بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1448ھ 22 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کی مدت


سوال

میرے داماد نے میری بیٹی کو تین جولائی بروز جمعرات کو وائس میسج پر تین بار یہ الفاظ کہہ دیے: طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔

گواہوں میں میں، بچی کی والدہ، بھائی اور خود بچی ہے، ہم سب نے یہ الفاظ بلند آواز میں غور سے سنے ہیں، شادی تقریبا 10 سے 12 دن رہی جب وہ چھوڑ کر گیا تھا، رخصتی 28 اپریل 2026 کو ہوئی تھی، آں جناب سے عرض ہے کہ  عدت کتنے دن کی ہوگی؟ اور ہم آئندہ نکاح کب کر سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے  داماد نے آپ کی بیٹی کو  واقعۃ تین مرتبہ "طلاق دیتا ہوں"  کہہ دیا ہے تو آپ کی بیٹی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو گیا، اب اگر آپ کی بیٹی  حاملہ نہیں تو اس کی عدت تین ماہ واریاں ہو گی، اور اگر حاملہ ہو تو عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہو گی، دونوں صورتوں میں عدت کی تکمیل پر آپ کی بیٹی دوسری جگہ  شادی کرنے میں آزاد ہو گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها."

( کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة ... ، ج:1، ص:473، ط: رشدیه)

تحفة الفقہاء میں ہے:

"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة ...وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن ."

(كتاب الطلاق، باب العدة، ج:2، ص:244، ط: دار الكتب العلمية،بيروت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101394

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں