرانے کے بعد پیمنٹ دینے میں تھوڑا سا ڈیلے ہو گئے یعنی ہم نے  ابھی 50 لاکھ روپے دے دیے ہیں 15، 16 مہینوں میں تو اس کے بعد ابھی وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ مجھے ماہانہ ریٹ میں دو گے یعنی جو 15 مہینے کا کرایہ بنتا ہے جو کہ میرے حساب سے ناجائز ہے، اسی طرح اب انہوں نے پھر کہا تھا کہ آپ پوری پیمنٹ کرو ورنہ سودا کینسل ہے تو ہم نے کہا کہ کاغذات کلیئر کر دیں اگر کاغذات آپ کلیئر نہیں کریں گے تو پوری پیمنٹ میں کیسے کروں؟ تو وہ کہہ رہے ہیں پھر سودا کینسل میں اس کا مالک ہوں اور میں بیچنا نہیں چاہ رہا ہوں آپ نے جو مکان گرایا ہے اس کے حساب سے آپ کے پیسے کٹیں گے یا پھر ایسی حالت میں مکان بنا کے دو جو نا ممکن ہے، ایک اور بات یہ بھی تھی کہ کاغذات میں جو بھی خرچ ہوگا وہ آدھا آدھا ہوگا جب کہ  صرف ٹرانسفر میرے حصے میں آنا تھا، لیکن اس بات پر بھی میں نے ان سے ہاں کر لی کہ چلو ٹھیک ہے لیکن پھر بعد میں یہ بات ہوئی کہ کاغذات کے پورے پیسے آپ لوگوں کو دینے ہوں گے اور ہم یہ پیسے ایک سال بعد آپ کو ریٹرن کریں گے، پھر مالک مکان نے اپنے بھانجے کو بلایا اور کہا کہ بھئی 10 تاریخ تک آپ اپنے پیسے پورے کلیئر کر دو ورنہ سودا کینسل اور بھانجے نے اس کو کہا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہے میں پانچ لاکھ روپے آپ کو دے دوں گا باقی ایک مہینے میں یا دو چار ہفتے میں آپ کو کر کے دے دوں گا جیسے ہی آپ کاغذات بنا کردیدو گے وہ میری ذمہ داری ہوگی میں سونا بیچوں یا کچھ بھی کروں ٹرانسفر ہونے سے پہلے آپ کو میں پیسے دوں گا اس کے بعد آپ انگوٹھا لگانا لیکن جب 11 تاریخ کو اس کا بھانجا وہاں گیا تو انہوں نے بول دیا کہ نہیں ہمیں پورا پیسہ دو، میں نے آپ کو 10 تاریخ کا ٹائم دیا تھا جو آپ 10 تاریخ کو آپ نہیں آئے تو سودا کینسل، میں اس کا مالک ہوں میں اب اس کو بیچنا نہیں چاہ رہا ہوں میرا ارادہ کینسل ہو گیا مکان بیچنے کا۔ اس میں ایک چیز واضح کر دوں جو مکان میں نے گرایا ہے وہ تقریبا 25 سے 30 لاکھ روپے دینے کے بعد گرایا ہے اور معاہدہ ہونے کے بعد 61 لاکھ روپے میں اس کے بعد گرایا ہے اب مالک مکان کہہ رہا ہے کہ جو مکان آپ نے گرایا ہے اس کے پیسے آپ کو بھرنے پڑیں گے اور میں چاہ رہا ہوں کہ یہ جو مکان ہے میں 10 لاکھ روپے ان کو دے دوں اور مکان اپنے نام کر دوں اور وہ کہہ رہے ہیں نہیں میں بیچنا نہیں چاہ رہا ہوں تو اس میں میرا کافی نقصان ہو رہا ہے . اس میں ایک اور چیز یہ ہے کہ میں نے ان کے بھانجے کے ساتھ اور بھانجے کی ذمہ داری کے اوپر یہ سودا کیا ہے سارے پیسے میں نے ان کے بھانجے کو دیے ہیں اور بھانجےنے اپنے ماموں اور ماموں کے لڑکوں کو پیسے دیے ہیں، اب جب اس میں مسئلہ آیا تو ان کے ماموں  بھانجے کو کہہ رہے ہیں کہ آپ سائیڈ پر ہو جائیں میں جانوں اور جس نے خریدا ہے وہ جانے تو اب ذمہ داری جو ہے اس کے بھانجے کی تھی اب وہ ہٹا رہے ہیں تو اس میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ فروختگی کے ایجاب وقبول ہوجانے کے بعد فروخت شدہ چیز/زمین پر خریدار کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے، جب کہ طے شدہ قیمت پر خریدار کا استحقاق ثابت ہوجاتا ہے، فروختگی کے بعد قیمت کی ادائیگی تک خریدار سے کرایہ کا مطالبہ کرنا ناجائز عمل ہے، اسی طرح سودا ہوجانے کے بعد فروخت کنندہ کے لیے یکطرفہ طور پر سودا ختم کرنے کا شرعاً اختیار نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ میں جب سودا  60 لاکھ روپے میں ہوگیا تھا، تو چھ ماہ کے کرایہ کا مطالبہ کرنا ہی فروخت کنندہ کے لیے ناجائز ہوگا، نیز سائل نے خریدے گئے گھر کو جو گرایا ہے،  اس کی بناء پر فروخت  کنندہ کی جانب سے ویسا ہی گھر تعمیر کرنے کا مطالبہ کرنا بھی جائز نہیں، یکطرفہ طور پر سودا کینسل کرنے کا دعویٰ شرعاً معتبر نہیں ہے، البتہ سائل پر لازم ہے وہ گھر کی مکمل قیمت مالک  مکان  کو حوالہ کرے، اور فروخت کنندہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکان کے کاغذات کلیئر کرواکر خریدار کے سپرد کر دے۔   

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا."

(كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنه وشرطه وحكمه وأنواعه، ج:3، ص:3، ط:رشيدية)

البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:

"وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية 

م: (وإذا حصل الإيجاب والقبول) ش: يعني عن الأصل مضافا إلى المحل مع شرط النفاذ وهو الملك أو الولاية م: (لزم البيع ولا خيار لواحد منهما) ش: أي لأحد المتعاقدين، وبه قال مالك. وفي " شرح الطحاوي " هذا في البيع الصحيح."

(كتاب البيوع، اركان البيع، ج:8، ص:11، ط:دار الكتب العلمية)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 278) في البيع بالثمن الحال أعني غير المؤجل للبائع أن يحبس المبيع إلى أن يؤدي المشتري جميع الثمن."

(‌‌الفصل الثاني: في المواد المتعلقة بحبس المبيع، ‌‌الباب الخامس: في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم والتسلم، الکتاب الأول في البیوع، ص:54، ط:نور محمد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102079

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں